یہ سابق ٹیسٹ کرکٹر فاسٹ بولر عبدالرؤف خان ہیں جنہوں نے پاکستان کی جانب سے تین ٹیسٹ اور چار ون ڈے میچ کھیلے، اور 695 فرسٹ کلاس وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ایک پڑھے لکھے اور قابل انسان ہیں، جنہوں نے لاہور لیڈز یونیورسٹی سے سپورٹس سائنس میں ایم فل کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد ڈپلومے بھی کیے جن میں بائیو مکینکس ان کا خاص مضمون ہے، اسی موضوع پر انہوں نے ریسرچ کی ہے اور اپنا تھیسز بھی لکھا ہے۔
نیچے ان کی وہ تحقیق موجود ہے جس میں انہوں نے دنیا کے تیز ترین فاسٹ بولرز کی بائیومیکینکس کا تفصیلی جائزہ لیا اور اپنی فائنڈنگز قلم بند کیں۔
میں حیران ہوں کہ پاکستان، جسے ’’لینڈ آف فاسٹ بولرز‘‘ کہا جاتا ہے، وہاں اتنا قابل اور تجربہ کار شخص موجود ہونے کے باوجود اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟ عبدالرؤف خان نہ صرف عملی طور پر ایک کامیاب فاسٹ بولر رہے ہیں بلکہ علمی طور پر بھی پورا اعتماد رکھنے والے ماہر ہیں۔ اگر انہیں کسی اہم عہدے پر تعینات کیا جائے جہاں وہ نوجوان فاسٹ بولرز کی ٹریننگ اور ڈیویلپمنٹ پر کام کر سکیں، تو پاکستان بھی آسٹریلیا کی طرح سٹارک، ہیزل ووڈ اور کمنز جیسے بولرز کی ایک پوری کھیپ تیار کر سکتا ہے ایسے بولرز جو دنیا بھر کے بیٹرز کے لیے خطرے کی علامت بنیں۔
آسٹریلیا میں کرکٹ ہمارے جیسے جنون سے نہیں دیکھی جاتی، وہاں کرکٹ عوامی دلچسپی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آتی ہے۔ اس کی واضح مثال 2023 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پیٹ کمنز کی واپسی ہے، جہاں ائیرپورٹ پر استقبال تک نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے پاس اتنا ٹیلنٹ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں سپورٹس کو ایک سائنس سمجھ کر اس پر تحقیق کی جاتی ہے۔ کھلاڑیوں کی ہر چیز کو سائنسی انداز میں پرکھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر کام کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چھ ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔
پاکستان کو بھی ایسا ہی نظام لانا ہوگا اور اس کی بہترین شروعات عبدالرؤف خان کو سامنے لا کر کی جا سکتی ہے۔ ہماری ہمیشہ کی طاقت فاسٹ بولنگ رہی ہے، کم از کم اسی شعبے میں ہم اپنے سسٹم کو عالمی معیار تک لے جائیں۔
میری پی سی بی سے گزارش ہے کہ عبدالرؤف خان کو نوجوان فاسٹ بولرز کی تربیت اور ڈیویلپمنٹ کی ذمہ داری دی جائے۔
He is the right man for the right job.
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری پہچان (فاسٹ بولنگ ) جو کبھی ہماری سب سے بڑی طاقت تھی، کل کو ہماری کمزوری بن جائے اور نیا ٹیلنٹ آنا بند ہو جائے۔
یہ میری اپنی ریسرچ ہے جو میں نے مختلف اتھلیٹس اور فاسٹ باؤلرز پر کر رکھی ہے۔ یہاں پر چار باولرز ہیں جو کہ 150 سے زائد اسپیڈ سے باولنگ کرتے رہے۔ ان میں ایک چیز common ہے کہ چاروں کے بیک فٹ جب لینڈ کرتے ہیں تو یہ کسی اسپرنگ کی طرح work کرتے ہیں۔ یہ اس قدر تیز رفتاری سے اٹھتے ہیں کہ ان کی heels بھی گراونڈ سے ٹچ نہیں کرتیں اور اپنا momentum اگلے پاوں پر شفٹ کر دیتے ہیں۔نہ تو آپ یہ ٹیکنیک کسی کو سکھا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کوچنگ مینوئل کا حصہ ہے۔ نہ ہی کسی نے اس سے پہلے اس قدر گہرائی میں جاکر سمجھنے کی کوشش کی۔
دنیا بھر کے ایکسپرٹس، کوچز اور بائیومکینک ایکسپرٹس مختلف تھیوری پیش کرتے رہے۔ تحقیق بھی ہوئیں اور بہت کچھ لکھا بھی گیا مگر پھر بھی کیا وجہ ہے کہ اسکو adopt نہیں کروایا جا سکتا۔
اسی وجہ سے میری اس میں دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے ریسرچ کا فیصلہ کیا۔
ان چاروں کی جسمانی مماثلت حیران کن ہے۔ چاروں کے fast twitch fibers ہیں۔ جوکہ کسی بھی اتھلیٹ کو شارٹ ٹائم exclusive power دیتے ہیں جس میں حیران کن حد تک اسپیڈ میں اضافہ اور تمام muscles کی activation اور muscles contractionکا عمل انتہائی تیز ہو جاتا ہے۔
ان جیسے اتھلیٹس جو کہ جینیاتی طور پر fast twitch fibers کے حامل ہوتے ہیں وہ نیچرلی طور پر اس تمام طاقت، رفتار، agility, balance کے معیار پر پورا اترتے ہیں جوکہ کسی بھی تیز رفتار سپورٹس کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انکے مختلف جسمانی اعضا اس قدر تیزی سے حرکت کرتے ہیں کہ انکو کاپی کرنا یا سکھانا انتہائی ناممکن ہے۔ اور ایسے اتھلیٹس بعض دفعہ تمام تھیوری کو ہی ناکام بنا دیتے ہیں۔
کوچنگ اور فاسٹ باولنگ کوچنگ ایک مشکل ترین آرٹ ہے جس کو بغیر ایجوکیشن اور scientific knowledge کے انجام دینا ناممکن ہے۔
فاسٹ باولنگ ہمیشہ سے میرا پسندیدہ ترین subject رہا ہے۔ کھیلنے کے ساتھ تحقیق کے عمل سے گزرنا بھی میرے لئے اتنا ہی خوشگوار تجربہ ہے اور یہ کاوش مستقبل میں بھی جاری رکھوں گا۔
انتہائی شرمناک و دل دہلا دینے والا منظر! کشمور میں معصوم بچی کی لاش کیلئے ایمبولینس تک میسر نہیں، لاش چارپائی پر لے جانے پر مجبور! سرکاری اسپتالوں میں نہ ڈاکٹرز ہیں نہ سہولیات۔ صحت کا بجٹ کس کی جیب میں جا رہا ہے؟ منتخب نمائندے اور حکومتِ سندھ جواب دیں! غریب کب تک مرتا رہے گا؟
انٹرلوپ لمیٹڈ: برآمدات کے سہارے ترقی، مگر منافع پر دباؤ
انٹرلوپ لمیٹڈ (PSX: ILP) پاکستان کی نمایاں برآمدی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کمپنی 1992 میں قائم ہوئی اور 2019 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر لسٹ ہوئی۔ انٹرلوپ جرابیں، ڈینم، نِٹڈ کپڑے، ایکٹو وئیر اور عالمی برانڈز کے لیے ملبوسات تیار کرتی ہے جبکہ دھاگہ بھی بناتی ہے۔
کمپنی کا کاروبار پاکستان کے علاوہ سری لنکا، چین، امریکا، یورپ اور جاپان تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بڑے خریدار عالمی ریٹیلرز اور برانڈز ہیں، جس کی وجہ سے کمپنی کی آمدنی کا بڑا حصہ برآمدات سے آتا ہے۔
شیئر ہولڈنگ
30 جون 2025 تک انٹرلوپ کے تقریباً 1.4 ارب شیئرز موجود تھے۔
کمپنی کے تقریباً:
- 69.75 فیصد حصص ڈائریکٹرز، سی ای او اور خاندان کے پاس ہیں
- 19.69 فیصد عام عوام کے پاس ہیں
- 3.11 فیصد غیر ملکی کمپنیوں کے پاس ہیں
- 2.87 فیصد میوچل فنڈز اور موڈارباز کے پاس ہیں
- باقی حصص بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور دیگر سرمایہ کاروں کے پاس ہیں
2019 سے 2025 تک مالی سفر
2019 میں انٹرلوپ کی فروخت 37.48 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.36 فیصد زیادہ تھی۔ روپے کی قدر میں کمی نے برآمدات کو فائدہ دیا اور کمپنی کا منافع 5.19 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
کورونا کے سال 2020 میں کمپنی متاثر ہوئی۔ فروخت 36.30 ارب روپے رہ گئی اور منافع 65 فیصد سے زیادہ کم ہو کر 1.79 ارب روپے رہ گیا۔
2021 میں حالات بہتر ہوئے اور کمپنی کی فروخت 54.96 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ منافع بڑھ کر 6.29 ارب روپے ہو گیا۔
2022 انٹرلوپ کے لیے ایک مضبوط سال تھا۔ فروخت 65 فیصد بڑھ کر 90.89 ارب روپے تک پہنچی جبکہ منافع 12.36 ارب روپے رہا۔ روپے کی قدر میں کمی نے برآمدات کو سہارا دیا۔
2023 میں کمپنی نے مزید ترقی کی۔ فروخت 119.20 ارب روپے تک پہنچی جبکہ منافع 20.17 ارب روپے رہا، جو اس عرصے کی بلند ترین سطح تھی۔
2024 اور 2025 میں صورتحال
2024 میں فروخت مزید بڑھ کر 156.13 ارب روپے ہو گئی، لیکن بڑھتی ہوئی لاگت نے منافع کو متاثر کیا۔ کمپنی کا منافع کم ہو کر 15.77 ارب روپے رہ گیا۔
2025 میں فروخت 11 فیصد بڑھ کر 173.38 ارب روپے تک پہنچ گئی، مگر منافع 65.91 فیصد کم ہو کر 5.38 ارب روپے رہ گیا۔
