جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سینیٹر سید وقار مہدی کی جانب سے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد میں نیازِ امام حسینؑ کا اہتمام کیا گیا۔
@BBhuttoZardari@AseefaBZ
ملک میں چھتیس سال میں بائیس دفعہ گندم درآمد کی گئی اور تب گندم سرکاری طور پر خریدی جاتی رہی بارشوں میں کیا بڑے شہر پنجاب کے چند گھنٹوں میں کلئیر نہیں ہوئے
As part of flood monitoring and preparedness efforts, aerial inspections of rivers and barrages through drones are being conducted to support proactive flood readiness and identify potential risks. These inspections enable timely assessment, allowing for early warnings and prompt action to help mitigate the impact of potential flooding.
Protective and preemptive works along Nullah Dek in Tehsil Kamoke are progressing steadily to strengthen vulnerable sections, enhance flood resilience, and ensure effective protection for surrounding communities and infrastructure against any potential flooding.
فوڈ ڈائریکٹوریٹ گورنمنٹ آف پنجاب کی شفاف اور اوپن بولی کے تحت سیلیکٹ کی گئ 11 کمپنیاں اب تک 4 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید چکی ہیں ۔ فوڈ کے پاس 19 لاکھ میٹرک ٹن کا باردانہ موجود تھا۔ جس میں سے باقی کا باردانہ مکمل طور پر موجود ہے۔ جس کا باقاعدہ آ��ٹ بھی ہوتا ہے اور اکاونٹیبلٹی بھی ہوتی ہے۔ آج کل مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4200 من سے زائد ہے۔ جبکہ forward contracting کے ذریعے خریدی گئ اس گندم کی فی من قیمت حکومت پنجاب کو مارچ 2027 میں بھی 4400 کی پڑے گی۔ اس وقت تقریبا 43 ارب روپے کی گندم پرائویٹ کمپنیاں پنجاب کے strategic reserve کے لئے خرید چکی ہیں جس پر پنجاب حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور نہ ہی گندم کا گردشی قرضہ ہو گا۔ جبکہ یہ گندم پنجاب کے strategic reserve کیلئے مارچ 2027 تک موجود ہو گی۔
بدل رہا ہے لاہور ۔۔
شہریوں کی سہولت کے لیے 16 ہزار کچی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کر لی گئی ہے۔ سیوریج اور ڈرینیج کا نیا جال بچھایا جا رہا ہے۔ نکاسی کا جدید سسٹم لایا جا رہا ہے۔ پانی کی سٹوریج کے لیے زیرِ زمین سٹوریج ٹینکس بنائے گئے ہیں۔
جو لوگ کہتے ہیں صرف ایک بس ہی تو ہےایک دن رش میں کھڑے ہو کر سفر کر کے دیکھیں۔
خواتین کے لیے الگ میٹرو بس کوئی لگژری نہیں، بلکہ ضرورت ہے۔ کیونکہ محفوظ سفر ہر عورت کا حق ہے، احسان نہیں۔ وہ نوکری سے نہیں راستے سے تھک کر گھر لوٹتی تھی۔خواتین کے لیے الگ میٹرو بس، ہزاروں ماؤں کی دعا اور لاکھوں بیٹیوں کے سکون کا نام ہے