دراصل واقعہ یہ تھا کہ ہم تقریباً سات بجے مویشی منڈی گئے تھے۔ وہاں ایک گھنٹے تک ریٹ وغیرہ معلوم کرنے کے بعد رات نو بجے کے لیے ایک ایز لائیو ریکارڈ کی، جسے ہیڈ آفس بھیجنا تھا مگر نیٹ ورک درست کام نہیں کر رہا تھا۔ جب باہر نکلے تو گاڑی پنکچر تھی۔ ڈرائیور نے کہا کہ پولیس والوں نے ٹائر پنکچر کیا ہے، تاہم پولیس اہلکار اس بات سے انکار کرتے رہے۔
جونہی ھم روانہ ہو رہے تھے کہ اسی دوران ہم نے دیکھا کہ چند پولیس اہلکار ڈرائیور پر تشدد کر رہے ہیں، ہم نے اس کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔ اس پر ایک اہلکار ناراض ہوا اور کہا کہ ویڈیو کیوں بنا رہے ہو؟ میں نے کہا یہ پبلک پلیس ہے، آپ تشدد کریں گے تو ہم کوریج بھی کریں گے اور رپورٹ بھی۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی میں بیٹھ تھانے چلتے ہیں، ہم روانہ ہوگئے۔ راستے میں دیگر میڈیا ساتھیوں نے ہمیں دیکھ لیا،بات اعلی افسران تک پہنچ گئی۔ ایس ایچ او، ڈی ایس پی کا فون ایا اور ہمیں تھانا پہنچنے کی بجائے راستے میں ہی روک دیا، واپس پر افسران نے ان اہلکاروں کی سرزنش کی۔
میرا فون بھی درست کام نہیں کر رہا تھا، اس لیے میں نے کسی سے خود رابطہ نہیں کیا۔
سوشل میڈیا پر یہ تاثر گیا کہ مجھ پر تشدد ہوا، حالانکہ اصل معاملہ صرف کوریج روکنے کا تھا۔ پولیس افسران نے متعلقہ اہلکار کو معطل کر دیا ۔ آخر میں میں نے خود افسران سے کہا کہ عید کی رات ہے، معاملہ ختم کریں اور اہلکار کو مزید سزا نہ دیں۔
بعد میں فون آن ہونے پر اندازہ ہوا کہ معاملہ
کافی وائرل ہو چکا تھا۔
تمام ساتھیوں کا شکریہ جنہوں نے ساتھ دیا۔
لاہور سے پختونخواہ کے لئے گاڑیوں میں کوئ سیٹ نہیں مل رہی ہے،
اس سے اندازہ لگائیں کہ تعلیم ،روزگار اور علاج کے لئے کروڑوں پختون بھائی لاہور/پنجاب میں آباد ہیں.
لیکن جب لوگ کہتے ہیں لاہور/پنجاب میں گورننس بہتر ہے تو کچھ ناسمجھ دوستوں کو برا لگتا ہے.
امپورٹڈ وزیر خزانہ، پیرا فورس اور خوشامدیوں کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی سپورٹ گراؤنڈ لیول پر تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ آپ جتنے مرضی ہے نئے پروجیکٹ لگائیں لیکن سچ یہی ہے کہ مہنگائی کے معاملے میں حکومت کے اقدامات نہایت غیر سنجیدہ ور ظالمانہ ہیں۔
@CMShehbaz@MaryamNSharif@pmln_org
یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ والین کے لئے سب اولاد برابر ہے۔ والدین کبھی بھی بچوں میں برابری نہیں کرتے۔ اولاد میں ایک دو بچے ان کے فیورٹ ہوتے ہیں اور وہ چاہے ان کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کریں وہ ان سے ہی محبت کرتے اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔
جب والدین کی عمر بڑھ جاتی ہے تو وہ اُس بیٹے یا بیٹی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو نرم مزاج، محبت کرنے والا، بردبار اور کشادہ دل ہو؛
جو اُن سے تنگ نہ ہو، اُن پر جھنجھلائے نہیں، اور جس سے وہ ناراض ہونے کا خوف محسوس نہ کریں، بلکہ جس پر وہ بے جھجھک بہت سا حق جتاسکیں۔
پھر وہ اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات، اپنے طبی معائنے کے اوقات طے کرنے، تقریبات میں ساتھ جانے، اور خاص ملاقاتوں میں رفاقت کے لیے اسی پر زیادہ بھروسا کرتے ہیں۔
یہ والدین کا وہ اطمینان ہے جو خریدا نہیں جا سکتا، بلکہ اللہ کی طرف سے اُس بیٹے یا بیٹی کے لیے ایک خاص عطیہ ہوتا ہے۔
پس خوش نصیب ہے وہ جسے اُس کے والدین نے اپنے سب بہن بھائیوں میں چن لیا، اور اپنی تھکن میں پناہ، اور اپنی ضرورت میں سہارا بنا لیا۔