Canada Based Laywer Barrister Hamid Bashani Passed Away. He was Intellectual and very Nice Human Being
I spoke at length with him on Foreign Policy and Political Issues and found him Genuine Scholar
May he Rest in Peace . Ameen
Rest in peace Barrister Hamid Basahani Amazing Man, author, analyst, columnist, broadcaster favourite of thousands of his fans. Hamid Khan Bashani Sahib left this world today. He was regular analyst of my shows. We must celebrate his life. Good Bye Hamid Basahani Sahib
@TahirGora Tahir Bhai. Please accept my condolences. Inna Lillah wa Inna Ilehay Rajayoon. Had the pleasure of meeting with him in 2017 with you. I enjoyed his programs a lot. Very logical and knowledgeable person.
رفیع صاحب @Rafi_AAA سے ٹوئیٹر پر شناسائی ہوئی۔ کئی برس پہلے پرنسٹن یونیورسٹی میں میری کتاب پر مذاکرہ کے لئے آئے تو کھانا ساتھ کھایا۔ اس کے بعد واشنگٹن اور نیو یارک میں کئی بار ملاقات ہوئی۔ معتدل اور روشن خیال رائے رکھتے تھے اور پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے۔ إنّا لله وإنا إليه راجعون۔
انا للہ و انا الیہ راجعون!
@Rafi_AAA وسیعُ المشرب تبحر علمی تھے💔
فرزدق کا لازوال شعر انکے نام
وَمَا نَحْنُ إِلَّا مِثْلهُمْ غَيْرَ أَنَّنَا
أَقَمْنَا قَلِيلًا بَعْدَهُمْ وَتَقَدَّمُوا.
ہم بھی انہی جیسے انسان ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ہم ان سے کچھ پیچھے اور وہ آگے آگے چلے گئے ہیں
@wahreh1 اور فون پر بات بھی ہوئ تھی۔ لیکن وہ اپنے والد کی طرح شائد وقت سے پہلے چلے گئے یا خود اپنے سفر کو فی الفور شروع کر لیا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔
@wahreh1 ٹوئیٹر کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ اتفاقا آپ کی پوسٹ پر نظر پڑی۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ ان سے شناسائی یہیں ہوئ۔ انتہائ نفیس شخص۔ اچھی غزا، شاعری موسیقی اور سیاست پر گرفت۔ اچھے لکھاری۔ یہی ہم میں قدر مشترک علاؤہ اس عاجز کے اچھے لکھاری ہونے پر۔ وہ اندر سے بہت ڈپریسڈ تھے۔
ابھی تو یو ٹیوب پر مزید پروپیگینڈا چینل صف آرا ہو کر خان کا دبنگ اعلان کے تھمب نیل لگا کر مزید جھوٹ بیچنے پر لگ جائیں گے۔ بھای اس کی لت بھی آپ ہی نے ڈلوائ تھی تو اب بھگتو۔
جب بھی خان کی تباہی کی داستان لکھی جائے گی۔ وجوہات میں سر فہرست، بڈھی آنٹیاں اور اوور سیز یوتھڑ ہوں گے۔
سیاست کرنی لاہور میں ہیں سپورٹ مگر لندن ، مانچسٹر اور برمنگھم کے یوتھڑوں کے سر۔ یا آنٹیاں جو روز حسرت سے قیدی نمبر 804 کے نام کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا مطلب ہے مالا جپتی ہیں۔۔۔:)
کیا یہ روز تڑیوں کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے۔ یہ کردیں گے وہ کردیں گے۔ بھائ اس طرح تو کباڑ خانہ نہیں چل سکتا تو ملک تو بہت دور کی بات ہے۔ بھائ روز روز کا یہ ناٹک بند کرو اور کام پر توجہ دو۔ ورنہ گھوڑے مکمل ملک قریب قریب لگ چکا ہے۔ انسان کے بچے بنو۔
اسی سیاسی نا بالغ خان نے اگر پارلیمان کو اہمیت دی ہوتی اس میں بیٹھا ہوتا تو آج اپوزیشن کا لیڈر ہوتا اور انتہائ relevant ہوتا۔ آج اگر کھو کھاتے لگا ہے تو اپنے ہی چ آپوں کی وجہ سے۔
تڑیاں سیاست نہیں ہے۔ سیاست ہے ہی بد ترین مخالف کے ساتھ بیٹھنے کا اور اس کی بات تحمل سے سننے کا نام۔ایک دوسرے کے ساتھ لحاظ سے اور رواداری کے ساتھ چلنے کا نام۔
اس ملک کا سیاسی پروفیسر زرداری ہے اور بلاول یقینا اسی پروفیسر کا بیٹا۔
خان کی سیاسی ناکامی کی وجہ سیاست کی سمجھ بوجھ سے دوری، اکھڑ پن، بد مزاجی اور narcissistic رویہ ہے۔ جھوٹ، انتشار اور خود ساختہ سچائیاں بالاآخر حقیقت سے شکست ہی کھاتی ہیں۔
ہمارے ملک میں کچھ سچائیاں ہیں جنہیں نہ چاہتے ہوئے تسلیم کرنے میں ہی عافیت ہے۔ یہاں کوئ حقیقی جمیوری نظام نہیں۔ ایک facade ہے۔ جسے آپ اور ہم جمہوریت کہتے ہیں۔ عقل مند وہ ہے جو اس حاضر سچائ کے ساتھ کھیلے اور اپنا رستہ بنائے۔
آپ ایڈیلیڈ کی پچ پر وانکڈے سٹیڈیم کی بیٹنگ نہیں کرسکتے۔