آج باجوڑ میں سربکف کے نام سے 22 واں ملٹری آپریشن شروع کیا گیا،یہ افسوسناک ہے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔
علاقے میں 3 دن کی کرفیو سے عوام شدید تکلیف میں ہیں،
حکمران بتائیں، 21 ملٹری آپریشن کیوں ناکام ہوئے؟؟
صوبائی اسمبلی، وفاقی پارلیمنٹ، مقامی جرگوں، عمائدین کو بائی پاس کرکے شروع کیا گیا اس 22 ویں ملٹری آپریشن سے امن نہیں لایاجاسکتا۔
خیبرپختونخوا کے سیاسی جماعتیں، سیاسی لیڈرشپ، جرگے،عمائدین ملٹری آپریشنز اور مسلط شدہ بدامنی کیخلاف قانونی عوامی جمہوری مزاحمت کیلئے سڑکوں پر آئیں۔
The current NAB Chairman is being dishonest to his position by continuing with the case despite this, merely to increase pressure on me.
The agenda to crush PTI has destroyed every institution in this country. During our tenure, the GDP growth was 6.2%, which has now fallen to zero. Investments, which were rising rapidly even during COVID-19, are now in decline. No one invests in a country where there’s no constitutional government and no rule of law.
There is a democratically elected government in Khyber Pakhtunkhwa (KP), whose performance is exemplary. KP is the only province currently running a surplus, not a deficit. The KP government operates welfare projects modeled on a welfare state, including the restoration of health cards.
The country was supposed to receive 1,100 billion in revenue, but we could not get that due to the NAB amendments. These amendments were made solely to exonerate cases against Nawaz Sharif and his entire family. Progress will remain elusive until Pakistan breaks free from the vicious cycle of deals made by this mafia.
Every individual in Pakistan must support PTI if we are to achieve genuine sovereignty. The youth must liberate themselves from fear. As Maulana Rumi said, _ “You were born with wings, why prefer to crawl through life?” _ Therefore, break the shackles of fear and participate actively in PTI's membership campaign."
2/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
رجیم چینج آپریشن اور 9 مئی ، دونوں ہمارے خلاف سازش تھی اور ہمیں ہی مجرم بنا کر ہمیں ہی سزا دی جارہی ہے۔ دونوں معاملات میں ہم نے انکوائری کی ڈیمانڈ کی اور دونوں میں انکوائری نہیں کی گئی۔
میں آج بھی یہی کہتا ہوں کہ جس نے ۹ مئی کی فوٹیج چرائی اسی نے ہی ۹مئی کروائی۔
ہمارے خلاف سازش ہوئی اور ہماری حکومت گرائی گئی ۔ سائفر ہمارے خلاف آیا تھا اور اس کا کیس مجھ پر اور شاہ محمود قریشی پر بنا دیا گیا۔اس سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ مجھے ملٹری کی حراست میں لے لیا جائے ۔
اس وقت پاکستان بنانا رپبلک بن چکا ہے جہاں کوئی آئین اور قانون نہیں ہے۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ عوام کا جینا مشکل ہو گیا ہے ۔ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ اب دنیا بھر میں یہ خبریں چل رہی ہیں کہ پاکستان میں بجلی کا بل گھر کے کرائے سے زیادہ ہو گیا ہے۔آئی پی پی کا بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ مہنگائی میں پسی ہوئی عوام پر ہر مہینے بجلی کا بل قہر بن کر گرتا ہے۔ ان چند خاندانوں نے خاص طور شریف اور زرداری خاندان نے اپنے ذاتی فائدے اور دولت بنانے کے لیے ملک میں بجلی کا نظام تباہ کر دیا ہے۔ دو سال میں معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے فیصل آباد میں فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور یہ ان کی ساری توجہ تحریک انصاف اور مجھے کرش کرنے پر لگی ہوئی ہے۔
