کسی ایک انسان کا صرف ایک دن خراب ہو جائے تو وہ برسوں اسے یاد رکھتا ہے۔
مگر سندھ کے 6 کروڑ عوام کے 6,575 دن (18 سال) بدانتظامی، کرپشن، محرومی اور نااہلی کی نذر کر دیے گئے۔
اب بس! سندھ کے عوام کو جواب چاہیے، حساب چاہیے۔
#حساب_ہوگا_احتجاج_ہوگ
Thread
1/2 جو افرادMQMلندن کےمتحرک ہونے کی بات کررہے ہیں وہ سوشل میڈیا کے جھوٹ کوحقیقت سمجھ رہے ہیں سوشل میڈیا پر 60فیصد جھوٹ ہوتا ہے اورلندن کےمتحرک ہونے کی خبر بھی اسی60فیصد جھوٹ کاحصہ ہےلوگوں کوگمراہ کرکے یاخواب دکھا کرمصیبت میں مبتلا نہیں کریں،مزیدکریک ڈاؤن ہونے والاہے۔۔۔۔
@amberdanishh@iqrarulhassan InshAllah Karachi kay log ab in Peoples Party ki shaitaniyat k khilaf muttahid ho rahey hai jald inko shehar se nikal phenkengay. Ajj ki MQM Pakistan k sath sehar ka Sindhi, Pathan, Muhajir , Baloch, Sariki, Tamam qoumiyat se taluq rakhnay wala Karachi wala bank kay MQM kay sath
ابھی کراچی کے حالات پر آپ روز بولنا شروع کریں، اندازہ ہوجاے گا۔ روانہ کی بنیاد پر جو لوگ مجھے گنٹکہ خور، راتب خور، الطافی، جھوٹی مکارعورت لکھتے ہیں، اسے تو میں کسی گنتی میں نہیں لاتی لیکن میری تصاویر ڈال کر جہاں میری کردار کشی کی گئ، اور عزت بچانے کیلیے بلاک ک��نے سے پہلے جہاں مجھے اسکرین شاٹ لینا یاد رہا، وہ پوسٹ کر رہی ہوں ۔
روایتی سرحدی، بحری اور فضائی دفاع کے ساتھ ساتھ سائبر میدان میں بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت قومی خودمختاری کے تحفظ کا اہم ستون ہے۔
There is no power on earth that can undo Pakistan
#PakistanZindabad#CyberAttack
پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی اب اپنے انجام کو ہے۔ کراچی والوں کو اپنے کھیت کے ہاری سمجھ کر ظلم پر ظلم ڈھائے ہے۔ ابھی کراچی والے پھر تمہارے ظلم میں پھسے ہاری کسان بھی تم سے نجات پائنگے
شاباش کراچی والوں رکنا نہیں ہے👇
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
کراچی والوں!
پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 140A کے نفاذ میں رکاوٹیں ڈالیں، 26ویں اور 27ویں ترمیم کے باوجود اختیارات کی یونین کونسل تک منتقلی کو اپنے تکبر اور بلیک میلنگ کے ذریعے روکے رکھا۔
لیکن اب جس طرح کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے، اس پر آپ سب کو دل سے Love You 🥰
اب کراچی یا تو وفاق چلائے گا، یا پھر ک��اچی کی بااختیار یونین کونسلوں کے نمائندے۔
اس ہیشٹیگ کو ہر جگہ ہر #کراچی والا استعمال کر کے اپنی آواز رکارڈ کروائے
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
بریکنگ،
کراچی کے مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف مبینہ آپریشن کی اطلاعات،
شہر کے مختلف علاقوں سے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان گرفتار نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا
رات گئے ایم کیو ایم کے کارکنان کا گلشن اقبال پو��یس اسٹیشن کے باہر احتجاج
سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی کی سیاست ایک نئے موڑ میں داخل ہوچکی ہے۔
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں عوامی بے چینی اب دیواروں پر بھی نظر آنے لگی ہے۔
کراچی کو فوج کے حوالے کرو، کراچی کو وفاقی حکومت کے حوالے کرو—یہ چاکنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کے عوام مزید ناکام صوبائی طرزِ حکمرانی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
یہ صرف تحریریں نہیں، یہ ایک زخمی شہر کی اجتماعی پکار ہے۔
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی کی سیاست ایک نئے موڑ میں داخل ہوچکی ہے۔
شہر قائد کے مختلف علاقوں م��ں عوامی بے چینی اب دیواروں پر بھی نظر آنے لگی ہے۔
کراچی کو فوج کے حوالے کرو، کراچی کو وفاقی حکومت کے حوالے کرو—یہ چاکنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کے عوام مزید ناکام صوبائی طرزِ حکمرانی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
یہ صرف تحریریں نہیں، یہ ایک زخمی شہر کی اجتماعی پکار ہے۔
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
کراچی کی اکثریتی آبادی اب خاموش نہیں۔
پیپلز پارٹی کی اٹھارہ سالہ متعصبانہ، ناکام اور جان لیوا حکمرانی کے خلاف عوام سوشل میڈیا سے لے کر شہر کی گلیوں تک متحرک ہو چکے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں
“کراچی کو وفاق کے حوالے کرو”
کے نعرے، وال چاکنگ اور بینرز عوامی بے بسی نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی آواز ہیں۔
یہ کسی ایک جماعت کا مطالبہ نہیں، یہ ایک زندہ شہر کے شہریوں کی بقا کی جدوجہد ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالے_کرو
کا مسلسل ٹاپ ٹرینڈ رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی مزید تجربات اور نااہلی کا متحمل نہیں ہو سکتا
کراچی کی اکثریتی آبادی اب خاموش نہیں۔
پیپلز پارٹی کی اٹھارہ سالہ متعصبانہ، ناکام اور جان لیوا حکمرانی کے خلاف عوام سوشل میڈیا سے لے کر شہر کی گلیوں تک متحرک ہو چکے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں
“کراچی کو وفاق کے حوالے کرو”
کے نعرے، وال چاکنگ اور بینرز عوامی بے بسی نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی آواز ہیں۔
یہ کسی ایک جماعت کا مطالبہ نہیں، یہ ایک زندہ شہر کے شہریوں کی بقا کی جدوجہد ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالے_کرو
کا مسلسل ٹاپ ٹرینڈ رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی مزید تجربات اور نااہلی کا متحمل نہیں ہو سکتا
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کو Banana Republic بنا دیا ہے،جہاں آئین نہیں، طاقت چلتی ہے؛
