وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا گورنر بلوچستان، صوبائی وزراء، حکومتی و اپوزیشن اراکین اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ۔
صوبائی بجٹ ، عوامی بہبود ، اور مجموعی سیاسی و سماجی صورتحال پر تبادلہ خیال، شرکاء کا جمہوری روایات کے فروغ، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کاوشوں کے عزم کا اعادہ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا عشائیہ کے شرکاء سے ملاقات میں اظہار خیال۔
بلوچستان اسمبلی کی باہمی عزت، احترام اور جمہوری روایات صوبے کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں، اختلافِ رائے کے باوجود احترام کی فضا برقرار رہتی ہے، آئندہ مالی سال کا بجٹ عوامی خواہشات، زمینی حقائق اور صوبے کی ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جا رہا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کی زندگی میں بہتری، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے، تعلیم، ��حت، آبنوشی، زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بجٹ میں دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی تاکہ ترقی کے ثمرات ہر خطے تک پہنچ سکیں، مالی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا، عوام دوست اور ترقی پسند بجٹ پیش کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں مخلوط حکومت عوامی فلاح، معاشی استحکام اور صوبے کی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ یہ اعزاز کی بات ہے کہ صوبائی حکومت مکمل اتفاق رائے اور مثبت سیاسی ماحول میں اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل۔
بجٹ سازی کے عمل میں باہمی اتفاق رائے خوش آئند روایت ہے، مسلسل تیسرے بجٹ میں بھی اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ تنقید اپوزیشن کا جمہوری حق ہے تاہم مثبت اقدامات کو سراہنا بھی سیاسی بلوغت اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ بلوچستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اجتماعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، اپوزیشن صوبے کے عوام کے مفاد، ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر مثبت اقدام میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی، لیڈر آف دی اپوزیشن میر یونس عزیز زہری۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایات کے مطابق محرم الحرام کے دوران امن و امان اور عزاداروں کے تحفظ کیلیئے تمام دستیاب وسائل بروئےکار لائے جائیں گے، معاونِ خصوصی برائے محکمہِ داخلہ بلوچستان۔
بلوچستان میں مالی سال 2026-27 کیلیئے 1089 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔ بجٹ بلوچستان کی ترقی کیلیئے ایک جامع روڈ میپ ہے۔ عوامی فلاح، مالی استحکام اور پائیدار ترقی ہماری ترجیح ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین عبدالکریم جعفری کی قیادت میں کیسکو حکام کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں کیسکو کی مجموعی کارکردگی، بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری، صا��فین کو درپیش مسائل، واجبات کی وصولی، لائن لاسز میں کمی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اے آئی بیسڈ میٹر ریڈنگ سسٹم سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کیسکو حکام نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ادارے کی کارکردگی، جاری اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی وفد نے بجلی کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی میٹر ریڈنگ سسٹم کے نفاذ اور دیگر جدید اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ عوام کو بجلی کی بلاتعطل اور مستحکم وولٹیج کے ساتھ فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت، کارکردگی اور صارفین کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ واجبات کی وصولی اور بجلی چوری کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مفاد کے منصوبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے وفاقی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔
ویمن پارلیمنٹرین کاکس کے ایک وفد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پارلیمانی امور میں خواتین اراکین کے کردار، خواتین کی سیاسی شمولیت، قانون سازی کے عمل میں ان کی مؤثر نمائندگی اور خواتین کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے خواتین کی فلاح و بہبود، بااختیار بنانے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی مؤثر شرکت کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم اور مؤثر حصہ ہیں اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں ان کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور سیاسی نمائندگی کے شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے وز��ر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین اراکین اسمبلی کی آراء اور تجاویز حکومت کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کی مشاورت سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ملاقاتوں میں باہمی تعاون کے فروغ، عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی مجموعی ترقی سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز اسکالرشپ پروگرام میں بلوچستان کے تین نو تشکیل شدہ ریونیو اضلاع ویسٹ ڈیرہ بگٹی، برشور اور تمپ کو بھی شامل کر لیا گیا، خالد ماندائی
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ک�� تعلیم دوست وژن اور صوبے کے نو��وانوں کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے عزم کے تحت شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز اسکالرشپ پروگرام میں بلوچستان کے تین نو تشکیل شدہ ریونیو اضلاع ویسٹ ڈیرہ بگٹی، برشور اور تمپ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اس اہم اقدام کے بعد مذکورہ اضلاع کے میٹرک امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹاپ پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات بھی اسکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو سکیں گے، جس سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے نئے مواقع میسر آئیں گے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کے تحت اسکالرشپ پروگرام کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع کے باصلاحیت طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی شمولیت سے وہاں کے ہونہار اور محنتی طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور انہیں اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت تعلیم کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز اسکالرشپ پروگرام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے خالد ماندائی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈ��منٹ فنڈ صوبے کے مستحق اور ذہین طلبہ کو تعلیمی معاونت فراہم کرنے کے مشن پر گامزن ہے اور حکومت کی پالیسی کے مطابق کسی بھی باصلاحیت طالب علم کو مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسکالرشپ پروگرام میں نئے اضلاع کی شمولیت سے تعلیمی میدان میں مثبت مسابقت کو فروغ ملے گا اور نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