لاہور کے تاجر:
ہم نے کروڑوں روپے لگائے ہیں کاروبار ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں ہم رات کو نیند کی گولیاں کھا کر سوتے ہیں ہمارے لیے بچوں کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا ہے !
یہ جو سٹریٹ موومنٹ کے لئے سہیل خان آفریدی ملک کے طول و عرض میں نکل رہے ہیں، اس کا ایک اہم سنگِ میل 8 فروری کی ملک گیر ہڑتال ہے-
یاد رکھو کہ 8 فروری کو #ہرچوک_Dچوک بنے گا
#خان_غیرقانونی_قیدتنہائی_میں
فیلڈ مارشل کے لیے یہ ۲۷ وی ترمیم نامکمل نامکمل سی لگ رہی ہے! اس میں روز حشر میں امپیونیٹی (impunity) کی تو بات ہی نہیں۔
جتنی بھی ترمیمیں کر لیں یہ سب ظالم، اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے!
The Sharif-Zardari partnership chose to undermine Pakistan's democracy and accept the servitude of a dictator to protect their ill-gotten wealth and keep their dynastic politics alive.
They are now actively supporting a brutal dictator's power-grab through constitutional amendments.
The people of Pakistan will fight for their rights and never forget Bilawal Bhutto-Zardari and Maryam Nawaz Sharif's role in destroying Pakistan's democracy.
#ایکسٹینشن_نامنظور
Forget Bajwa and Asim for a minute and think of the fundamental problem in the power structure of our country!
How can a country allow this many alleged crimes without anyone being able to stop? The courts, the lawyers, the parliament, political parties, human right orgs, civil society, etc. all helpless? Shouldn’t everyone be at least chanting “Extension NaManzoor”?
#ایکسٹینشن_نامنظور
جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے ہمیں چار پانچ گھنٹے یہ سبق پڑھایا کہ ان لوگوں کو واپس لا کر بسانا بہترین سلیوشن ہے ، سچ منہ سے نکلنے کے بعد خواجہ آصف کو غلطی کا احساس ہوا اور آگر چل کر بات بدل دی ۔۔
تحریک لبیک پاکستان کے ہیڈ کوارٹر پہ پولیس کاروائی پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل:
ہم تحریک لبیک پاکستان کے ہیڈکوارٹر پر پولیس کے چھاپے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے افسوسناک تشدد کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور اطلاعات کے مطابق جانی نقصان کا بھی اندیشہ ہے۔
تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ سیاسی جماعتوں پر ریاستی جبر، آئینِ پاکستان کی روح، جمہوری اقدار، اور شہری آزادیوں کے سراسر منافی ہے۔
ہر شہری اور سیاسی جماعت کو آزادیِ اجتماع اور پرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے، جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔
غزہ اور فلسطین میں جاری نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے اور انسانیت کے ساتھ یکجہتی دکھانے جیسے مقدس مقاصد پر احتجاج کرنا جرم نہیں، بلکہ خاموش رہنا جرم ہے۔ دنیا میں ہونے والے ظلم کے خلاف بولنا ہر ذی شعور انسان کا اخلاقی فریضہ ہے۔
تحریک انصاف تمام سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے تحفظ، جمہوری حقوق، اور آزادیِ اظہار کے حق میں ہمیشہ کھڑی ہے۔
منجانب
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف
جس نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا تھا
وہ ایس آئی ایف سی بناتے رہے
وہ آئینی ترامیم کرتے رہے
وہ مینڈیٹ چھینتے رہے
وہ مائیں بہنیں بیٹیاں اغواء کرتے رہے
وہ پرامن مظاہرین پر گولیاں چلاتے رہے
وہ رجیم چینج کرتے رہے
وہ ایم این اے اغواء کرتے رہے
ڈی جی ائی ایس پی ار سرور کونین کی مثال دے رہے ہیں اس ٹائم کفر اور اسلام کی جنگ تھی یہ معدنیات اور ڈالر کی جنگ ہے اس نے یہ بھی کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں دہشت گردی کیوں نہیں ہوتی تو بند کرو نا بارڈر بارڈر پر ڈیوٹی کس کی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے سیاسی لوگ بارڈر پر ڈیوٹی دیں گے ۔
جب ریاست اور حکومت کہتی ہے کہ افغانیوں کو واپس بھیجا جائے تو اس پر سیاست کی جاتی ہے،بیانیہ بنایا جاتا ہے،گمزرہ کن قسم کی باتیں کی جاتی ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
“عمران خان (9 اکتوبر 2025):
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
باجوہ اور فیض اور اُن کے پیچھے
بے حِس ، بے بس، بے شرم اسٹیلبلشمنٹ