ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری اور سزا ان تمام لوگوں کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے جو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ پاکستان میں آئینی بالادستی اور عدل کی حکمرانی قائم ہے۔ یہی لوگ مظلوم، محکوم اور مقبوضہ اقوام کو یہ نصیحت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ آئینی جدوجہد کریں، پاکستانی عدلیہ پر بھروسہ رکھیں، اور اپنے جبری طور پر لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لیے عدالتوں سے رجوع کریں۔
ذرا سوچیے، جب پاکستانی ریاست اسلام آباد جیسے شہر میں، دیگر وکلا کی موجودگی میں، دو وکلا کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں انسانیت سوز طریقے سے گرفتار کر کے بعد ازاں سترہ سال قید اور کروڑوں روپے جرمانے کی سزا سنا سکتی ہے۔ وہ وکلا جو جبری گمشدہ افراد کی آواز بنتے ہوں، جو ریاستی بربریت اور ماورائے آئین اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج کرتے ہوں۔
انہیں نشانہ بنا کر پاکستانی فوج، عدلیہ، حکومت اور ریاستی میڈیا یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس ریاست میں، فوج اور اس کے کاسہ لیسوں کے سوا، کسی انسان کی کوئی قدر و منزلت نہیں۔
پاکستانی ریاستی جبر کا مقابلہ صرف اور صرف مزاحمت سے ممکن ہے۔ مزاحمت کے بغیر، منظم جدوجہد کے بغیر، اور پاکستانی ریاست کے جابر و قابض حقیقی چہرے کو بے نقاب کیے بغیر، نہ مظلوم و محکوم اقوام اپنی قومی ��ناخت کو محفوظ رکھ سکتی ہیں اور نہ ہی اس خطے میں آزادی، انصاف، عدل اور قانون کی حکمرانی کا خواب کبھی حقیقت بن سکتا ہے۔
#ReleaseImaanAndHadi
Brave daughter of Balochistan Dr. Mahrang in Turbat, Balochistan.
They wanted to control her voice, but she returned in millions.
She herself faced Arrest, Prison, Torture but she never gave up, She is a true leader.
#BalochNationalGathering
Those anchors were asking about who Mahrang Baloch was. Today's impressive Baloch National Gathering in Turbat is answer to them @MahrangBaloch_ lives in the hearts of every Baloch.
Video: X