اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مول��نا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا ��کیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔
#MaulanaInParliament
کیا ہم فوجی وردی اس لیے پہنتے ہیں کہ جب جنگ کا وقت آئے تو میں جنگ لڑوں؟ اپنے گھر کا یہ حال ہے کہ 'ہارڈ اسٹیٹ' کہ کوئی سر اٹھائے فنا کر دو۔ کشمیریوں کے مطالبات میں سے ایک پوائنٹ بتایا جائے کہ جس پر ان سے بات نہیں کہ جا سکتی، مولانا فضل الرحمان
اگر ہم امریکہ اور ایران کے درمیان اس لیے مصالحت چاہتے ہیں کہ ہمیں خطے میں جنگ نہیں چاہیے، خطے کے لوگوں کو ہم امن دینا چاہتے ہیں، تو اس کی ضرورت افغانستان کے ساتھ کیوں نہیں۔
دہشت گردوں کے مراکز افغانستان میں ہیں، وہاں پر ب��باریاں کی جا رہی ہیں، تو کیا اس سے پاکستان کے اندر مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں کوئی کمی آئی یا اس میں اضافہ ہوا؟ ذرا اپنی حکمتِ عملی پر نظر تو ڈالنی چاہیے۔
افغانستان کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو ایک مستحکم ہمسایے کی ضرورت ہے۔ جب ہمیں کچھ نہیں ملتا، اٹھہتر سال کے بعد ہم افغانستان کو طعنہ دیتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سب سے پہلا ووٹ افغانستان نے دیا تھا۔ وہ ظاہر شاہ کی حکومت تھی، افغانستان ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہاں کے قوم پرستوں اور افغانستان کی حکومت کا موقف ایک تھا۔ آپ اس کا طعنہ تو افغانستان کو دیتے ہیں، آج کی حکومت کو،
لیکن کیا آپ نے ایک لمحے کے لیے یہ سوچا کہ سن 1965 میں، جب ہندوستان نے آپ پر جنگ مسلط کی اور آپ کی مشرقی سرحد پر جنگ ہو رہی تھی، تو اسی افغانستان نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنی مشرقی سرحد پر جنگ لڑیں، مغربی سرحد کے محافظ ہم ہیں، اور آپ کو پوری مغربی سرحد پر اپنے ایک سپاہی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑی، اور افغانستان آپ کو سپورٹ کر رہا تھا۔
آج آپ اس کو ظاہر شاہ اور نادر شاہ کے زمانے کے طعنے دے رہے ہیں۔ کیا 1971 میں، جب آپ بنگال میں پھنس گئے تھے، لڑائی ہو رہی تھی ہندوستان کے ساتھ، کیا اس وقت افغانستان کی حکومت نے آپ کو پیغام نہیں بھیجا کہ اگر آپ جنگ لڑ رہے ہیں تو مغربی سرحد سے بے نیاز ہو جائیے؟ ایک سپاہی بھی آپ کو افغانستان کی سرحد پر بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ آج اٹھہتر سال کے بعد ہماری فوج تقسیم ہے، آدھی افغانستان کی سرحد پر ہے، آدھی ہندوستان کی سرحد پر ہے، اور آدھی ملک کے اندر جنگ لڑ رہی ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ سٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے فنا کر دو، کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجئے، کونسی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پہ نگوشیٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو، ایک پوائنٹ بتایا جائے، جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
آپکو یاد ہوگا جب ایران کے کلا ٹھک رہا تھا تو یہ کانا ناصر عباس پاکستان میں بھونک بھونک کے ہلکان ہوا پڑا تھا فوج بھیجو مدد کرو ایران کی ایران کفر اسلام کی جنگ لڑ رہا
اب پاکستان نے صُلح کروا دی امن ہوگیا اور اس مجوسی کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلا پاکستان کے حق میں۔گندا پلید مجوسی
مین سٹریم میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کا جلسہ روکنے والے یا رکوانے والے اتنی عقل نہیں رکھتے کہ جتنے افراد اس جلسے میں موجود ہیں وہ بذات خود اپنے موبائل فون کے ذریعے ایک چینل بن چکے ہیں ۔ اتنا بڑا جلسہ تھا ۔جے یو آئی فے کی اہمیت برقرار ہے پارلمینٹ میں ایم کیو ایم کیطرح ۔ کیا فرق پڑتا اگر ٹی وی چینلز اس جلسے کی کچھ کوریج کر لیتے ۔