اس کی اہم وجوہات:
- توانائی کے بڑھتے اخراجات
- خام مال کی قیمتیں
- شپنگ اور فریٹ کے اخراجات
- ٹیکس تبدیلیاں
- نئے منصوبوں کے ابتدائی اخراجات
تھیں۔
2025-26 کے پہلے 9 ماہ میں بہتری
حالیہ 9 ماہ میں کمپنی نے دوبارہ بہتری دکھائی۔
فروخت 127.29 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔
لیکن بہتر اخراجات کنٹرول اور کم مالی لاگت کی وجہ سے:
- مجموعی منافع 24.45 فیصد بڑھا
- آپریٹنگ منافع 67 فیصد بڑھا
- خالص منافع 244 فیصد بڑھ کر 9.34 ارب روپے ہو گیا
کمپنی کا فی شیئر منافع (EPS) بھی 1.93 روپے سے بڑھ کر 6.66 روپے ہو گیا۔
مستقبل کے امکانات
انٹرلوپ کے لیے سب سے بڑا موقع عالمی برآمدی مارکیٹ ہے، لیکن چیلنجز بھی موجود ہیں۔
عالمی خریدار قیمتوں کے معاملے میں زیادہ محتاط ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں بجلی، گیس اور پیداواری لاگت اب بھی مسئلہ ہیں۔
کمپنی نئی مارکیٹس تلاش کر رہی ہے اور توانائی کے اخراجات کم کرنے کے لیے 3.5 میگاواٹ سولر پلانٹ بھی لگا رہی ہے۔
نتیجہ
انٹرلوپ پاکستان کی کامیاب برآمدی کمپنیوں میں شامل ہے جس نے چند سالوں میں اپنی آمدنی کو 37 ارب روپے سے بڑھا کر 173 ارب روپے تک پہنچایا۔
لیکن اصل امتحان اب یہ ہے کہ کمپنی بڑھتی ہوئی لاگت، عالمی مقابلے اور توانائی کے مسائل کے باوجود اپنے منافع کو دوبارہ بلند سطح پر لے جا سکتی ہے یا نہیں۔
بھارت اور یورپی یونین کا معاہدہ، پاکستان کی برآمدات کے لیے نیا خطرہ
پاکستانی برآمدات کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے نئے تجارتی معاہدے سے پاکستان کی تقریباً 9 ارب ڈالر کی یورپی یونین کو جانے والی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کو یورپی منڈی میں جی ایس پی پلس (GSP+) سہولت حاصل ہے، جس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو کچھ تجارتی فائدے ملتے ہیں۔ لیکن اگر بھارت کو بھی اسی طرح بہتر رسائی مل جاتی ہے تو پاکستان کی برتری کم ہو سکتی ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس وقت پیداواری لاگت ہے، خاص طور پر بجلی اور گیس کی قیمتیں۔ صنعتوں کو مہنگی توانائی مل رہی ہے جبکہ بھارت اور ویتنام جیسے ممالک میں یہی لاگت کم ہے۔ اس وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مشکل محسوس کر رہی ہیں۔
صنعتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹ کرنے والی فیکٹریاں ایک طرف مہنگی بجلی، بلند شرح سود اور زیادہ ٹیکسوں کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف عالمی خریدار کم قیمت چاہتے ہیں۔ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان اپنے بنائے ہوئے برآمدی بازار دوسرے ممالک کو دے سکتا ہے۔
حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے قوانین آسان کیے جائیں اور ایکسپورٹرز کا اعتماد بحال کیا جائے۔
دوسری جانب پاکستان اسٹاک مارکیٹ اور بڑی صنعتوں کی حالیہ بہتری کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) میں اپریل 2026 کے دوران 6.06 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی سرگرمی دوبارہ بہتر ہو رہی ہے۔
آٹو موبائل، پیٹرولیم مصنوعات اور سیمنٹ کے شعبوں نے صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ کچھ شعبے جیسے ادویات اور آئرن و اسٹیل اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اسٹاک مارکیٹ کی بہتری یا صنعتی پیداوار میں اضافہ کافی نہیں۔ پاکستان کو طویل مدت کے لیے برآمدی ترقی کی ضرورت ہے، جس کے لیے سستی توانائی، بہتر پالیسی، کم رکاوٹیں اور عالمی معیار کی مصنوعات ضروری ہیں۔
اصل امتحان یہ ہے کہ پاکستان موجودہ معاشی بہتری کو مستقل ترقی میں تبدیل کر پاتا ہے یا نہیں۔ اگر برآمدات مضبوط نہ ہوئیں تو معاشی استحکام عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ، مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے
پاکستان کی آئی ٹی (Information Technology) برآمدات میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات 4.184 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 3.475 ارب ڈالر تھیں۔
یعنی ایک سال میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مئی 2026 میں بھی آئی ٹی برآمدات 373 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھیں۔ اگرچہ مارچ اور اپریل کے مقابلے میں کچھ کمی آئی، لیکن مجموعی رجحان اب بھی مضبوط ہے۔
آئی ٹی سیکٹر پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
پاکستان کی روایتی برآمدات، جیسے کپڑا اور دیگر مصنوعات، ابھی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ درآمدات بڑھ رہی ہیں۔
ایسے وقت میں آئی ٹی سیکٹر ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ:
یہ ملک میں ڈالر لا رہا ہے
اس کے لیے بڑی مقدار میں خام مال درآمد نہیں کرنا پڑتا
نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں
رواں سال کے آخر تک امکان ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
---
فری لانسرز کا بڑا کردار
پاکستان کی آئی ٹی کہانی میں فری لانسرز بھی اہم حصہ بن چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے 11 ماہ میں پاکستانی فری لانسرز نے تقریباً 1.06 ارب ڈالر کمائے، جو گزشتہ سال 708 ملین ڈالر تھے۔
یعنی فری لانسرز کی آمدنی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
اب آئی ٹی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فری لانسرز سے آ رہا ہے۔
---
اصل چیلنج کیا ہے؟
پاکستان نے فری لانسنگ میں اچھی جگہ بنا لی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر کام ابھی چھوٹے درجے کا ہے۔
مثلاً:
چھوٹے پراجیکٹس
کم قیمت والے کام
محدود منافع
اب ضرورت یہ ہے کہ پاکستان صرف سستا کام کرنے والا ملک نہ رہے بلکہ بڑے اور مہنگے ٹیکنالوجی منصوبوں میں جائے۔
اس کے لیے شعبوں میں آگے بڑھنا ہوگا جیسے:
مصنوعی ذہانت (AI)
کلاؤڈ کمپیوٹنگ
سائبر سیکیورٹی
ڈیٹا سائنس
فِن ٹیک
ہیلتھ ٹیک
سافٹ ویئر پراڈکٹس
---
حکومت نے کیا سہولت دی؟
حکومت نے آئی ٹی سیکٹر کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں۔
مثلاً:
آئی ٹی ایکسپورٹرز کے لیے کم ٹیکس نظام کو جون 2029 تک بڑھایا گیا
بیرون ملک ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کیا گیا
اس سے فری لانسرز اور چھوٹی آئی ٹی کمپنیوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
---
آگے کا راستہ
4.5 ارب ڈالر تک پہنچنا ایک کامیابی ہے، لیکن 10 ارب ڈالر تک پہنچنے کے لیے صرف ٹیکس میں چھوٹ کافی نہیں ہوگی۔
پاکستان کو ضرورت ہے:
بہتر تعلیم اور ٹیکنیکل اسکلز
تیز اور قابل اعتماد انٹرنیٹ
آسان بین الاقوامی ادائیگی نظام
بڑی سافٹ ویئر کمپنیوں کی ترقی
عالمی مارکیٹ تک بہتر رسائی
مختصر بات یہ ہے:
پاکستان کے پاس نوجوان ٹیلنٹ اور آئی ٹی کی صلاحیت موجود ہے، اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ملک ایسا نظام بنا سکتا ہے جس سے یہ شعبہ چھوٹے فری لانس کام سے نکل کر بڑی عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری بن سکے۔
اسٹیٹ بینک کی وارننگ: حکومت زیادہ قرض لے تو مہنگائی کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ مہنگائی کم کرنے کے لیے صرف شرح سود بڑھانا کافی نہیں ہوتا۔ اگر حکومت بینکوں سے بہت زیادہ قرض لے، ٹیکس بڑھائے اور معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی رہے تو مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔
سادہ الفاظ میں سمجھیں تو:
