بلاول بھٹو زرداری کی آج کی ڈپلومیثس ، صحافیوں ، سفیروں ، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو دی گئی دو گھٹنے کی تحویل بریفنگ کی کہانی منصور علی خان کی زبانی ۔
فیصلہ سازو اور طاقت ورو۔۔ خدا را پاکستان اور پاکستانیوں پر ترس کھاؤ۔بلوجستان جل رہا ہے۔خیبر پختون خواہ میں بے گناہ لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مر رہے ہیں۔ایک بات یاد رکھنا۔۔پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔۔
عاصم منیر نے سبھی ریٹائرڈ جرنیلوں کو اہم ملکی اداروں کا سربراہ لگایا ہوا ھے جو ڈالرز میں بھاری تنخواہ اور مراعات لی��ے ہیں۔
پی ٹی سی ایل کا چیئرمین ہر بورڈ میٹنگ کا 8 ہزار ڈالر وصول کرتا ھے، ہر ایک ڈائریکٹر 5 ہزار ڈالر اور ہر بورڈ ممبر 1 ہزار ڈالر لیتا ہے۔ چیئرمین کو ��وزانہ 25 ہزار اعزازیہ الگ سے بھی ملتا ہے اور اس کے ساتھ مفت بجلی، پٹرول، سرکاری گھر اور ایک 1300 گاڑی ڈرائیور سمیت شامل ھے
شاکر اعوان سے لیکر کالی چرن ، رضوان غجالی سے لیکر صدیق جان ، مقدس اعوان، گیلے تیتر اور دیگر راتب خوروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا کہ کراچی میں کروڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ۔
ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ دیئے لیکن جب کھودا پہاڑ تو چوہا نکل آیا
"کراچی سندھ کا دل ہے اور سندھیوں کی مہمان نوازی کی زندہ مثال کہ انہوں نے ہر رنگ و نسل کے انسان کو یہاں گلے لگایا۔ سہیل آفریدی کا یہ بیان تاریخ کی سچی عکاسی کرتا ہے۔🤝
@Parizaad_reborn سر تو فوج سویلین لیڈرشپ کی اطاعت کیوں نہی کرتی، اپنی ایکسٹینشن اور حکومتوں میں اپنی جاہ و جلال چلانے کے لیے ہر گندے سے گندھ کام کرتی ہیں۔ بلیک میلنگ، جھوٹ، حکومتوں پر قبضہ کرنا
#قومی_زبان
میں بچوں کے ساتھ تین دن کے لیے مری گیا۔ ایوبیہ، ڈونگہ گلی اور پتریاٹہ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا
قدرت نے اس خطے کو حسن کی انتہا تک نوازا ہے
مگر انسان نے اس حسن پر ایسی بدصورتی تھوپ دی ہے کہ سیاحت کم اور آزمائش زیادہ محسوس ہوتی ہے
سڑکوں اور بازاروں میں کھڑے مقامی دکاندار سیاح کو خوش آمدید کہنے کے بجائے اس پر یلغار کرتے نظر آئے۔ آپ کے پیچھے یہ لوگ ایسے پڑتے ہیں جیسے کوئی شکار ہاتھ آ گیا ہو قدم قدم پر دھوکہ ہر جملے میں فریب اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے لوٹ مار اور لالچ جھلکتا ہوا۔
“ابھی پانی لے لیں، اوپر کیبل کار پر کچھ نہیں ملے گا”
اوپر پہنچے تو ہر چند قدم پر ریستوران، دکانیں اور فریزر جگمگا رہے تھے۔
“یہاں ریستوران کے سامنے مفت پارکنگ ہے
چیئر لفٹ بس دو قدم پر ہے”
گاڑی لگائی تو اگلا جملہ تیار تھا:
“کھانا آرڈر کر جائیں، واپسی پر تیار ملے گا”
اور جب صاف انکار کیا تو اصل چہرہ سامنے آ گیا
“پھر گاڑی ہٹا لیں!”
یہ محض بدتمیزی نہیں یہ کھلی بلیک میلنگ ہے
رستے میں ایک آٹھ دس سالہ بچہ گاڑی کے پاس آیا۔ معصوم آواز، معصوم آنکھیں
“میٹھے انگور ہیں، سو روپے کا بھرا ہوا کپ”
ایک دانہ اٹھا کر کھایا تو انگور پھیکا نکلا
نیچے دیکھا تو کپ کے آدھے حصے میں گھاس پھونس بھری ہوئی تھی
شیشے سے باہر جھانکا تو بچہ… غائب
یہ صرف ایک بچہ نہیں تھا
یہ ایک تربیت یافتہ دھوکہ تھا
جو شاید ہمیں بطور قوم ورثے میں مل رہا ہے
سوال یہ نہیں کہ مری میں ہر جگہ یہی کچھ ہے یا نہیں
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اتنی تیزی سے دھوکے باز بنتے جا رہے ہیں؟
کیا چند ہزار روپے کمانے کے لیے ہم اپنی ساکھ اپنی اخلاقیات اور آنے والی نسلوں کا مستقبل گروی رکھ چکے ہیں؟
سیاح اگر ایک بار لٹ کر لوٹ جائے تو دوبارہ نہیں آتا
اور قومیں جب مہمان کو دھوکہ دینے لگیں تو پھر وہ صرف سیاحت نہیں اعتبار بھی کھو دیتی ہیں
افسوس صد افسوس
حسنِ فطرت ابھی باقی ہے…
مگر حسنِ کردار تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے
#آفاق_سومرو
@AliFahimp یاد ہے ہمیں وہ وقت ذرا ذرا! ایم کیو ایم کے غنڈے گھر اور گلی کو یرغمال بنا اسلحے کے زور پر لوگوں کو زبردستی بسوں میں بیٹھنے کا کہتے تھے، بسیں بھی ساری کی ��اری زبردستی روک لی جاتی اگر کوئی کرایہ مانگتا تو اسکی بس ہی جلا دی جاتی تھی۔۔۔ کراچی نے ایسی قیامت دیکھی ہے