بلوچستان میں مولانا فضل الرحمن کا بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ
عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر قومی میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہا
سوشل میڈیا پر بھی زیادہ متحرک نہ ہونے کی وجہ سے جے یوآئی اس جلسہ کا اس طرح فائدہ نہ اٹھا سکی
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے کی نماز جنازہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہی پڑھتے۔۔
آج بھی شیعوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے مسلمانوں کو۔۔۔
18 ذوالحج شہادت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
ان زندیق رافضی گافروں کو کون بے غیرت مسلمان کہے گا وہ جہگہں جہاں سارا سال ماتم کرتے ہیں اپنے آپ کو پیٹتے ہیں آج حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغض میں اس جگہ ڈانس پارٹی کر رہے ہیں بہت زندیق ��ور بے غیرت بدنسلے لوگ ہیں مسلمانوں ان کے منہ پر ان کو گافرکہا کرو معتہ کی پیداوار
مولانا فضل الرحمان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کی بات کرتے ہیں۔ ان کی داڑھی اور سر پر امامہ ہے۔ اسی لئے بلوچستان میں تاریخ ساز جلسے کے باوجود نیشنل میڈیا نے ان کو کوریج نہیں دی۔
ایک جرم یہ بھی ہے کہ مولانا نے ہمیشہ پاکستان فرسٹ کا نعرہ لگایا ہے۔
ہم نے اُن حالات کی طرف جانا ہے جب ہم پاکستان کو ایک کرسکیں گے ان شاءاللہ، آج بھی اگر پاکستان قائم ہے میں بات تو بڑی کر رہا ہوں شاید آپ کہیں چھوٹی منہ اور بڑی بات، لیکن میں پوری قوم پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آج اگر پاکستان متحد ہے، آج اگر پاکستان کی عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو جمعیۃ علماء کے کردار کے وجہ سے، تم نے تو نفرتیں پیدا کیں ہیں یہاں پر، تم نے تو قوموں کو لڑایا ہے انسانی حق کے نام پر، انسانی حق وہ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ہو، اللہ نے جو ضابطہ اور قانون عطاء کیا ہے وہ انسانی حقوق کا محافظ ہے، ہم اگر پاکستان میں بات کرتے ہیں تو ہم بلوچستان میں بلوچ صوبے کے حقوق کی بات کرتے ہیں، اگر ریاستی قوت نے پشتون بیلٹ کی قوموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے، اگر ریاستی قوتوں نے بلوچوں کی زمینوں پر ان کے پہاڑوں پر قبضہ کیا ہے، تو میں ان کو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم بلوچستان کے چاہے پشتون عوام ہو چاہے، بلوچ عوام ہو، ان کی ایک انچ زمین بھی آپ کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب
یہاں تو ایک طاقتور ذہن کہتا ہے کہ جو ہم کہتے ہیں وہی پاکستان کی وفاداری ہے، میں معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ تاریخ ہماری گزر چکی ہے یہ انگریز کا ورثہ ہے، برصغیر میں جو انگریز کا مخالف تھا ہزار مرتبہ وہ ہندوستان کا وفادار ہو لیکن انگریز کے مخالف کو وہ غدار کہتا تھا اور جو انگریز کا خوش آمدگر، اس کے ٹکڑوں پر پلنے والے، ان کو جاگیریں عطاء کی، وہ بڑے وفادار نکلے۔ آج پاکستان میں ہزار بار پاکستان کے وفادار بن جائیں لیکن اگر اسٹیبلیشمنٹ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ کو غدار کہا جاتا ہے، یہ وہی روایات ہیں جو اس زمانے سے ہماری اس ملک میں چلی آرہی ہیں، اس فکر کو تبدیل کرنا ہوگا، اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، ان ترجیہات کو تبدیل کرنا ہوگا اور ان شاءاللہ اگر ہم نے فرقہ واریت کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قادیانی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے اسرائیلی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قوموں کے درمیان نفرتیں پھیلانے والی سیاست کو شکست دی ہے تو ان شاءاللہ ہم اس ذہنیت کو بھی شکست دیں گے کہ پاکستان کے وفادار کو کیوں غدار کہا جاتا ہے، اگر وہ اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رائے کرے گا۔