حکومت بینکوں سے قرض کیوں لیتی ہے؟
جب حکومت کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ ہو جاتے ہیں تو اسے پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ یہ رقم بینکوں سے قرض لے کر پوری کرتی ہے۔
لیکن مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
بینک سوچتے ہیں:
"حکومت کو قرض دینا زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ حکومت واپس کر دے گی۔"
اس لیے بینک اپنا پیسہ کاروباروں اور عام لوگوں کو قرض دینے کے بجائے حکومت کو دے دیتے ہیں۔
نتیجہ:
کاروبار کو قرض کم ملتا ہے
نئی فیکٹریاں اور منصوبے کم بنتے ہیں
روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں
یعنی حکومت زیادہ قرض لے تو عام کاروباری آدمی کے لیے پیسہ مہنگا اور مشکل ہو جاتا ہے۔
---
شرح سود بڑھانے سے مہنگائی کیوں نہیں رکتی؟
مہنگائی کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک شرح سود بڑھاتا ہے۔
مثلاً:
اگر قرض مہنگا ہو جائے تو لوگ گاڑی، گھر یا کاروبار کے لیے کم قرض لیتے ہیں، خرچہ کم کرتے ہیں، اور قیمتوں پر دباؤ کم ہوتا ہے۔
لیکن پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی صرف زیادہ خریداری کی وجہ سے نہیں آتی۔
یہ بھی وجوہات ہیں:
بجلی مہنگی
گیس مہنگی
پٹرول مہنگا
ٹیکس زیادہ
جب چیز بنانے کی لاگت بڑھتی ہے تو دکاندار قیمت بڑھا دیتا ہے۔ ایسی مہنگائی کو صرف شرح سود سے قابو کرنا مشکل ہوتا ہے۔
---
ٹیکس بڑھنے سے بھی قیمتیں بڑھتی ہیں
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ GST اور ایکسائز جیسے ٹیکس بھی مہنگائی بڑھا سکتے ہیں۔
کیونکہ:
کارخانہ دار یا دکاندار ٹیکس اپنی جیب سے نہیں دیتا، اکثر وہ یہ خرچہ چیز کی قیمت میں شامل کر دیتا ہے۔
یعنی آخر میں بوجھ صارف پر آتا ہے۔
---
غیر رسمی معیشت کیا مسئلہ ہے؟
پاکستان میں بہت سا کاروبار ایسا ہے جو مکمل طور پر بینکنگ نظام میں نہیں آتا۔
مثلاً:
نقد لین دین
بغیر مکمل ریکارڈ کاروبار
اس حصے پر اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کا اثر کم ہوتا ہے کیونکہ یہ نظام سے باہر رہتا ہے۔
---
اسٹیٹ بینک کی اچھی بات کیا ہے؟
اسٹیٹ بینک کے مطابق معیشت میں کچھ بہتری بھی آئی ہے:
زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں
ڈالر کے ذخائر تقریباً 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں
حکومت مسلسل بجٹ میں بنیادی سرپلس (primary surplus) رکھنے کی کوشش کر رہی ہے یعنی حکومت کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ قرضے اور سود کو چھوڑ کر اپنے اخراجات پورے کر سکتی ہے تنخواہیں دے سکتی ہے
خلاصہ:
"مہنگائی صرف شرح سود بڑھا کر ختم نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو بھی کم قرض لینا ہوگا، خرچے قابو کرنے ہوں گے اور ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جن سے کاروبار اور روزگار بڑھے۔"
یعنی مہنگائی کا علاج صرف ایک ادارہ نہیں کر سکتا، حکومت اور اسٹیٹ بینک دونوں کو مل کر کام کرنا پڑے گا۔
اسٹیٹ بینک نے عام سرمایہ کاروں کے لیے اسلامی حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کا راستہ کھول دیا
کراچی:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے اسلامی بانڈز (Government of Pakistan Ijarah Sukuk — GIS) کی نیلامی میں اب بینکوں کے ساتھ ساتھ عام سرمایہ کاروں، کمپنیوں اور سرمایہ کاری فنڈز کو بھی حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔
اس فیصلے کا مقصد اسلامی فنانس مارکیٹ کو بڑا کرنا، سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانا اور حکومت کے لیے فنڈز حاصل کرنے کے مواقع بہتر بنانا ہے۔
GIS کیا ہوتے ہیں؟
GIS یعنی گورنمنٹ آف پاکستان اجارہ سکوک حکومت کے اسلامی بانڈز ہوتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں:
حکومت کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ سکوک جاری کرتی ہے۔ سرمایہ کار حکومت کو رقم دیتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں اسلامی طریقے کے مطابق منافع ملتا ہے۔
یہ عام بانڈز سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ڈھانچہ اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا جاتا ہے۔
پہلے کیا نظام تھا؟
پہلے ان نیلامیوں میں صرف:
اسلامی بینک
اسلامی بینکنگ برانچز
حصہ لے سکتی تھیں۔
یعنی عام لوگ، کمپنیاں یا سرمایہ کاری فنڈز براہ راست اس مارکیٹ میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔
اب SBP نے فیصلہ کیا ہے کہ:
کمپنیاں
میوچل فنڈز اور دیگر سرمایہ کاری ادارے
عام افراد
بھی اس میں حصہ لے سکیں گے۔
عام آدمی کو فائدہ کیسے ہوگا؟
اب ایک عام سرمایہ کار بھی اپنے اسلامی بینک کے ذریعے حکومت کے سکوک میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ:
لوگوں کے پاس سرمایہ کاری کا ایک نیا راستہ آئے گا
اسلامی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے
مارکیٹ میں زیادہ پیسہ آئے گا
حکومت کو قرض لینے کے لیے زیادہ سرمایہ کار ملیں گے
طریقہ کار کیا ہوگا؟
غیر بینکاری سرمایہ کار خود براہ راست بولی نہیں دیں گے بلکہ:
وہ کسی اسلامی بینک یا اسلامی بینکنگ برانچ کے ذریعے اپنی درخواست دیں گے۔
بینک ان کی طرف سے بولی جمع کروائے گا۔
SBP کا مقصد
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ قدم پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ کو مضبوط کرنے کے لیے ہے تاکہ زیادہ لوگ حکومتی سکوک مارکیٹ میں شامل ہو سکیں اور سرمایہ کاری کا نظام زیادہ وسیع ہو۔
مختصر الفاظ میں:
پہلے صرف اسلامی بینک حکومت کے اسلامی بانڈ خرید سکتے تھے، اب عام لوگ اور کمپنیاں بھی اسلامی بینک کے ذریعے اس میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
ایف بی آر کا ڈیجیٹل انوائسنگ نظام، یکم جولائی سے خلاف ورزی کرنے والے درآمد کنندگان کے خلاف کارروائی
حکومت نے ٹیکس نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم پر سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے وہ درآمد کنندگان کے خلاف کارروائی کرے گا جو اس نظام پر عمل نہیں کر رہے۔
ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کا مقصد یہ ہے کہ کاروباری لین دین کا ریکارڈ آن لائن ہو، جعلی رسیدوں اور ٹیکس چوری کو روکا جا سکے اور حکومت کو حقیقی وقت میں کاروباری سرگرمیوں کا ڈیٹا مل سکے۔
ایف بی آر کے مطابق وہ درآمد کنندگان جو اس نظام میں رجسٹر نہیں ہوئے، اپنی کمپنی کو سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں کیا یا رجسٹریشن کے باوجود الیکٹرانک انوائس جاری نہیں کر رہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کارروائی میں جرمانہ، سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنا اور سب سے اہم گرین چینل کی سہولت ختم کرنا شامل ہو سکتی ہے۔
گرین چینل سے مراد وہ سہولت ہے جس میں درآمد کنندگان کا سامان کسٹمز پر کم وقت میں کلیئر ہو جاتا ہے کیونکہ انہیں کم خطرے والا اور زیادہ قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی درآمد کنندہ کو اس سہولت سے نکال دیا جائے تو اس کے سامان کی کلیئرنس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور زیادہ جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔
ایف بی آر نے بتایا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ نظام کے تحت درآمد کنندگان کو پہلے ہی ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ 2025 میں اس نظام کا حصہ بنیں اور تمام رسیدیں اسی نظام کے ذریعے جاری کریں۔