بنگلہ دیش میں 15 سالہ دورِجبر اور بھارت نواز حکومت کا خاتمہ ہوا، حسینہ واجد نے عوام کو اپنا مخالف بناکر، ان کی آواز دبا کر بھارت کی مدد سے حکومت کی اور اپنے ہم وطنوں کو اپنا مخالف بنالیا، حسینہ کی فاشسٹ حکومت کا خاتمہ بنگلہ دیشی عوام کی قربانیوں اور جدو جہد کے نتیجے میں ہوا۔ دعا ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام کی جدوجہد ملک میں استحکام ، خوشحالی اور حقیقی جمہوریت کی واپسی کا سبب بنے۔
آپ کا ایک SMS بن سکتا ہے ہزاروں کینسر سے لڑتے مریضوں کی امید۔
آج ہی 7770 پر SMS کر کے اپنی زکوٰۃ و عطیات شوکت خانم ہسپتال میں زیر علاج کینسر کے مستحق مریضوں تک پہنچائیں۔
#ZakatSeZindagi#ZakatForShaukatKhanum#SKMCH
وزیر دفاع خواجہ آصف کہ پوری تقریر سنیں جس میں فوج کے شہداء کی توہین فوج پر جنگیں ہارنے کے الزام اور پنجابیوں کو فوج کے خلاف لڑنے کے لیے اکسا رہا ہے
اس ٹویٹ کو زیادہ سے زیادہ وائرل کریں 🚨
پیپسی بائیکاٹ کی تازہ وڈیو نے دنیا بھر میں وائرل ہوکر غزہ کے لیے نئی روح پھونک دی
لیبیامیں الیکٹریکل انجینئرنگ کے نوجوان طالب علم محمد ناس کی غزہ کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف بنائی ایک وڈیو کام کرگئی۔وڈیو میں جس طرح مصنوعات کی قیمت سے بننے والے اسلحے کی پوری ترتیب انتہائی خوبصورتی سے سمجھائی گئی ہے۔محمد ناس نے دنیا بھر میں لوگوں کو اسرائیل وامریکہ کے خلاف معاشی دباؤبڑھانے کے لیے سخت بائیکاٹ پر زور کے لیے ترغیب کی نئی روح پھونکی ہے۔ غزہ میں 153 دن سے اسرائیل کی بدترین بربریت جاری ہے، حالت یہ ہے کہ مسلمان بچے اب بمباری کے ساتھ بھوک پیاس و قحط سے شہید ہو رہے ہیں ۔محمد ناس وڈیو بنانے کا شوق رکھتا ہے اور غزہ کے مسلمان بھائیو ں کی صورتحال پر سخت رنجیدہ اور غصہ میں ہے۔ اس نے یہی سمجھا کہ اپنے بھائیوں پر ظلم ختم کرانے کی خاطر ہمیں ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشیا کے بائیکاٹ کو حد سے زیادہ موثر کرنے کی ضرورت ہے۔الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اُس کا کہنا تھا کہ ہمیں لگتا تھا کہ ہم غزہ کے لیے کوئی ذمہ داری ادا نہیں کر پا رہے تو بطور کانٹینٹ میکر مجھے وڈیو بنانے کا خیال آیا.
“لیڈر وہ ہوتا ہے جس کا نظریہ ہوتا ہے، وفادار تو میرا کُتا بھی ہے”؛ گذشتہ کچھ ہفتوں سے میں خان صاحب کی اس بات پر بہت غور کر رہا ہوں۔
تحریک انصاف پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس کی قیادت پاکستان کی ۲۴ کروڑ عوام کے لیے کھلی ہے۔ اس کا ثبوت آپ کے پاس ۸ فروری ۲۰۲۴ کی صورت میں موجود ہے۔ میں ۹ اپریل اور ۱۸ مارچ کی بھی مثال دے سکتا ہوں لیکن میں ۸ فروری کی اس لیے دوں گا کہ ۹ مئی کے بعد سے دوسرے درجے کی تمام قیادت کو روپوش ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ جو ہاتھ لگے اُن سے پارٹی چھڑوا دی۔ ۱۰،۰۰۰ متحرک کارکنان کو جیلوں میں بند کردیا، جو باہر رہ گئے اُن کو اتنا ہراساں کیا کہ اُن کا کھلی فضا میں سانس لینا محال ہوگیا۔ ۵ اگست سے عمران خان پابند سلاسل ہے، قوم کو اُن کی ایک جھلک تک نہیں دکھائی جارہی، میڈیا پر اُن کا نام تک لینے پر پابندی ہے۔ پھر بھی پارٹی ختم نہیں ہوئی، کیوں؟ کیونکہ پاکستان کی ۲۴ کروڑ عوام نے عمران خان کے نظریے کا بیڑا اٹھایا اور پاکستان کا ہر دوسرا شخص لیڈر بن گیا۔ کسی نے کوئی محاذ سنبھالا، کسی نے کوئی۔ سوشل میڈیا سے لے کر، گلی محلوں تک آپ نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو عمران خان کے نظریے کی ذمہ داری سنبھالتے دیکھا۔ ۸ فروری کو جو اس قوم نے کیا اُس نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان کا نظریہ اس قوم کی رگ رگ میں سرائیت کرچکا ہے۔ میں جو بار بار کہہ رہا ہوں کہ طاقتوروں کے پیروں تلے سے زمیں سرک چکی ہے، کیونکہ وہ اس حقیقت کو جان چکے ہیں۔ اب اُن کی اکلوتی امید یہ ہے کہ آپ یہ حقیقت بھول جائیں اور اس لیے وہ اس وقت آپ کے شعور پر وار کر رہا ہے۔