آئیں! ہم پاکستانی ہیں، معاملات ٹھیک کرو، ہم اس قوم کے افراد ہیں، ہمیں مطمئن کرو یہ کیا الیکشن ہے اور دھاندلی کر کے اپنی اسمبلیاں بنا دی، اگر اس طریقے سے یہاں پر اگر یہ اسمبلیاں بنی ہیں، سندھ کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، پنجاب کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، یہ سارے کے سار�� وہ سوالات ہیں جو ہمارے ملک کی سیاسی نظام کے اوپر ہیں، ہم نے یہ جنگ لڑنی ہیں اور ان شاءاللہ قوم ایک ہوگی تو جیتیں گے ان شاءاللہ
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
پاکستان کا مین سٹریم میڈیا ھمیشہ سے طاقتور قوتوں کی ایماء پر یا کچھ سیاسی لوگوں کو اقتدار میں لانے کے لیے انکی آواز بنا ھے یا کچھ سیاسی قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے ان کی آواز دبانے کے لیے استعمال ھوا ھے۔ پھر بھی صحافت کے قبیل کے لوگ غلامی کے طوق کا طعنہ سیاستدانوں کو دیتے ھیں۔
بلوچستان اس وقت امن وامان اور معاش کے حوالے سے غیر معمولی صورتحال سے دوچار ھے اور اس طرح کی صورتحال میں بھی جب پچھلے چار پانچ دن سے پٹرول کا لیٹر آٹھ سو سے ھزار روپے تک بھی بلیک میں مل رھا تھا اور امن وامان کی اس بدترین صورتحال میں اتنا بڑا مجمع اکھٹا کرکے کے جس طرح خوف کے بت کو توڑنے کا کارنامہ جمعیت اور مولانا صاحب نے انجام دیا اس کی تحسین کی بجائے جسطرح بلیک آؤٹ کرکے آواز دبائ گئی اس سے میں سٹریم میڈیا کا تاثر اور بھی خراب ھوا ھے
جسطرح ٹیلی فون ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ جیسے کمیونیکیشن کے آلات کا آج کوئ پوچھنے والا نہیں ایسا نہ ھو کہ کل اس سوشل میڈیا کے ھاتھوں آپ کی بھی وھی حالت نہ بن جائے کہ پھر اخبار کی طرح مہینوں مہینوں آپ کو دیکھنے والا بھی کوئ نہ ھو اور آپ کو فقط یوٹیوب پر ولاگز کا محتاج ھونا پڑے،
ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ کون سی عقل ہے اور کیا یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند۔ یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ کہتے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں دہشتگردی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبرپختونخوا میں کتنے ہی فوجی آپریشنز کیے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئیں ہم۔ مولانا فضل الرحمان کا پشین جلسے سے خطاب
عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔
ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب
یہ مولانا کی جمعیت علمائے اسلام کا بلوچستان کے علاقے پشین میں جلسہ عام ہے پاکستان میں اس وقت کوئی دوسری جماعت بلوچستان میں اتنا بڑا جلسہ نہی کر سکتی ہے اور یہ اس بلوچستان میں جہاں سرکاری لیڈر آف اپوزیشن باغیوں کی حمایت کرتا یہ پاکستان کی بات کر رہے ہیں
پہلے عوام پر ڈاکہ مارتے ہیں یہ 72 ارب ناجائز طور پر عوام کی جیب سے گئے ہیں اب شہباز شریف صاحب کے ڈرامے شروع ہو گئے کمیٹی بنا ڈالی ہے انکوائری ہو گئ
اور اس سے پہلے جو شہباز صاحب نے ایک کروڑ کمیٹیاں بنائی ان کی ��رح یہ ٹائیں ٹائیں فش ہو جائے گا