تاہم حکام کے مطابق اب بھی بہت سے درآمد کنندگان نے مکمل طور پر اس نظام کو اختیار نہیں کیا، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو رجسٹریشن کے باوجود الیکٹرانک انوائس جاری نہیں کر رہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیکس چوری روکنے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور کاروباری نظام میں شفافیت لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ریکارڈ آنے سے حکومت کے لیے ٹیکس وصولی بہتر ہو سکتی ہے، لیکن کاروباری افراد کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ نئے نظام کے مطابق اپنی کارروائیاں مکمل کریں، ورنہ انہیں جرمانوں اور درآمدی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خلاصہ: جو درآمد کنندہ اپنا کاروبار ایف بی آر کے آن لائن نظام کے مطابق نہیں چلائے گا، اس پر جرمانہ ہو سکتا ہے اور اس کا مال کلیئر کروانا مشکل ہو سکتا ہے۔
فنانس بل 2026 میں 35 سے زائد ترامیم، ایئر لائنز کو طیاروں کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ
اسلام آباد: حکومت نے فنانس بل 2026 میں 35 سے زائد اہم تبدیلیاں کر دی ہیں، جن میں ایئر لائنز، الیکٹرک گاڑیوں، موبائل فون ٹیکس اور مختلف شعبوں سے متعلق نئے فیصلے شامل ہیں۔
سب سے بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پاکستان میں رجسٹرڈ تمام ایئر لائنز کو طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد یا لیز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔ یہ سہولت یکم جولائی 2027 سے نافذ ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایوی ایشن سیکٹر کو سہارا دینا اور تمام ایئر لائنز کو برابر مواقع فراہم کرنا ہے۔
فنانس بل میں پٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق کچھ ترامیم بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اب درآمد شدہ الیکٹرک کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی گاڑی کی ڈالر میں قیمت کے حساب سے لگائی جائے گی۔
- 75 ہزار ڈالر تک کی الیکٹرک گاڑیوں پر صفر ایکسائز ڈیوٹی ہوگی۔
- 75 ہزار سے 110 ہزار ڈالر تک کی گاڑیوں پر 30 فیصد ڈیوٹی ہوگی۔
- 110 ہزار ڈالر سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔
موبائل فون صارفین کے لیے بھی آسانی پیدا کی گئی ہے۔ بیرون ملک سے درآمد کیے گئے موبائل فونز پر PTA ٹیکس اب قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم تمام قسطیں اسی مالی سال کے اختتام تک ادا کرنا ضروری ہوں گی۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ ایسے افراد جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہے، انہیں مخصوص شرائط کے تحت فکسڈ ٹیکس نظام سے باہر نکلنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اسٹیل سیکٹر کے لیے ٹیکس نظام میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اسٹیل میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس سے ٹیکس ان کی بجلی کے استعمال اور پیداوار کے حساب سے وصول کیا جائے گا تاکہ ٹیکس کا نظام زیادہ دستاویزی اور شفاف بنایا جا سکے۔
درآمدی سامان کے حوالے سے بھی نئی شرط شامل کی گئی ہے۔ اگر کوئی صنعت کار درآمد شدہ سامان کو بغیر تبدیلی کے دوبارہ فروخت کرے گا تو اسے 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
کوئلے کی درآمد پر کم از کم ویلیو ایڈیشن ٹیکس 1 فیصد رکھا گیا ہے، بشرطیکہ درآمد شدہ کوئلہ صرف بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو فراہم کیا جائے۔
حکومت نے پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فنڈز کے لیے بھی ٹیکس چھوٹ کی شق شامل کی ہے، بشرطیکہ فنڈ اپنی آمدنی کا کم از کم 90 فیصد سرمایہ کاروں میں تقسیم کرے۔
مجموعی طور پر فنانس بل میں کی گئی ترامیم کا مقصد کچھ شعبوں کو ریلیف دینا، ٹیکس نظام کو بہتر بنانا اور مخصوص صنعتوں میں کاروباری آسانیاں پیدا کرنا ہے۔
حکومت 17.378 کھرب روپے کی اضافی گرانٹس کی منظوری لینے جا رہی ہے، اصل بڑا خرچ قرضوں کی ادائیگی
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں حکومت مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے لیے مجموعی طور پر 17.378 کھرب روپے کی اضافی گرانٹس کی منظوری لینے جا رہی ہے۔
عام الفاظ میں سمجھیں تو سپلیمنٹری گرانٹس وہ اضافی پیسہ ہوتا ہے جو حکومت کو سال کے دوران اپنے اصل بجٹ سے زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت پڑ جائے۔ جب بجٹ بناتے وقت کسی خرچے کا اندازہ کم ہو جائے یا کوئی اضافی ضرورت سامنے آ جائے تو حکومت پارلیمنٹ سے مزید رقم کی منظوری مانگتی ہے۔
اس معاملے میں سب سے بڑا خرچ قرضوں کی ادائیگی کا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت تقریباً 12.65 کھرب روپے کی اضافی گرانٹس پیش کرے گی، جس میں:
- ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے تقریباً 12.643 کھرب روپے
- انتخابات کے لیے تقریباً 455.9 ملین روپے
- وفاقی آئینی عدالت کے لیے 2.25 ارب روپے
شامل ہیں۔
اسی طرح مالی سال 2024-25 کے لیے تقریباً 2.644 کھرب روپے کی اضافی گرانٹس مانگی جا رہی ہیں، جن میں زیادہ تر رقم دوبارہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئی۔
اس کے علاوہ حکومت 2024-25 کے دوران بجٹ سے زیادہ ہونے والے اخراجات کی منظوری بھی لے گی، جن کی مالیت تقریباً 2.088 کھرب روپے ہے۔
ان اضافی اخراجات میں:
- ملکی قرضوں کی واپسی: تقریباً 1.916 کھرب روپے
- ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی: تقریباً 169 ارب روپے
- بیرونی قرضوں کی ادائیگی: تقریباً 1.548 ارب روپے
- پنشن اور دیگر اخراجات
شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کے اضافی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ترقیاتی کاموں یا نئی اسکیموں پر نہیں بلکہ قرضوں کی ادائیگی اور مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر جا رہا ہے۔
یعنی سادہ الفاظ میں حکومت نے سال کے شروع میں جو بجٹ بنایا تھا، بعد میں پتا چلا کہ قرضوں کی ادائیگی اور کچھ ضروری اخراجات کے لیے مزید رقم درکار ہے، اس لیے اب پارلیمنٹ سے اجازت لی جا رہی ہے۔
سپلیمنٹری گرانٹس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ حکومت کے اضافی خرچ کو قانونی طور پر پارلیمنٹ کی منظوری مل جائے اور مالی حساب کتاب مکمل کیا جا سکے۔
قومی اسمبلی سے فنانس بل 2026 منظور، بجٹ پر اپوزیشن کا احتجاج
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے فنانس بل 2026 منظور کر لیا ہے، جس کے بعد مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ عملی شکل اختیار کرنے کی جانب بڑھ گیا ہے۔ حکومت نے اپنی ترامیم منظور کروا لیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے واک آؤٹ میں شرکت نہیں کی اور قانون سازی کے عمل میں شامل رہے۔
منظور کیے گئے بجٹ کا مجموعی حجم 18.771 کھرب روپے ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ کا مقصد معاشی ترقی کو تیز کرنا، استحکام برقرار رکھنا اور ملک کی مالی ضروریات پوری کرنا ہے۔
بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5.336 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
کم آمدنی والے طبقے کے لیے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 844.78 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ غریب خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔
اپوزیشن اراکین نے بجٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی، موبائل فون، ایئر ٹکٹس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس کم کیے جائیں۔
ارکان نے تنخواہ دار طبقے، چھوٹے کاروبار اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے پر زور دیا۔ بعض اراکین نے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافے اور ضروری اشیاء پر اضافی ٹیکسوں کی مخالفت کی۔
حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بجٹ ملک کو معاشی استحکام دینے اور ترقی کی طرف لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ یہ بین الاقوامی مالیاتی پروگرام (IMF) سے کیے گئے وعدوں کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بجٹ کی کامیابی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا اس سے عوام کی آمدن، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی بہتری آتی ہے یا نہیں۔
بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری، بحالی اب زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے
پاکستان کی بڑی صنعتوں (Large-Scale Manufacturing) کی حالیہ کارکردگی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ صنعتی شعبہ صرف وقتی بہتری نہیں بلکہ آہستہ آہستہ معمول کی طرف واپس آ رہا ہے۔
اپریل 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.06 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں مجموعی صنعتی ترقی 6.44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ جنوری اور مارچ کی طرح دو ہندسوں کی بلند شرح تک نہیں پہنچا، لیکن مسلسل بہتری کو زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس بحالی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ شعبوں میں پھیل رہی ہے۔ بڑی صنعتوں کے 22 میں سے 16 شعبوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا جبکہ صرف 6 شعبے کمی کا شکار رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صنعتی ترقی اب صرف ایک یا دو شعبوں کے سہارے نہیں چل رہی۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ موجودہ صنعتی پیداوار اب بھی مالی سال 2022 کی بلند سطح سے تقریباً 14 فیصد نیچے ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو مکمل ترقی کے بجائے گزشتہ نقصانات کی تلافی کا مرحلہ کہا جا سکتا ہے۔
صنعتی ترقی میں گاڑیوں کا شعبہ اب بھی سب سے بڑا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ خوراک اور ٹیکسٹائل بھی اہم حصہ ڈال رہے ہیں۔ اپریل میں گاڑیوں اور ملبوسات کے شعبوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی، جبکہ فرنیچر کا شعبہ بھی اچانک بہتر کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہوا۔
خوراک کا شعبہ بھی صنعتی ترقی کو سہارا دے رہا ہے۔ چینی کی پیداوار کئی سالوں کے مقابلے میں مضبوط رہنے کی توقع ہے، جبکہ سگریٹ کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی فروخت میں کمی نے اس شعبے کو فائدہ پہنچایا ہے۔
صارفین کی طلب میں بھی کچھ بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ موٹر سائیکل اور سائیکل کی پیداوار کئی سالوں کی بلند سطح پر پہنچ گئی، جبکہ فریج اور ڈیپ فریزر کی پیداوار بھی پچھلے چند سالوں کی اوسط سے کافی بہتر رہی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھریلو طلب میں کچھ بحالی آ رہی ہے۔
دوسری جانب تعمیرات سے جڑے شعبے ابھی تک مضبوط واپسی نہیں دکھا رہے اور تعمیراتی سامان کی طلب میں نمایاں اضافہ نظر نہیں آیا۔
کاروباری اعتماد ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوا۔ مہنگائی کے خدشات برقرار ہیں اور صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کا استعمال تقریباً 66 فیصد کے آس پاس ہے۔ یعنی پیداوار بہتر ہو رہی ہے مگر کاروباری طبقہ ابھی بھی محتاط ہے۔
حکومتی پالیسیوں سے صنعتی شعبے کو کچھ مدد مل رہی ہے۔ بجلی کے صنعتی نرخوں میں کمی نے مینوفیکچرنگ کے لیے حالات بہتر کیے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں قابو میں رہیں تو صنعت کو مزید فائدہ مل سکتا ہے۔ شرح سود میں ممکنہ کمی بھی صنعتی سرگرمی کو بڑھا سکتی ہے۔
ٹیکسٹائل برآمدات میں مئی کے دوران تقریباً 18 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برآمدی شعبہ بھی بحالی میں کردار ادا کر رہا ہے۔ گاڑیوں کی فروخت میں بھی بہتری جاری ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان کی صنعتی بحالی ابھی مکمل نہیں ہوئی، لیکن موجودہ رجحان پچھلے سالوں کی ناکام بحالیوں سے مختلف نظر آ رہا ہے۔ اس بار بہتری زیادہ شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے اور معاشی حالات بھی کچھ بہتر ہو رہے ہیں، جس سے امید پیدا ہوتی ہے کہ صنعتی ترقی زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتی ہے۔
وہ معاشی بحالی جو حقیقت میں نظر نہیں آئی
پاکستان کی معیشت کے بارے میں کافی عرصے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی پہلے کے بحران کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام چل رہا ہے اور ملک فوری معاشی بحران سے نکل آیا ہے۔ لیکن عام لوگوں اور کاروباری طبقے کو یہ بہتری اپنی زندگی میں محسوس نہیں ہو رہی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنا اور معیشت کا حقیقی طور پر بحال ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ استحکام کا مطلب یہ ہے کہ ملک دوبارہ بڑے بحران میں نہ جائے، جبکہ بحالی کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آمدنی بڑھے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور زندگی کے اخراجات قابل برداشت ہوں۔
پاکستان نے کسی حد تک پہلا مرحلہ حاصل کر لیا ہے، لیکن دوسرا مرحلہ ابھی دور ہے۔
عام آدمی معیشت کو زرمبادلہ کے ذخائر یا کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار سے نہیں دیکھتا۔ وہ اسے اپنے راشن، بجلی کے بل، پٹرول، تعلیم کے اخراجات اور روزگار کے ذریعے محسوس کرتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں قیمتوں میں جو اضافہ ہوا، اس نے لوگوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا۔ اگر مہنگائی کی رفتار کم بھی ہو جائے، لیکن قیمتیں پہلے ہی بہت زیادہ بڑھ چکی ہوں، تو عام شہری کو فوری ریلیف محسوس نہیں ہوتا۔
اسی وجہ سے صارفین کا اعتماد دوبارہ کم ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سروے کے مطابق صارفین کا اعتماد فروری 2026 میں 43 پوائنٹس سے کم ہو کر جون 2026 میں 36.1 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ مستقبل کے بارے میں زیادہ پریشان ہیں۔
کاروباری اعتماد میں بھی کمی دیکھی گئی۔ کاروبار کو صرف موجودہ حالات نہیں بلکہ مستقبل کی طلب، صارفین کی قوت خرید اور سرمایہ کاری کے امکانات دیکھنے ہوتے ہیں۔ جب انہیں لگتا ہے کہ لوگ خریداری کم کریں گے تو وہ نئی سرمایہ کاری اور ملازمتیں پیدا کرنے میں محتاط ہو جاتے ہیں۔
پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک اہم وجہ ہے جس نے مہنگائی کے دباؤ کو دوبارہ بڑھایا۔ ایندھن مہنگا ہونے سے نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کا اثر عام اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
روزگار کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ کچھ شعبوں میں بہتری آئی ہے، لیکن وسیع پیمانے پر نئی ملازمتیں ابھی پیدا نہیں ہو رہیں۔ بہت سے خاندانوں کی آمدنی وہی ہے جبکہ اخراجات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔
حکومت نے گزشتہ عرصے میں مالی استحکام، ذخائر کی بہتری اور بیرونی بحران سے بچنے پر توجہ دی، جو ضروری تھا۔ لیکن طویل مدت میں معیشت کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ عام شہری کی زندگی میں بہتری کب آتی ہے۔
جب تک آمدنی میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور قوت خرید بحال نہیں ہوتی، معاشی بہتری کے بڑے اعداد و شمار عوام کے اعتماد کو مکمل طور پر واپس نہیں لا سکیں گے۔ اصل بحالی وہی ہوگی جو لوگوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس ہو۔
بالاکوٹ 300 میگاواٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ: نیپرا نے ٹیرف مقرر کرنے کا عمل شروع کر دیا
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے کے ٹیرف کے تعین کے لیے درخواست منظور کر لی ہے اور اس معاملے پر عوامی سماعت 2 جولائی 2026 کو مقرر کر دی گئی ہے۔
یہ درخواست خیبر پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ منصوبہ ضلع مانسہرہ کے علاقے بالاکوٹ میں تعمیر کیا جائے گا اور اس کی پیداواری صلاحیت 300 میگاواٹ ہوگی۔
منصوبے کے لیے PEDO نے 30 سالہ مدت کے لیے فی یونٹ بجلی کا ٹیرف 17.7103 روپے فی کلو واٹ آور تجویز کیا ہے، جو تقریباً 6.3576 امریکی سینٹ فی یونٹ بنتا ہے۔
منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 612.56 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس میں سے تقریباً 513.22 ملین ڈالر تعمیراتی کام، انجینئرنگ، آلات کی فراہمی اور منصوبے کی تکمیل (EPC) کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ PEDO کے انتظامی اخراجات، زمین کی خریداری، متاثرہ افراد کی آبادکاری، سیکیورٹی اور قانونی معاملات کے لیے بھی بجٹ رکھا گیا ہے۔
نیپرا 2 جولائی کو اسلام آباد میں عوامی سماعت کرے گا، جہاں متعلقہ ادارے، ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اپنی آراء پیش کر سکیں گے۔ عوام اور متاثرہ فریقین کو بھی اجازت دی گئی ہے کہ وہ منصوبے کے ٹیرف سے متعلق اپنے اعتراضات یا تجاویز جمع کرا سکتے ہیں۔
نیپرا نے کہا ہے کہ عوامی رائے اور اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو حتمی ٹیرف مقرر کرتے وقت مدنظر رکھا جائے گا۔
بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ خیبر پختونخوا حکومت کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کے ذریعے صوبے کے آبی وسائل سے فائدہ اٹھا کر کم لاگت اور قابل تجدید بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جا سکے۔ یہ منصوبہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور مہنگی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
موبائل فون ٹیکس میں آسانی، لگژری گاڑیوں پر مزید بوجھ
اسلام آباد: حکومت نے فنانس بل 2026 میں عوام اور کاروباری طبقے کے لیے چند اہم تبدیلیوں کی تجاویز دی ہیں جن میں موبائل فون کے ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ریلیف، جبکہ مہنگی گاڑیوں پر بھاری ایکسائز ڈیوٹی شامل ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات کے بعد فنانس بل میں کئی ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ایک طرف عام صارفین پر بوجھ کم کرنا اور دوسری طرف ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
ایک اہم تجویز کے مطابق بیرون ملک سے درآمد کیے گئے موبائل فونز پر پی ٹی اے کے نظام کے تحت عائد ٹیکس اب قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم شرط یہ ہوگی کہ تمام قسطیں اسی مالی سال کے اختتام تک مکمل ادا کرنا ہوں گی جس سال موبائل درآمد کیا گیا ہو۔
حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں بھی ریلیف دینے کی تجویز دی ہے۔ 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک SUVs پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس سے مہنگی لیکن ماحول دوست گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب بڑی اور لگژری گاڑیوں پر اضافی ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔ 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک گاڑیوں پر 86 فیصد جبکہ 3000 سی سی سے زیادہ بڑی گاڑیوں پر 92 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہنگی درآمدی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی اور زیادہ آمدنی والے طبقے سے اضافی ریونیو حاصل کرنا ہے۔
اسٹیل سیکٹر کے لیے بھی ٹیکس نظام میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ اسٹیل میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس سے سیلز ٹیکس بجلی کے استعمال کی بنیاد پر وصول کرنے کا طریقہ متعارف کرایا جا سکتا ہے، تاکہ پیداوار اور ٹیکس ادائیگی کے درمیان بہتر تعلق قائم کیا جا سکے۔
چھوٹے کاروبار کے لیے بھی کچھ آسانیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز اور ہول سیلرز کے لیے مخصوص شرائط کے ساتھ کم از کم ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
حکومت نے بینکنگ ڈیٹا کی نگرانی کے لیے بھی نیا نظام بنانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے تحت اسٹیٹ بینک ایک محفوظ مرکزی نظام قائم کر سکتا ہے جس میں بینکوں کا مالیاتی ڈیٹا موجود ہوگا، تاکہ ٹیکس وصولی اور نگرانی کا عمل بہتر بنایا جا سکے۔
برآمدی شعبے کے لیے بھی ایک اہم تجویز سامنے آئی ہے۔ اگر کسی کاروبار کا 80 فیصد سے زیادہ ٹرن اوور برآمدات سے حاصل ہوتا ہے تو اسے بعض اضافی ٹیکس اقدامات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر فنانس بل 2026 کی ترامیم میں حکومت نے ایک جانب موبائل صارفین، الیکٹرک گاڑیوں اور کچھ کاروباری شعبوں کو سہولت دینے کی کوشش کی ہے، جبکہ دوسری جانب لگژری درآمدات اور بڑے شعبوں سے زیادہ ٹیکس وصولی کا راستہ برقرار رکھا ہے۔ حکومت کا مقصد بیک وقت عوامی دباؤ کم کرنا اور ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔
استحکام کے بعد اصل امتحان ترقی کا ہے
پاکستان کا ہر نیا بجٹ ہمیشہ ایک بڑی بحث کو جنم دیتا ہے۔ ماہرین ٹیکس، آمدن، اخراجات، خسارے اور آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہیں، کاروباری طبقہ اپنے اخراجات اور مواقع کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ عام لوگ یہ سوچتے ہیں کہ بجٹ ان کی روزمرہ زندگی پر کیا اثر ڈالے گا۔
لیکن بجٹ صرف پیسوں کا حساب کتاب نہیں ہوتا۔ بجٹ یہ بھی بتاتا ہے کہ حکومت ملک کی معیشت کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے۔
پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے میں معاشی بحران سے نکلنے کے لیے استحکام پر توجہ دی۔ اخراجات کو قابو کیا گیا، درآمدات کم ہوئیں، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے اور آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے مالی نظم قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ اقدامات ضروری تھے کیونکہ ملک کو دوبارہ ادائیگیوں کے بحران سے بچانا تھا۔
لیکن صرف استحکام کسی ملک کو خوشحال نہیں بناتا۔
ایک ملک تب ترقی کرتا ہے جب اس میں سرمایہ کاری بڑھے، کاروبار پھیلیں، نئی نوکریاں پیدا ہوں، برآمدات بڑھیں اور لوگوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا بجٹ صرف بحران کو روکنے کے لیے ہے یا مستقبل کی معیشت بنانے کے لیے بھی؟
ایک مضبوط معیشت صرف زیادہ ٹیکس لینے سے نہیں بنتی۔ ٹیکس اس وقت بڑھتے ہیں جب کاروبار بڑھتے ہیں، لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور نئی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر شہریوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع ملیں تو معیشت خود بخود وسیع ہوتی ہے۔
