بوگس اور غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری
ای چالان سے بچنے کے لیے نمبر پلیٹس سے چھیڑ چھاڑ، جعلی یا غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے استعمال پر سخت کارروائی جاری ہے۔
ایکسائز کے مقررہ نمونے کے مطابق نمبر پلیٹ استعمال کریں، محفوظ رہیں اور قانون کی پابندی کریں۔
کیا Meezan Bank اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ 18 مارچ 2026 کو صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حتمی فیصلے پر بھی کئی ماہ گزر جانے کے باوجود عملدرآمد نہ کرے؟
کیا ایک عام شہری کے حق میں آنے والا ریاستی سطح کا حتمی فیصلہ بھی محض ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گیا ہے؟
اگر ایسا نہیں، تو پھر یہ بتائیے کہ میرے حق میں جاری ہونے والے اس حتمی فیصلے پر آج تک عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟
یہ صرف Rs. 216,000 کا معاملہ نہیں۔
یہ ایک عام پاکستانی شہری کے انصاف، ریاستی اداروں کے فیصلوں کے احترام، قانون کی بالادستی اور عوام کے اعتماد کا معاملہ ہے۔
دو سال سے زیادہ گزر چکے ہیں، مگر میں آج بھی اپنے حق میں آنے والے ایک حتمی فیصلے پر عملدرآمد کا منتظر ہوں۔
02 جون 2024 کو میرے Meezan Bank اکاؤنٹ سے ایک جعلی آن لائن لنک کے ذریعے تقریباً Rs. 216,000 نکال لیے گئے۔ مجھے ایک معمولی ٹرانزیکشن کا تاثر دیا گیا، جس کی وجہ سے میں نے OTP درج کیا، مگر چند لمحوں بعد میرا اکاؤنٹ تقریباً خالی ہو چکا تھا۔
میں نے فوری طور پر بینک سے رابطہ کیا، شکایت درج کروائی اور مسلسل follow-up کرتا رہا، لیکن تقریباً آٹھ دن بعد مجھے یہی جواب دیا گیا کہ چونکہ OTP استعمال ہوا ہے، اس لیے بینک ذمہ دار نہیں۔
میرا مؤقف شروع سے ایک ہی تھا۔
جس جعلی لنک پر ٹرانزیکشن کی گئی، اس میں صرف 35 روپے کا ذکر تھا۔ اگر OTP اسی ٹرانزیکشن کے لیے تھا تو پھر تقریباً Rs. 216,000 کی ٹرانزیکشن کیسے ہو گئی؟ میں نے یہی سوال بارہا اٹھایا، مگر بینک نے میری بات قبول نہیں کی اور مکمل ذمہ داری مجھ پر ڈال دی۔
اس کے بعد میں Banking Mohtasib Pakistan گیا۔ تقریباً چھ ماہ تک کیس چلتا رہا، لیکن آخرکار وہی فیصلہ آیا جو پہلے دن سے بینک کا مؤقف تھا۔
بہت سے لوگ شاید اس مرحلے پر ہار مان لیتے۔
لیکن میں نے ہار نہیں مانی۔
میں قانون دان نہیں ہوں، لیکن میں نے متعلقہ قوانین کا مطالعہ کیا، اپنے کیس کو سمجھا، اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اگلا قانونی قدم اٹھایا۔
میں نے President Secretariat (Aiwan-e-Sadr) کے سامنے Representation دائر کی۔
میری اپیل منظور ہوئی، باقاعدہ سماعت مقرر ہوئی، اور میں بغیر کسی وکیل کے خود پیش ہوا، جبکہ Meezan Bank کی جانب سے ان کے وکیل پیش ہوئے۔
یہ لمحہ میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا کہ سماعت جسٹس (ر) عرفان قادر صاحب نے کی۔ میں نے آغاز میں ہی عرض کیا تھا کہ مجھے آپ پر مکمل اعتماد ہے، چاہے فیصلہ میرے حق میں آئے یا میرے خلاف۔ میرے لیے یہی اعزاز تھا کہ پاکستان کے ایک ممتاز قانونی ذہن نے میری بات سنی۔
دونوں فریقین کو مکمل موقع دیا گیا، دلائل سنے گئے، اور پھر ایک تفصیلی فیصلہ جاری ہوا۔
فیصلے میں واضح طور پر لکھا گیا کہ:
• میرے ساتھ فراڈ ہوا۔
• میرے خلاف کسی bogus conduct کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
• Meezan Bank کو صارف کا اعتماد بحال کرنے کے لیے میرے نقصان کی تلافی کرنی چاہیے۔
اس کے بعد 18 مارچ 2026 کو صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ نے اس فیصلے کی منظوری دیتے ہوئے Meezan Bank کو واضح ہدایت دی کہ میرے اکاؤنٹ میں Rs. 216,000 کریڈٹ کیے جائیں۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ 18 مارچ 2026 کو حتمی فیصلہ آنے کے باوجود آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
میں نے متعدد ای میلز لکھیں، ہیلپ لائن پر رابطہ کیا، برانچ وزٹس کیے، فیصلے کی نقول فراہم کیں، سنوائی پورٹل پر شکایت درج کروائی، دوبارہ Banking Mohtasib کو بھی لکھا، مگر کوئی مؤثر پیش رفت نہ ہو سکی۔ حال ہی میں صرف یہ بتایا گیا کہ معاملہ “Senior Management” کے پاس ہے، جبکہ حتمی فیصلہ آئے کئی ماہ گزر چکے ہیں۔
میرا مقصد کسی ادارے کو بدنام کرنا نہیں۔
میرا مقصد صرف یہ سوال اٹھانا ہے:
اگر ایک حتمی فیصلہ موجود ہے، تو پھر اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟
میں آج بھی امید رکھتا ہوں کہ Meezan Bank اس فیصلے پر عمل کرے گا، اپنے صارف کے اعتماد کو بحال کرے گا، اور اس غیر معمولی تاخیر کی واضح اور معقول وضاحت دے گا۔
آخر میں، میں جسٹس (ر) عرفان قادر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پوری توجہ سے کیس سنا اور میرٹ پر فیصلہ دیا۔ ایسے لوگ ہی عام شہری کو یہ امید دیتے ہیں کہ انصاف کا دروازہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
میں نے دو سال تک ہر قانونی راستہ اختیار کیا۔ جب حتمی فیصلے پر بھی عملدرآمد نہ ہو، تو پھر ایک عام شہری کے پاس حقائق عوام کے سامنے رکھنے کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟
پاکستان میں افغانستان میں موجود فتنہ خوارج کے خلاف زمینی کارروائی باضابطہ طور پر شروع کردی ہیں
پاکستان نے پاک۔افغان سرحد کے ساتھ زمینی آپریشن اور مربوط حملے کیے ہیں
افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی کارروائیاں کی گئی جن کے نتیجے میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں
مجموعی طور پر ان کارروائیوں میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں
🔺🇵🇰❌ Taliban:
Captured Afghan terrorist accept how they attacked Karachi Rangers HQ.
Pakistan vows to launch a deadly counter attack on Afghanistan for backing JuA.
Lost 2-0 to SL after 27 yrs
Lost 3-0 to NZ after 12 yrs
Lost 3-1 to aus after 11 yrs
Lost 2-0 to Ireland now
Gautam Gambhir is arguably the worst coach Indian team has ever had.
Abhishek Sharma now holds the unwanted record for the joint-most ducks in a calendar year and the most by an Indian in T20s, with nine ducks in 2026. 🇮🇳💔
#AbhishekSharma#India#T20Is#Sportskeeda