تھوتھا چنا باجے گھنا
جب ڈیل کیساتھ جیل ختم اور اقتدارِ بے اختیار شروع ہو جائے تو مخالفین کیخلاف ایسی جگتیں مارنا آسان ہو جاتا ہے-
جب جیل پمز اسلام آباد اور لندن کے ھسپتالوں میں کٹی ہو تو مخالفین پر ایسی سستی جگتیں مارنا ایک بے اختیار صدرِ مملکت کو زیب نہیں دیتا۔ ُ
آئینی طور پر بے اختیار اور سیاسی طور پر غیر مقبول لوگ سارا دن بیٹھ کر خود کو اہم ثابت کرنے کے طریقے سوچتے رہتے ہیں
اہم خبر بظاہر رپورٹ کے مطابق عمران خان کی آنکھ کے مسئلے کے ساتھ شدید طریقے سے کھیلا جا رہا ہے جس کا اظہار عمران خان یوں کرتے ہیں " اکتوبر 2025 تک میری نظر بالکل ٹھیک تھی نظر اچانک بلر ہونا شروع ہوئی تو جیل اتھارٹیز کو اس کی شکایت کی جس کا کوئی ازالہ نہیں کیا گیا پھر دائیں آنکھ کی بینائی اچانک اور مکمل جانے کی شکایت کے بعد پمز ڈاکٹر نے علاج کیا لیکن پھر بھی 15 فیصد تک بینائی آئی ہے " عمران خان کا انکشاف
یہ بشری تسکین بالکل جھوٹ بول رہی ہے کہ اس کا اکاؤنٹ نہیں تھا ،بالکل اس کا ہی اکاؤنٹ تھا چھ ہزار سے زیادہ ٹویٹس ہوۓ
اگر بشری کا نہیں تھا تو پھر فیک اکاؤنٹ والا اکاؤنٹ کو بند کیوں کرے گا ؟ اس اکاؤنٹ کے برہنہ ٹویٹ ہوۓ ،شمع جنیجو کے ٹویٹ کوٹ کیا ،پی ایم ایل این کی کمپین کو پرموٹ کیا
لو جی سچ خود ہی اپنی زبان سے نکل گیا۔
پس ثابت ہوا کی یہ سٹوری پلان یہ تھا کہ اگر 26 نومبر کی تحریک کو گنڈاپور کے ذریعے ناکام نہ بنایا جا سکا اور بشری بی بی کی قیادت میں احتجاج ہاتھ سے نکل گیا تو اس کو ان کہانی کا استعمال کیا جائے گا۔
اب ایک سال بعد اس کو 27ویں ترمیم سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر لیا ۔۔
کس قدر شرمناک کردار ہے آپ کا انصار صاحب @AnsarAAbbasi
صاف لگے ہوئے کہ ایک جماعت کو جیتنے نہ دو کہ وہ جیت گئے عوام نے فیصلہ دے دیا تو پاکستان کو نقصان ہوگا۔
دوسری جانب آپ ہی تھے یاد تو آتی ہوگی والے۔ افسوس صد افسوس
لعنت اِس شخص نجم ولی خان پر اور شرم آنی چاہئے جو قومی خزانے سے اِس بے حس شخص کو پی ٹی وی میں ہڈی ڈال رہے ہیں۔ چار سالہ معصوم بچی کا باپ چلا گیا پورا خاندان اور تمام پولیس فورس سوگوار ہے اور یہ مرحوم ایس پی عدیل اکبر کو بزدل اور احمق لکھ رہا ہے۔ لعنت ایسی غلیظ اور بیمار ذہنیت پر
آج کے الفاظ کچھ اور، کل کے الفاظ کچھ اور!
یہ تبدیلی حقیقی ہے یا وقتی؟ منافقت چھوڑو !
اقتدار دو تو وفادار، نہ دو تو ذمے دار!
بیانیہ کیوں بدلا؟ تاریخ محفوظ ہو جاتی ہے!
پوری ویڈیو دیکھیں
The Parliamentary Committee on national security unanimously agreed to continue talks with Tehreek-i-Taliban Pakistan (TTP). All the politicians attending the meeting agreed on having a dialogue with the banned outfit. All the proceedings will be supervised by the Parliament.
کیا محترمہ عاصمہ شیرازی صاحبہ ( کتے کی دم محاورے والی) آپکو پنجاب میں مریم نواز کے بارے ایسا سوال کرتے نظر آئیں گیں ؟ یا یہ سہولت صرف کے پی اور بونیر کے لئے ہی ہے ؟ کھل کر ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کریں۔ صحافت اسے نہیں کہتے۔
یہ کھلی قتل کی دھمکیاں ہیں، یہ سیاسی ،عدالتی قتل کے ڈراوے ہیں، ایک مقبول سیاسی رہنما کو 2 سال قید میں رکھ کر مقاصد حاصل نہ ہونے پر پھر میڈیا کے ذریعے کھلے عام اس طرح کی دھمکیاں دینا افسوسناک اور شرمناک ہے۔
عدالتیں اگر چہ کینگرو کورٹس بن گئی ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے لیڈرشپ کو کو اپنے اسیر بانی لیڈر کو ملنے والی یہ دھمکیاں عدالتوں کے نوٹس میں لانا چاہئے۔
اقبال اور قائد کے پاکستان میں اختلافی سیاست جرم بن گیا ہے۔