اگر ہم منتشر ہیں، ہماری کوئی مشترک سٹریٹیجی نہیں ہے، تو پھر حکومت اس طرح کی قانون سازیاں کرے گی جس طرح پہلے بھی ہوئی ہیں اور پرسوں پھر بھی ہوئی۔
جس جگہ پر آپ کے اور ہمارے درمیان اتفاق ہوا ہے، ہم کم از کم اپنے باہمی کمٹمنٹ جو ہے، اُس پر قائم رہیں۔ حکومت کا رویہ اپنی جگہ پر، مجھے یاد ہے 1977 میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنا، پاکستان قومی اتحاد کا، تو بہت بڑی تحریک چلی اور ہزاروں لوگ جیلوں میں چلے گئے، لیکن نتیجے میں مارشل لاء لگ گیا۔
ابتداء میں تو تمام ہمارے حلقوں کے اوپر پیپلز پارٹی کی مخالفت جو ہے، وہ جذباتی طور پر سوار تھی اور اُس کا فائدہ جنرل ضیاء الحق کو پہنچ رہا تھا، اور کچھ وقت ایک تعاون کا سلسلہ بھی چلا، اور تعاون کی بنیاد کیا تھی؟ کہ الیکشن آپ نے اُسی بنیاد پر کرنے ہیں جس پر پیپلز پارٹی اور پی این اے کے درمیان طے ہوا ہے، اور اُس نے کہا: ہم نویں دن کے درمیان الیکشن کراؤں گا اور اُسی معاہدے کی بنیاد پر کراؤں گا۔
اب یہ ایک قومی سطح کا عہد و پیمان تھا، قوم کے ساتھ ایک کمٹمنٹ تھی، لیکن وقت کے ساتھ جب اُنہوں نے اُس سے انحراف کیا تو مفتی صاحب نے واضح طور پر اعلان کیا کہ میں عوام کے ساتھ جو کمٹمنٹ ہے، اُس کو مسترد نہیں کر سکتا۔
اور پھر اُس کے بعد ایم آر ڈی بنی۔ ہمارے علی بھائی جو ہیں، اُن کے والدِ محترم ہمارے قائد تھے، ہمارے بڑے تھے، ہمارے بزرگ تھے۔ ہم سب نے ایک محنت کی، پیپلز پارٹی کی شمولیت سے ایم آر ڈی بنائی۔ شدید اختلافات کے باوجود بالآخر آپ کو ایک قومی مسئلے پر اکٹھا ہونا پڑتا ہے کہ قوم پہلے ہوتی ہے۔
اور مجھے بڑی خوشی ہوئی جناب علی ظفر صاحب کی گفتگو سے، اُن کے والدِ محترم جو ہیں، وہ میرے بزرگ تھے،
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب
#حقیقی_رہنماء_مولانا
#ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل
#کالے_چینلز_فلاپ
#پیڈ_چمچے
#بیوٹی_پالر_برگیڈ
چینیوں کی ایک کہاوت ہے کہ اگر ایک ہزار میل کا سفر کرنا ہو، تب بھی اس کی ابتداء پہلے قدم سے ہوتی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب الیکشن کے بعد جناب اسد قیصر صاحب کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کا ایک وفد میرے ہاں تشریف لایا تھا، پہلی ملاقات تھی، جس میں میں نے ان سے یہ عرض کیا تھا کہ آپ نے ایک اچھا آغاز کیا ہے، لیکن جو رکاوٹیں اور مشکلات ہمارے درمیان ہیں، ان کی بنیاد اب رکھ دی گئی ہے کہ اس کو تحلیل کیا جائے، اور تدریجی طور پر تحلیل ہوتی ہیں ساری چیزیں، بیک وقت نہیں ہوتیں۔
جسمانی طور پر بھی زخم یک دم آتا ہے، لیکن زخم وقت کے ساتھ ساتھ مندمل ہوتا ہے، ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔ بیماری یک دم آ جاتی ہے، لیکن اس بیماری کا ازالہ وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے، ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب
میں 1988 سے اسمبلی میں ہوں، اور میری زندگی کا جو سیاسی آغاز ہے، وہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف مارشل لاء کی تحریک ہے۔ تو میری سیاست کی ابتداء ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی ہے۔ اتار چڑھاؤ سیاست میں آتے رہتے ہیں۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب
#حقیقی_رہنماء_مولانا
#ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل
#کالے_چینلز_فلاپ
#پیڈ_چمچے
#بیوٹی_پالر_برگیڈ
تم جتنے مرضی چینلز بنا لو تم جتنے مرضی ان چینلز پہ کرائے کے لوگ بٹھا کر کردار کشی کروالو گالیاں دلوادو دشنام طرازی کروالو تم جتنے مرضی غداری کے فتوے جاری کروالو مولانا فضل الرحمن تمھارا حقیقی آمرانہ، آئین کو پاؤں تلے روندنے والا پارلیمنٹ کو لونڈی بنانے والا کرپٹ سےسیاستدانوں کو تحفظ دینے والا کالا چہرہ عوام کو دکھاتا رھے گا اور اسکا سرفروش کارکن اسکا اسی طرح دفاع کرتے ھوئے تمھارے اور تمھارے کرایہ داروں کے سینے پر مونگ دلتا رھے گا ان شاءاللہ
#حقیقی_رہنماء_مولانا
#ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل
#کالے_چینلز_فلاپ
#پیڈ_چمچے
#بیوٹی_پالر_برگیڈ