اسی لیے اصل چیلنج صرف ٹیکس نیٹ بڑھانا نہیں بلکہ مواقع بڑھانا ہے۔
پاکستان کے لیے انسانی سرمایہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔ ملک کی نوجوان آبادی کو اکثر طاقت کہا جاتا ہے، لیکن نوجوان آبادی تب ہی فائدہ بنتی ہے جب اس کے پاس معیاری تعلیم، ٹیکنیکل ہنر، صحت اور روزگار کے مواقع ہوں۔
آج کی دنیا میں ممالک صرف سڑکوں اور عمارتوں سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اپنے لوگوں کی قابلیت سے مقابلہ کرتے ہیں۔ جدید صنعتوں کو ایسے افراد چاہییں جو نئی ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے ساتھ کام کر سکیں۔
اسی طرح خواتین کی معاشی شمولیت بھی اہم ہے۔ اگر آبادی کا بڑا حصہ تعلیم، روزگار اور کاروبار میں شامل نہ ہو تو ملک اپنی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کر سکتا۔ خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی ترقی کا حصہ ہے۔
سرمایہ کار بھی بجٹ کو صرف ٹیکس کے زاویے سے نہیں دیکھتے۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ملک میں پالیسیاں کتنی قابلِ اعتماد ہیں، قوانین کتنے مستقل ہیں، کاروبار کے لیے ماحول کیسا ہے اور مستقبل میں سرمایہ محفوظ رہے گا یا نہیں۔
سرمایہ کاری کا تعلق اعتماد سے ہوتا ہے۔ اگر پالیسیاں بار بار بدلیں تو سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں، چاہے ٹیکس مراعات کتنی ہی کیوں نہ دی جائیں۔
پاکستان کا اصل مسئلہ اب صرف بحران سے بچنا نہیں بلکہ دولت پیدا کرنا ہے۔ استحکام ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں۔
مستقبل کی کامیابی کے لیے پاکستان کو ایسی معیشت بنانی ہوگی جہاں:
نئی کمپنیاں بنیں
روزگار پیدا ہو
برآمدات بڑھیں
ٹیکنالوجی اور جدت آئے
نوجوانوں کو بہتر مواقع ملیں
بجٹ کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس میں اعداد و شمار کتنے متوازن ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ملک کو مستقبل میں کہاں لے کر جا رہا ہے۔
پاکستان نے بحرانوں سے بچنے کا سفر کافی کیا ہے، اب ضرورت ہے کہ وہ ترقی اور خوشحالی کی طرف عملی سفر شروع کرے۔
تصویر میں موجود تحریر ایک گہری حقیقت اور زندگی کے فلسفے کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ کی موت ایک عام دن، نامکمل منصوبوں کے درمیان آئے گی، اور دنیا آپ کے بغیر چلتی رہے گی۔ سو تھوڑا جی لیں۔
اس قول کی خوبصورت وضاحت درج ذیل نکات میں سموئی جا سکتی ہے:
1. وقت کی بے رحمی اور سچائی
انسان اپنی پوری زندگی اس گمان میں گزار دیتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موت کسی خاص لمحے کا انتظار نہیں کرتی۔ یہ کسی بہت بڑے حادثے یا خاص دن کی محتاج نہیں، بلکہ ایک عام سے دن میں، آپ کی روزمرہ کی مصروفیات کے دوران دستک دے سکتی ہے۔
2. ادھورے خواب اور انسانی حد
ہم اکثر خوشیوں کو مستقبل سے جوڑ دیتے ہیں: "جب یہ کام مکمل ہو جائے گا تب سکون سے بیٹھوں گا" یا "جب گھر بن جائے گا تب جینا شروع کروں گا"۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فائلیں ادھوری ہوں گی، منصوبے ادھورے ہوں گے اور خواہشات نامکمل ہوں گی، مگر بلاوا آ جائے گا۔ کوئی بھی شخص دنیا کے تمام کام مکمل کر کے یہاں سے رخصت نہیں ہوتا۔
3. کائنات کا نظام اور ہماری اہمیت
انسان کو اکثر یہ وہم ہوتا ہے کہ شاید اس کے بغیر نظامِ زندگی رک جائے گا، لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ دنیا کا پہیہ آپ کے بغیر بھی ویسے ہی گھومتا رہے گا۔ سورج اپنے وقت پر نکلے گا اور لوگ اپنے کاموں میں مگن ہو جائیں گے۔ ہماری جگہ بہت جلد پُر کر دی جاتی ہے۔
4. "سو تھوڑا جی لیں"
یہ اس پورے قول کا نچوڑ اور ایک خوبصورت نصیحت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذمہ داریاں چھوڑ دی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ حال (Present) میں جینا سیکھیں۔
اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزاریں، ہنسیں، مسکرائیں اور قدرت کے چھوٹے چھوٹے نظاروں سے لطف اندوز ہوں۔
کام کی تھکن اور کل کی فکر کو خود پر اتنا حاوی نہ کریں کہ آپ یہ بھول جائیں کہ آپ "زندہ" ہیں۔
خلاصہ:
یہ تحریر ہمیں توازن (Balance) کا سبق دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی دوڑ میں اس طرح نہ بھاگیں کہ سانس لینے کی مہلت بھی نہ ملے، کیونکہ اختتام اچانک ہے اور دنیا نے چلتے رہنا ہے، تو کیوں نہ ان لمحات کو خوبصورتی سے جیا جائے جو ابھی ہمارے پاس موجود ہیں۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ آج کل کی تیز رفتار زندگی میں ہم واقعی "جینا" بھول گئے ہیں؟
پاکستان کا خاموش روزگار بحران
پاکستان کی معیشت حالیہ برسوں میں جس “استحکام” کے مرحلے سے گزری ہے، وہ زیادہ تر سخت مالی پالیسیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ سرکاری اخراجات میں کمی، شرح سود میں اضافہ، درآمدات پر دباؤ، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی جیسے اقدامات نے مجموعی معاشی اشاریوں کو بہتر ضرور کیا ہے۔ روایتی پیمانوں کے مطابق یہ ایک کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اس استحکام کے پیچھے ایک ایسا بحران چھپ گیا ہے جو آہستہ آہستہ گہرا ہوتا جا رہا ہے: روزگار کا بحران۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ایک سال پہلے 6.3 فیصد تھی۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ملازمتیں کم ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ مارکیٹ میں آ رہے ہیں وہ اکثر ان مہارتوں کے حامل نہیں جو موجودہ معیشت کو درکار ہیں، اور دوسری طرف معیشت میں اتنی کمپنیاں بھی نہیں جو ان افراد کو جذب کر سکیں۔
تعلیم کا نظام اس مسئلے کی بنیادی وجہوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں تعلیمی شعبے پر خرچ اب بھی ضرورت کے مقابلے میں کم ہے۔ اچھے معیار کی نجی تعلیم صرف ایک محدود طبقے تک دستیاب ہے، جبکہ اکثریت ایسا تعلیمی نظام حاصل کرتی ہے جو بنیادی خواندگی، حساب، عملی مہارتوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مناسب انداز میں فروغ نہیں دیتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے بڑی تعداد میں طلبہ مارکیٹ میں آتے ہیں، لیکن وہ اکثر ملازمت کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس مسئلے کو صرف بے روزگاری نہیں بلکہ “ناقابلِ روزگار ہونا” بھی کہا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف مسئلہ طلب (demand) کا ہے۔ اگرچہ افرادی قوت بہتر بھی ہو جائے، تب بھی معیشت میں اتنی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع نہیں کہ وہ سب کو روزگار دے سکے۔ نئے ادارے کم بن رہے ہیں اور موجودہ کمپنیاں بھی محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ یوں روزگار پیدا کرنے کا عمل سست ہو گیا ہے۔
پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ بھی کمزور ہوا ہے۔ ماضی میں صنعتیں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو روزگار دیتی تھیں، لیکن اب یہ کردار محدود ہو گیا ہے۔ مالیاتی شعبہ، ٹیلی کام اور دیگر کئی سیکٹرز بھی اپنی توسیع کے مرحلے سے نکل کر سست روی کا شکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں درمیانی اور اعلیٰ سطح کی ملازمتوں کے مواقع بھی کم ہو رہے ہیں۔
ملازمین اور آجروں کے درمیان ایک تضاد بھی بڑھ رہا ہے۔ کمپنیاں شکایت کرتی ہیں کہ یونیورسٹیاں قابلِ استعمال ہنر نہیں دیتیں، جبکہ نوجوان کہتے ہیں کہ اچھی نوکریاں موجود ہی نہیں۔ حقیقت دونوں کے درمیان کہیں ہے: مارکیٹ میں مہارت اور روزگار دونوں کی کمی ہے۔
