عمران خان کی بہنوں کو DC لاہور صاحب نے نظربند کیا، بتانا چاہیے اُن کے پاس کیا انفارمیشن تھی؟ ایسا کون سا ثبوت تھا، جو تھری MPO کا اقدام اٹھانا پڑا، عظمیٰ بخاری کو بتانا چاہیے کہ کون سے شواہد تھے، عقیل ملک
اہم خبر ۔۔ حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔ پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ حکومتی وفد کل دن 12 بجے پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات کرے گا۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے فیصلے پر عملدامد نہ کرنا ہے، اندازہ کیجئے کہ ریاست کے امور کیسے چلائے جارہے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو ائینی، قانونی، عدالتی و اخلاقی حق نہیں دینا، لیکن پورے صوبے کو دہشتگرد ڈکلئیر کردینا ہے، صوبائی خودمختاری کو پامال کرکے عوامی مینڈیٹ اور بنیادی آئینی حقوق چھین لینے ہیں، پختونخواہ میں ایمرجنسی لگا دینی ہے، کیا یہ ملک مذید نفرتوں کا متحمل ہوسکتا ہے؟
کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی خبریں ڈاکٹر بابر اعوان کی میڈیا سے گفتگو،اگر کے پی میں گورنر راج لگایا گیا تو پھر سندھ میں بھی لگ سکتا ہے، کیا صدر اپنے کمرے میں بیٹھ کر کسی صوبے میں ایمرجنسی لگا سکتا ہے؟ اسکا جواب ہے نہیں،آرٹیکل 232 کے تحت صوبائی اسمبلی کی ایک قرارداد ضروری ہے،کھائو پیو اور موج لگائو والی بات نہیں ایمرجنسی لگانا، ڈاکٹر بابر اعوان
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے دو ایم این ایز کی تھری ایم پی او کے تحت حراست کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے پیر کو دوسرے بنچ میں سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردی، پیر کو میں دستیاب نہیں ہوں گا، کسی دستیاب بنچ میں کیس مقرر کیا جائے گا، جسٹس خادم حسین سومرو نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو جواب کیلئے پیر تک مہلت دے دی.
3 نومبر 2007 کو مشرف کی طرف سے لگائی گئی ایمرجنسی اور پی سی او کے حق میں بھی اس وقت کی پارلیمنٹ نے قرارداد پاس کی تھی تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا ۔
اگر اسٹیبلشمنٹ خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو ایک آمرانہ طریقے سے ہٹائے گی تو صوبے میں اسٹیبلشمنٹ اور اس کے گماشتوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی بلکہ بلوچستان سے بھی برا حال ہو گا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجئے
حال ہی میں صحافیوں کے ایک وفد کو دورۂ بلوچستان پر لے جایا گیا، ان صحافیوں کے مطابق زمینی حقائق یہ تھے کہ وہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے کنٹونمنٹ سے باہر نہیں جاسکے !
خیبرپختونخواہ میں 3 بار گورنر راج کی تاریخ
پہلی بار 16 فروری 1975 سے 3 مئی 1975 تک ۔۔۔ 76 روز
دوسری بار 25 فروری 1994 سے 24 اپریل 1994 تک ۔۔ 59 روز
تیسری بار 12 اکتوبر 1999 سے 30 نومبر 2002 تک ۔۔۔ دو سال سے زائد
اب اگر گورنر راج لگتا ہے تو ڈکٹیٹر مشرف کے گورنر راج لگانے کے 27 سال بعد لگے گا
🚨🇶🇦 Qatar's prime minister said Hamas agreed on the first day of the war on Gaza to “release all civilian hostages,” asking only for a ceasefire window to get them out, and Israel refused to even "entertain the idea."
"We got an agreement" to release "all the civilian hostages," Sheikh Mohammed bin Abdulrahman Al Thani told Piers Morgan. Israeli officials replied that if Hamas wanted to free them, it should do so without a pause in fighting, he said.
His on-record account follows a Haaretz report this month that he relayed the offer to then-Mossad chief David Barnea on the evening of Oct. 7.
🎥 Piers Morgan Uncensored (YouTube)
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آئین کا پارٹ 10 ایمرجنسی پرو ویژن کو ڈیل کرتا ہے جس میں درج آرٹیکل 232 اور 234 کے کچھ لوازمات ہیں، جب تک وہ پورا نہیں ہوتے، ایمرجنسی نہیں لگائی جاسکتی۔
جب بیرونی ملک سے حملہ ہوں، اندورنی کوئی خلفشار ہوں یا حکومت ناکام ہوں تو آئین کے ان سیکشن کے مطابق ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے۔ اس وقت صوبائی حکومت مکمل طور پر فعال ہے۔
اس وقت صوبے میں ایسی کوئی حالات نہیں ہے، صوبائی حکومت کا مکمل کنٹرول ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ کے مطابق پرامن مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر قانونی قرار نہیں دیا،عدالت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ کوئی پارٹی پرامن مارچ نہیں کرسکتی-
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ کی وجہ سے اگر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ جب بھی کوئی آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو پھر اس کے خلاف عدالت ہی جانا ہوتا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے مزید خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی غیر آئینی اقدام اٹھایا گیا تو ایڈووکیٹ جنرل آفس آئینی اور قانونی کاروائی کے لئیے تیار ہے اور صوبائی حکومت غیر آئینی اقدام کو چیلنج کرے گی۔