انسان اور جانور میں فرق محض شعور کا ہے۔ شعور اُس سے سوال کراتا ہے۔ شعور اُسے صحیح غلط کی پہچان کراتا ہے۔چار سال حکومت میں ہمیں جس کڑی تنقید کا سامنا اپنے سپورٹر سے کرنا پڑا خدا گواہ ہے کہ مخالفین کا منہ بھی نہ بنتا اُس درجے کی تنقید کا، (اگرچہ بسا اوقات وہ پراپگنڈہ کا شکار ہوجاتے) لیکن یہ بھی تحریک انصاف کا ہی خاصا ہے کہ ملک کی دیگر پارٹیوں کیطرح اس کا سپورٹر آپ کو بند آنکھوں سے اپنے ساتھ چلتا نہیں دکھائی دے گا، وہ سوال کرے گا، قدم قدم پر آپ کو جانچے گا، آپ کو نظریے سے پھسلنے نہیں دے گا کیونکہ وہ باشعور ہے۔ وہ عمران خان کے نظریے کا اصل وارث ہے کیونکہ وہ یہ نظریہ گھول کر پی چکا ہے۔
۸ فروری کے بعد آپ کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ آپ کے پاس قیادت کا فقدان ہے۔ نہایت منظم انداز میں یہ کوشش ہورہی ہے کہ آپ کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ تحریک انصاف ہائ جیک ہوچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۵ اگست کے بعد ہم نام نہاد قیادت اور آپ، تحریک انصاف کی اصل قیادت، ایک کشتی میں ہیں۔ ہم میں سے جن کا عمران خان سے رابطہ ہے بھی وہ رابطہ ایسے ماحول میں ہوتا ہے کہ جس میں کچھ زیادہ معلومات لینا ممکن نہیں ہوتا، ہر کوئی اپنی فہم کے مطابق مطلب گاڑ کر آجاتا ہے۔
مگر کیا اس سے ۸ فروری تک آپ کو کوئی فرق پڑا؟ نہیں کیونکہ آپ کا فوکس اپنے نظریے پر تھا اور آپ جانتے تھے کہ قیادت کا بار آپ کے کندھوں پر ہے۔
کیا وجہ ہے کہ اپریل ۲۰۲۲ میں حکومت میں ہونے کے باوجود تحریک انصاف کے ۲۰ ایم این ایز نے عمران خان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا مگر تمام ترہتکھنڈوں کے باوجود اور ہر قسم کے ریاستی جبر کے سامنے آپ کو ۲۰۲۴ میں “آزاد امیدواروں” کی بھی ایک بڑی تعداد عمران خان کے نام سے پیچھے ہٹتی نہیں دکھائی دے رہی؟ کہاں ہے عمران خان؟ وہ تو ۳۲ سال کے لیے جیل میں قید ہے، اُس کا تو نام بھی لینے پر پابندی ہے۔ اُس سے تو کسی کو ملنے تک نہیں دیا جارہا پھر کون پاکستان جیسے ملک میں سیاست دانوں کو بد مست مقتدرہ کے مخالف کھڑا ہونے کی ہمت دے رہا ہے؟
آپ! آپ کا شعور! آپ کا نظریہ! اور قیادت کا وہ استحقاق جو آپ کو اس نظریے سے وراثت میں ملا ہے!
عمران خان کا خاصا یہ ہے کہ جب وہ بولتے ہیں تو اُن کی سوچ ایک وقت اور ایک مسئلے تک محدود نہیں ہوتی۔ ۲۰۱۵ میں بولا جملہ ۲۰۲۴ کے حالات میں اُس وقت سے زیادہ مطابقت رکھتا دکھائی دے گا آپ کو۔ پارٹی لیڈران سے لے کر کارکنان تک کے لیے اُس میں پیغام ہوگا، کیوں؟ کیونکہ نظریہ وقت، مقام اور معاملے کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ آج آپ جس نظریے کے امین ہیں آپ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ وارث ہیں عمران خان کے نظریے کے۔ مڑ کر دیکھیں۔ سبق دہرائیں۔ فوکس رکھیں آپ لیڈر ہیں اس پارٹی کے۔ آپ کے فیصلوں نے شکست دی ہے طاقتوروں کو ورنہ قیادت کا دعوی تو انہیں بھی تھا جو پہلے جھٹکے میں جبر کے سامنے سرنگوں ہوگئے تھے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب جس میں انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی اور دنیا کو بتایا کہ حضرت محمد ﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں۔
#VictoryAgainstIslamophobia
I want to congratulate the Muslim Ummah today as our voice against the rising tide of Islamophobia has been heard & the UN has adopted a landmark resolution introduced by Pakistan, on behalf of OIC, designating 15 March as International Day to Combat Islamophobia.
پاکستانیو، اس ناجائز حکومت کو آپ نے کبھی قبول نہیں کرنا۔ اپنے ووٹ کے حق کی بدترین پامالی کی کے خلاف پوری قوم بشمول صوبائی و قومی اسمبلی اراکین، مقامی تنظیم مقرر کردہ مقامات پر پرامن احتجاج کر کے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے۔
Saturday | 11:00 AM