جہاں قانون نہیں، پولیس گردی بولتی ہے۔
گلشن اقبال میں شہری اور ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان صرف“کراچی کو وفاق کے حوالے کرو”
کا بینر لگا رہے تھے کہ وردی میں ملبوس اہلکاروں نے بینرز اتارے، تشدد کیا اور کارکنان کو غیرقانونی طور پر غائب کر دیا۔
جب حق پرست رکنِ سندھ اسمبلی فرحان انصاری گلشن تھانے پہنچے تو کارکنان کو وہاں سے بھی غائب کردیا تھا یہ ہے پیپلز پارٹی کی جمہوری دہشتگردی اور Banana Republic کا عملی ثبوت۔
کراچی سوال کر رہا ہے کیا پرامن احتجاج جرم ہے؟
کیا مطالبہ کرنا بغاوت بن چکا ہے؟
اب بہت ہو چکا۔ #کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
#جمہوری_دہشتگردی_بند_کرو
گلشنِ اقبال میں شہریوں نے پرامن اور آئینی حق کے تحت“کراچی کو وفاق کے حوالے کرو” کے بینرز آویزاں کیے تو جواب میں پولیس گردی، تشدد اور نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں دے دی گئیں۔
گلشن پولیس اسٹیشن کے سامنے علاقہ مکین، نوجوان اور ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن سراپا احتجاج ہیں۔ یہ احتجاج کسی جماعت کے لیے نہیں، اپنے شہر، اپنے حق اور اپنی بقا کے لیے ہے۔
سندھ حکومت باز آجائے بدانتظامی پر آواز اٹھانا جرم نہیں، اپرامن احتجاج کو کچلنا آمریت کی نشانی ہے۔
اب یہ آواز دبے گی نہیں #کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
#جمہوری_دہشتگردی_بند_کرو
پہلے بغیر وردی کے مسلح افراد پر مشتمل الذوالفقار پیپلز پارٹی نے بنائے تھے،
اور آج کالی وردی میں سندھ پولیس پیپلز پارٹی کی وہی الذوالفقار بنی ہوئی ہے۔
دیکھیے سندھ پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب، جہاں بھٹو خاندان کی قیادت کے نغموں پر نئے بھرتی ہونے والے اہلکار ایسے مارچ کر رہے ہیں جیسے یہ کوئی سیاسی ملیشیا ہو، ریاستی فورس نہیں۔
یہی ہے پیپلز پارٹی کی جمہوریت،
یہی ہے سندھ میں قانون کا حال۔
#جمہوری_دہشتگردی_بند_کرو
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
یہ کیسی دوہری پالیسی ہے؟
پیپلز پارٹی کی سرپرستی میں کام کرنے والی الذوالفقار یعنی سندھ پولیس نے اس وقت کتنی پھرتی دکھائی جب سندھو دیش کے نام پر کھلے عام پاکستان مخالف نعرے سندھ پولیس کے سامنے لگائے جا رہے تھے؟
یا پھر نشانہ صرف کراچی کے وہ پڑھے لکھے، باشعور نوجوان ہیں جو مہذب انداز میں بینرز پر اپنی بات لکھ کر“کراچی کو وفاق کے حوالہ کرو” کا آئینی مطالبہ کر رہے تھے؟
اسی ناانصافی، جبر اور جمہوریت کے نام پر ہونے والی دہشتگردی کے خلاف آج پورا کراچی ایک زبان ہو کر کہہ رہا ہے👇
#جمہوری_دہشتگردی_بند_کرو
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کر
پاکستان کا طیارہ اغوا کرنے والے کوئی باہر کے دشمن نہیں تھے بلکہ پیپلز پارٹی کے بانی کے بیٹے کی بنائی گئی دہشتگرد تنظیم الذوالفقار کے لوگ تھے۔
آج وہی جماعت سندھ پر مسلط ہے،وہی سوچ، وہی ہتھکنڈے،فرق صرف یہ ہے کہ اب سندھ ولیس کی وردی میں،قانون کے نام پر،اور جمہوریت کے لبادے میں۔کراچی جب سوال کرتا ہے تو گرفتاریاں ہوتی ہیں،
جب حق مانگتا ہے تو لاٹھیاں چلتی ہیں،اور جب وفاق میں شامل کرنے کی بات کرتا ہے تو مطالبہ کرنے والوں کو دہشت گرد ہونے کے طعنے دیتے ہیں جو ماضی کے سب سے بڑے دہشت گرد رہے یہ جمہوری دہشتگردی ہے۔
اب کراچی مزید خاموش نہیں رہے گا۔
#جمہوری_دہشتگردی_بند_کرو
#کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو
یہ ہے وہ گھٹیا مائنڈ سیٹ جس وجہ سے کراچی کو نسل پرست سندھ حکومت سے نجات دلانا ناگزیر ہوگیا ہے۔
کراچی والوں 👇 ہیشٹیگ پر اپنی رائے دیتے رہیں اور ٹرینڈ برقرار رکھیں کیوں کہ #کراچی_کو_وفاق_کے_حوالہ_کرو#جمہوری_دہشتگردی_بند_کرو