°درویش۔۔۔دنیا میں رہتا ہے، مگر دنیا اُس کے دل میں نہیں رہتی،لوگوں سے ملتا ہے، مگر ان کے غلام نہیں بنتا،بولتا کم ہے، سنتا زیادہ ہے،مانگتا نہیں، مگر لوگوں کو دینے والا ہوتا ہے•
•صوفی دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز ہو کر،دل کی گہرائیوں میں خدا کو تلاش کرتا ہے۔اُس کی راہ عبادت سے زیادہ محبت کی راہ ہے،جہاں لفظوں سے زیادہ خاموشی بولتی ہے اور عمل سے زیادہ نیت کا اثر ہوتا ہے۔وہ نفرت کو محبت سے بدلنے کا ہنر جانتا ہے اور خود کو مٹا کر رب کو پانے کا طلبگار ہوتا ہے°
°کبھی کبھی وہ کہتا:
"جس دن تم اپنے دل کی آواز سن لو گے،
کسی درویش کی ضرورت نہیں رہے گی۔"
اس کے پاس کچھ نہیں تھا — مگر سب کچھ تھا۔
ایک کٹیا، ایک پیالہ، اور ایک دل جو دنیا سے خفا نہیں، صرف آزاد تھا•