مزید برآں، ٹیکنالوجی اور خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، کیونکہ ابتدائی سطح کی وہ ملازمتیں جو نئے افراد کو سکھانے اور تجربہ دینے کا ذریعہ ہوتی ہیں، وہ بھی کم ہو سکتی ہیں۔
درمیانی عمر کے پیشہ ور افراد کے لیے مسئلہ مختلف ہے۔ ایک طرف بیرونِ ملک ملازمت کے مواقع، خاص طور پر خلیجی ممالک، کم ہو رہے ہیں، اور دوسری طرف ریموٹ ورک نے ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ بہت سے ماہرین اب غیر ملکی کمپنیوں کے لیے گھر بیٹھے کام کرتے ہیں، جہاں ان پر ٹیکس اور لاگت کا بوجھ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس سے مقامی رسمی معیشت کمزور ہو رہی ہے کیونکہ ہنر مند افراد غیر رسمی یا بیرونی نظاموں کی طرف جا رہے ہیں۔
اعلیٰ سطح پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ تجربہ کار افراد کی تعداد کم نہیں، لیکن ان کے لیے مناسب مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ نئی تنظیمیں کم بن رہی ہیں، اور موجودہ ادارے لاگت کم کرنے کے لیے سینئر عہدے ختم کر رہے ہیں یا ان کو محدود کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کئی تجربہ کار افراد اپنی صلاحیت سے کم سطح کے کام کرنے پر مجبور ہیں یا مکمل طور پر غیر فعال ہو رہے ہیں۔
یہ صورتحال مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر خلیجی ممالک میں ملازمت کے مواقع مزید محدود ہوئے۔ اس صورت میں درمیانی عمر کے بے روزگار یا کم استعمال شدہ پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں روزگار کا مسئلہ صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ پورے ورک فورس کو متاثر کر رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیم، ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کی پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ایک ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا معیشت صرف “استحکام” پر اکتفا کرے گی، یا وہ واقعی ایسے حالات پیدا کرے گی جن میں روزگار، پیداوار اور ترقی ساتھ ساتھ چل سکیں۔ کیونکہ صرف استحکام کسی بھی ملک کو خوشحالی تک نہیں لے جاتا۔
وہ معاشی بحالی جو حقیقت میں نظر نہیں آئی
پاکستان کی معیشت کے بارے میں کافی عرصے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی پہلے کے بحران کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام چل رہا ہے اور ملک فوری معاشی بحران سے نکل آیا ہے۔ لیکن عام لوگوں اور کاروباری طبقے کو یہ بہتری اپنی زندگی میں محسوس نہیں ہو رہی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنا اور معیشت کا حقیقی طور پر بحال ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ استحکام کا مطلب یہ ہے کہ ملک دوبارہ بڑے بحران میں نہ جائے، جبکہ بحالی کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آمدنی بڑھے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور زندگی کے اخراجات قابل برداشت ہوں۔
پاکستان نے کسی حد تک پہلا مرحلہ حاصل کر لیا ہے، لیکن دوسرا مرحلہ ابھی دور ہے۔
عام آدمی معیشت کو زرمبادلہ کے ذخائر یا کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار سے نہیں دیکھتا۔ وہ اسے اپنے راشن، بجلی کے بل، پٹرول، تعلیم کے اخراجات اور روزگار کے ذریعے محسوس کرتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں قیمتوں میں جو اضافہ ہوا، اس نے لوگوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا۔ اگر مہنگائی کی رفتار کم بھی ہو جائے، لیکن قیمتیں پہلے ہی بہت زیادہ بڑھ چکی ہوں، تو عام شہری کو فوری ریلیف محسوس نہیں ہوتا۔
اسی وجہ سے صارفین کا اعتماد دوبارہ کم ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سروے کے مطابق صارفین کا اعتماد فروری 2026 میں 43 پوائنٹس سے کم ہو کر جون 2026 میں 36.1 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ مستقبل کے بارے میں زیادہ پریشان ہیں۔
کاروباری اعتماد میں بھی کمی دیکھی گئی۔ کاروبار کو صرف موجودہ حالات نہیں بلکہ مستقبل کی طلب، صارفین کی قوت خرید اور سرمایہ کاری کے امکانات دیکھنے ہوتے ہیں۔ جب انہیں لگتا ہے کہ لوگ خریداری کم کریں گے تو وہ نئی سرمایہ کاری اور ملازمتیں پیدا کرنے میں محتاط ہو جاتے ہیں۔
پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک اہم وجہ ہے جس نے مہنگائی کے دباؤ کو دوبارہ بڑھایا۔ ایندھن مہنگا ہونے سے نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کا اثر عام اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
روزگار کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ کچھ شعبوں میں بہتری آئی ہے، لیکن وسیع پیمانے پر نئی ملازمتیں ابھی پیدا نہیں ہو رہیں۔ بہت سے خاندانوں کی آمدنی وہی ہے جبکہ اخراجات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔
حکومت نے گزشتہ عرصے میں مالی استحکام، ذخائر کی بہتری اور بیرونی بحران سے بچنے پر توجہ دی، جو ضروری تھا۔ لیکن طویل مدت میں معیشت کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ عام شہری کی زندگی میں بہتری کب آتی ہے۔
جب تک آمدنی میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور قوت خرید بحال نہیں ہوتی، معاشی بہتری کے بڑے اعداد و شمار عوام کے اعتماد کو مکمل طور پر واپس نہیں لا سکیں گے۔ اصل بحالی وہی ہوگی جو لوگوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس ہو۔
پاکستان اپنی آمدنی سے کئی گنا زیادہ صرف پرانے قرضے واپس کرنے میں خرچ کر رہا ہے۔
ذرا یہ نمبر سمجھیں:
وفاقی حکومت کی پورے سال کی خالص آمدنی تقریباً 11.7 کھرب روپے ہے، جبکہ صرف پرانے قرضوں کی ادائیگی اور ان کے سود کی مد میں تقریباً 39.882 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔
یعنی پاکستان جتنا کماتا ہے، اس سے تقریباً ساڑھے تین گنا زیادہ رقم صرف قرضوں کے بوجھ کو سنبھالنے میں جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لیے 40.742 کھرب روپے کا "Charged Expenditure" منظور کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسے اخراجات ہیں جن پر اسمبلی میں بحث تو ہو سکتی ہے، لیکن ووٹنگ کے ذریعے انہیں مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کے آرٹیکل 82(1) کے تحت یہ اخراجات ووٹ کے لیے پیش نہیں کیے جاتے۔
اس میں کچھ دوسرے لازمی اخراجات بھی شامل ہیں، جیسے پنشن، گرانٹس، سبسڈیز، بیرون ملک مشنز، عدلیہ، پارلیمنٹ، صدر اور دیگر آئینی اداروں کے اخراجات، آڈٹ، انتخابات اور کچھ ترقیاتی قرضے وغیرہ۔
اس رقم کا تقریباً 98 فیصد حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگی اور ان کے سود پر مشتمل ہے۔
تفصیل کے مطابق تقریباً 6.983 کھرب روپے ملکی قرضوں کے سود، 25.992 کھرب روپے ملکی قرضوں کی واپسی، 1.071 کھرب روپے بیرونی قرضوں کے سود، اور 5.836 کھرب روپے بیرونی قرضوں کی واپسی کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم، صحت، سڑکیں یا دفاع اہم نہیں ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ پہلے سے لیے گئے قرضوں کے چکر کو چلانے میں چلا جاتا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ جب پرانے قرضے واپس کرنے کے لیے نئے قرضے لینے پڑیں تو معیشت ایک ایسے دائرے میں پھنس جاتی ہے جہاں ہر سال دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔
اعداد و شمار بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