��ام آئے اور گھر کے لیے دل مچل اٹھے
شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو
"When nobody wakes you up in the morning and when nobody waits for you at night, and when you can do whatever you want... what do you call it: freedom or loneliness?"
نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا
سو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کا
میں شکستہ بام و در میں جسے جا کے ڈھونڈتا تھا
کوئی یاد تھی کسی کی کوئی نام تھا کسی کا
"نوشی گیلانی "
لاکھ ضبط خواہش کے
بے شمار دعوے ہوں
اس کو بھول جانے کے
بے پنہ ارادے ہوں
اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا
فیصلہ سنانے کو
کتنے لفظ سوچے ہوں
دل کو اس کی آہٹ پر
برملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے
پھر وفا کے صحرا میں
اس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی
خوشبوؤں کو چھو��ے کی
جستجو میں رہنے سے
روح تک پگھلنے سے
ننگے پاؤں چلنے سے
کون روک سکتا ہے
آنسوؤں کی بارش میں
چاہے دل کے ہاتھوں میں
ہجر کے مسافر کے
پاؤں تک بھی چھو آؤ
جس کو لوٹ جانا ہو
اس کو ��ور جانے سے
راستہ بدلنے سے
دور جا نکلنے سے
کون روک سکتا ہے
حیرت ہے۔۔!!
کہ
جب ہم کسی کی کمی کو محسوس کرتے ہیں
تو
ساری دنیا ہمارے گلے سے لگی ہو تو
الٹا بوجھ لگتی ہے
ہمارے سامنے دست بستہ سرنگوں پڑی ہو
تو بھی
ہیچ لگتی ہے۔
"میں تمہاری کمی محسوس کر رہا ہوں"
یہ محض ایک زبانی کلامی جملہ نہیں
بلکہ
ایک پکار ہے جو تکلیف میں مدد کے لیے کی جاتی ہے۔