ٹھوٹے سفینوں سے ساحل پر اُترتے نہیں دیکھا
تم نے شاہد کبھی مظلوم کو سفر کرتے نہیں دیکھا
حیراں ہو ! کہ میں لکھنے پہ ہوا کیوں آمادہ۰۰۰
تم نے کوئی خواب شاہد بکھرتے نہیں دیکھا
دانیال بلوچ
اک عمر جلاتا رہا چراغ میں جس کی راہ میں
آج وہ بے مروت ہوا بن کر آیاہوا ہے
اسی غم سے دوہری ہوئی جاتی ہے کمر
زندگی تیرا بار جو میں نے اُٹھایا ہوا ہے
دانیا ل بلوچ
@UrduVirsa کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
@UrduVirsa کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
@Rekhta میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
کھبی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جبر کرنے سے کوئی شخص معتبر نہیں لگتا
جو فقیری سے واقف نہ ہو سکندر نہیں لگتا
ہر اندھیری شب کو صبح کر ہی جاتے ہیں
خددار دیوں کو ہواؤں سے ڈر نہیں لگتا
دانیال بلوچ