فوج کیخلاف بیانیہ بنانے والے سوشل میڈیا اکاونٹس محسن داوڑ افغانی اکاونٹس ملکر ک��سے فوج اور ایجنسیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں ملاحظہ کریں
وزیرستان سے ایک چھوٹی بچی کی باولنگ کروانے کی وڈیو وائرل ہوتی ہے اس بچی کے ایکشن کو اس قدر پزیرائی ملتی ہے کہ وہ راتوں رات پوری دنیا میں وائرل ہوجاتی ہے
وڈیو وائرل ہوتی دیکھ کر محسن داوڑ اس بچی کے والد کے قتل کو پاک فوج سیکیورٹی اداروں پر ڈالتے ہوئے الزام لگا دیتے ہیں
اس الزام لگانے کے ٹھیک 1 دن بعد آئینہ وزیر نامی بچی کی وڈیو بنا کر وائرل کرنے والے لڑکے کو طالبان اغوا کرلیتے ہیں اور وڈیو بنانے وائرل کرنے کے جرم میں معافی کی اعترافی وڈیو بنواتے ہیں
اگر طالبان وڈیو بنا کر وائرل نہ کرتے تو ریاست مخالف ان اکاونٹس بشمول محسن داوڑ نے لڑکے کی گمشدگی کا الزام بھی اداروں پر لگا دینا تھا
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی دہشتگردی کا اثرو رسوخ قبائلی علاقوں میں کس قدر گہرا ہے
جس بچی کی وڈیو بنا کر وائرل کرنے والے سے طالبانوں کو اس قدر مسئلہ پیدا ہوگیا کہ اس کو اغوا کرلیا
کیا بچی کے والد سے طالبانوں کو مسئلہ نہیں ہوا ہوگا ؟ جبکہ وہ ایک استاد تھے اور ممکنہ طور پر انہوں نے بچیوں کو پڑھانے کی کوشش کی ہونی ہے جس پر انہیں طالبانوں نے قتل کردیا تھا
پاکستان کے دل بلوچستا�� میں ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے مذموم منصوبوں کو جس جرات مندی سے ناکام بنایا وہ واقعی لائق تحسین اور قابل ستائش ہے۔
میں پاکستان کے تمام شہریوں کی طرح بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دعا گو ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہر قسم کی دہشت گردی اور انتشار سے محفوظ رکھے اور اامن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے ولوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ امین۔
تیرہ میں پرامن مظاہرین پرشر پسند عناصر کی بلا اشتعال فائرنگ قابل مُزمت ہے ۔ تیراہ کےغیور اور محب وطن پاکستانیوں نے وطن کے لیے کبھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا ۔ امید کرتا ہوں شر پسندوں کو جلد کیفر کرادر تک پہنچایا جائے گا ۔
بلوچستان میں انتہائی اہم ڈویلپمنٹ ہوئی ہے اور دہشت گردی کا منظم نیٹورک بینقاب ہوگیا ہے ۔ اس نیٹورک کو فریدہ نامی خاتون چلا رہی تھیں۔ جو بی وائی سی کارکن ماہزیب کی پھوپھی اور بی ایل اے کے کمانڈر باسط زہری عرف قاضی کی قریبی رشتہ دار اور چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث راشد حسین کی سگی بہن ہیں۔
فتنہ الہندوستان بی ایل اے کا انتہائی اہم کمانڈر باسط زہری جو شراب نوشی کے باعث ہلاک ہوا ہے اور اس نے فریدہ کے گھر ہی پناہ لی ہوئی تھی۔
ٹریس کورس انٹیلیجنس فائلیں بتاتی ہیں کہ 2006 سے 2025 تک اس خاندان کے کم از کم 11 افراد بی ایل اے یا اس کی ذیلی مجید بریگیڈ میں مارے گئے یا گرفتار ہوئے۔ باسط کے کزن صمد اور شیر محمد 2014 میں امیرالملک کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے؛ خود باسط کا ایک بھائی 2010 میں، والد 2012 اور دوسرا بھائی 2013 میں مارا گیا۔ یہی خونی سلسلہ راشد حسین تک پہنچتا ہے وہی شہری دہشت گرد جس نے کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی سہولت کاری کی اور جس کے بازیابی کے لیے فریدہ اور اس کا نیٹورک سڑکوں پر احتجاج بھی کرتا رہا ہے ۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق 17 اپریل 2020 کو 👇