@ayesha_fatiima You can make a fake traffic jam anywhere just pick like 100 android phones put on car and take those to x road and drive like 5km/h booom now map will show traffic jam
Wow.
Alibaba just quietly released one of the most useful AI products of all time.
It's an AI agent that you can install instantly in any browser to do tasks for you using Qwen 3.5.
No setup, no token costs, 100% free and open source.
Try it now: https://t.co/VXZqKicvgn
@effucktivehumor There can be multiple services as the author name suggests "SEO" so he could be providing the IT service to there client, Even i am software engineer and work as a freelance with many clients from all over the world
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
بنام احمد شریف چوہدری ولد بشیر الدین چوہدری
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ویب سائٹ پر اب بھی ایک شخص “محمود سلطان بشیرالدین” کا نام بطور دہشتگرد تمام تفصیلات کے ساتھ موجود ہے کہ کیسے مبینہ طور پر وہ کیمیکل ہتھیار اور ایٹمی ہتھیار بنانے کے راز دہشتگرد گروپس کے ساتھ شئیر کر رہے تھے
ایسا شخص، جس کے اپنے والد UN designated terrorist ہوں، وہ دوسروں کو دہشتگرد یا سیکیورٹی رسک یا ریاست مخالف کہتا ہو تو یہ ایک سنگین مزاق لگتا ہے۔
اگر آپ کے الزامات اور دشنام طرازی کو ہی معیار بنا لیا جاۓ تو کیا پاکستانی فوج کی ترجمانی کے لیے کوئی اور شخص میسر نہیں؟ جو عوامی انتخاب پر سیکیورٹی رسک، دہشت گرد اور ریاست مخالفت کا الزام لگا رہا ہے، اس کی نا صرف اپنی سیکیورٹی کلئیرنس پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کی نالائقی،سطحی گفتگو اور لچر پن بھی ہر جملے سے واضح ہے۔
A man who is hidden in a small cell in Adiala for more than 2 years, nobody except his close ones has seen/heard him, who isnt presented in court out of fear of his popularity. A man whose party won 26 feb election being behind bars is a threat to them?
“1971 میں جب سقوط ڈھاکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب بھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی۔ ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دیوار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی سب سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو اغوا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔”
- عمران خان
#غدار_کون_تھا
#ذہنی_مریض_نامنظور
آئین کے مطابق ریاست کی اصل حاکمیت (Sovereignty) اللہ کے بعد عوام کی ہے، اور تمام اداروں کا جواز عوام کے ووٹ، عوام کی رضاُ اور عوام کے دئیے گئے آئینی اختیار سے پیدا ہوتا ہے۔
کوئی بھی محکمہ یا فردِ واحد جس کے پاس بے شک ماروائے شریعت تاحیات استثنی ہو، ریاست نہیں ہوسکتا۔۔۔!!
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
“There is no rule of the Constitution or the law in our country at this time. Instead, it is under the rule of ‘Asim Law’. Asim Munir is the most tyrannical dictator in history and is mentally unstable. The level of oppression during his tenure is unparalleled. His regime showed no regard for women, nor any compassion for children and the elderly. Asim Munir is capable of doing anything to satisfy his lust for power.
At this time, the entire country is being run by the orders of one man, Asim Munir, as a result of which morality has been completely buried. Never before have there been mass killings of ordinary citizens. The incidents of May 9th (2023), November 26th (2024), Azad Kashmir, and Muridke stand as the worst examples of the ruthless abuse of power. The way unarmed citizens were fired upon is unimaginable in any civilized society.
The atrocities committed against women during Asim Munir’s tenure are also unprecedented. Dr. Yasmin Rashid, an elderly cancer survivor, has been imprisoned merely for refusing to abandon Pakistan Tehreek-e-Insaf. Bushra Begum too has been kept in solitary confinement solely to exert pressure on me. What kind of law is this, where those who renounce PTI are granted amnesty, while those who remain loyal to my ideology face relentless persecution?
We prefer death over accepting slavery.
Asim Munir is inflicting every form of cruelty upon me and my wife. No political leader’s family has ever been subjected to such treatment. I wish to make it absolutely clear once again: no matter what they do, I will neither bow down nor submit to them.
My message to the nation is this: nations that embrace the clear and fearless principle of ‘freedom or death’ cannot be stopped from achieving true independence and progress. Only such principled nations ultimately prevail with honor.
I also wish to make it clear that Pakistan Tehreek-e-Insaf will hold no talks either with the Form-47 government or with the Establishment. There is no point in negotiating with a puppet government whose prime minister operates under a policy of ‘I will let you know after asking’. Negotiations are futile also because every time we have engaged in dialogue, the oppression against us has only intensified. All power rests in the hands of one man at this time: Asim Munir, who can go to any extent to extend his hold on power. Decisions regarding any negotiations will be made by our allies in the Tehreek Tahafuz-e-Aain Pakistan: Mehmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas.
All PTI office-bearers, parliamentarians, members of the Insaf Lawyers Forum, and senior lawyers must approach the High Courts and refuse to leave until hearing dates are set, because both my and Bushra Begum’s cases are being deliberately prolonged, with hearings not being scheduled, to ensure that we remain in prison. Everyone knows there is no substance in these cases and that they will eventually collapse; therefore, hearings are intentionally being withheld.
I have complete trust in Salman Akram Raja. All party-related instructions and meeting lists will be communicated through him. It is Salman Akram Raja’s responsibility to ensure that every directive is duly implemented.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail during a meeting with his sister, November 4, 2025