Great honour to talk to Chairman Imran Khan. I’m very grateful to put a smile on his face in these tiring times for him with my “Apne ghabrana nahn hai” This was a once in a lifetime and unbelievable experience. Thank you
@ImranKhanPTI@PTIofficial#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
حکومتی افلاطون آزاد کشمیر کے معاملے میں بھی اپنی نااہلی، غفلت اور نالائقی پر توجہ دینے کی بجائے ایک بار پھر غیر ملکی فنڈنگ اور سازش کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ 20 سال میں 11 وزیراعظم تبدیل کئے گئے ہیں، کیا یہ بھارتی سازش تھی؟
کشمیر پلندری میں عوام مکمل لاک ڈاؤن کرکے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے، جو احتجاج 9 جون کو شروع ہونا تھا وہ احتجاج فیصلہ سازوں کی بیوقوفی نے 6 جون کو ہی شروع کروا لیا ہے
تمام کشمیری عوام اور ساتھیوں کو آگاہ کیا جاتا ہے:
آزاد کشمیر میں اس وقت صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ حکومت نے پوری وادی میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ راولاکوٹ میں ہمارے ساتھی عمر نذیر پر حملہ کیا گیا ہے اور ہمارے عزیز ساتھی شازیب حبیب کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور زخمی ساتھیوں کو مکمل صحت عطا فرمائے۔ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہمارا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ یہ ریاست ہماری ہے اور اس کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔شازیب شہید کی نمازِ جنازہ کے بعد ساتھیوں کی مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ لانگ مارچ بھرپور انداز میں کیا جائے گا۔ہماری تحریک مکمل طور پر پرامن ہے اور ہمارے مطالبات جائز اور عوامی ہیں۔ ہم ہر قسم کے جبر، دباؤ اور رکاوٹوں کا مقابلہ صبر، اتحاد اور پرامن جدوجہد کے ذریعے کریں گے۔ تمام ساتھی کسی بھی ایسی حرکت سے گریز کریں جس سے سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچے۔ ہمارا مقصد تعمیر، اصلاح اور حقوق کا حصول ہے، نقصان اور انتشار نہیں۔ ہم دنیا بھر میں موجود کشمیری بھائیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ہماری آواز بنیں اور اس صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔ خاموشی اس وقت ظلم کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔شوکت نواز میر
𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐓𝐞𝐡𝐫𝐞𝐞𝐤-𝐞-𝐈𝐧𝐬𝐚𝐟 (𝐏𝐓𝐈) 𝐞𝐱𝐩𝐫𝐞𝐬𝐬𝐞𝐬 𝐢𝐭𝐬 𝐩𝐫𝐨𝐟𝐨𝐮𝐧𝐝 𝐜𝐨𝐧𝐜𝐞𝐫𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐝𝐢𝐬𝐚𝐩𝐩𝐨𝐢𝐧𝐭𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐨𝐯𝐞𝐫 𝐭𝐡𝐞 𝐀𝐳𝐚𝐝 𝐉𝐚𝐦𝐦𝐮 𝐚𝐧𝐝 𝐊𝐚𝐬𝐡𝐦𝐢𝐫 (𝐀𝐉𝐊) 𝐠𝐨𝐯𝐞𝐫𝐧𝐦𝐞𝐧𝐭’𝐬 𝐬𝐮𝐝𝐝𝐞𝐧 𝐝𝐞𝐜𝐢𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐭𝐨 𝐝𝐞𝐜𝐥𝐚𝐫𝐞 𝐭𝐡𝐞 𝐉𝐚𝐦𝐦𝐮 𝐊𝐚𝐬𝐡𝐦𝐢𝐫 𝐉𝐨𝐢𝐧𝐭 𝐀𝐰𝐚𝐦𝐢 𝐀𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐢𝐭𝐭𝐞𝐞 (𝐉𝐀𝐀𝐂) 𝐚 𝐩𝐫𝐨𝐬𝐜𝐫𝐢𝐛𝐞𝐝 𝐨𝐫𝐠𝐚𝐧𝐢𝐳𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧, 𝐚𝐬 𝐰𝐞𝐥𝐥 𝐚𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐭𝐫𝐚𝐠𝐢𝐜 𝐯𝐢𝐨𝐥𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐢𝐧 𝐑𝐚𝐰𝐚𝐥𝐚𝐤𝐨𝐭, 𝐰𝐡𝐞𝐫𝐞 𝐨𝐧𝐞 𝐢𝐧𝐧𝐨𝐜𝐞𝐧𝐭 𝐥𝐢𝐟𝐞 𝐡𝐚𝐬 𝐛𝐞𝐞𝐧 𝐥𝐨𝐬𝐭 𝐚𝐧𝐝 𝐬𝐞𝐯𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐨𝐭𝐡𝐞𝐫𝐬 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐬𝐮𝐬𝐭𝐚𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐢𝐧𝐣𝐮𝐫𝐢𝐞𝐬.
PTI strongly believes that political, social, and constitutional grievances must be addressed through democratic engagement, meaningful dialogue, and constitutional means,not through bans, coercion, or the use of force.
If JAAC was truly a terrorist organisation, why did the government spend months negotiating with it, signing agreements with it, implementing its demands, holding meetings with its leadership and treating it as a legitimate stakeholder until yesterday?
The strike call was given by JAAC following violation of an agreement between government and committee. JACC is comprises over the people belonging from all parties and civil society. The action committer was formed following worst kind of goverance by Peoples Party and Nawaz League.
This is the same failed model that has been used against PTI. Suppress peaceful protest, block roads, suspend communication, intimidate citizens and then call every democratic demand a threat to the state.
PTI has consistently maintained that political questions must be answered through dialogue, constitutional process and public mandate and not through bans, containers, arrests, internet shutdowns and the misuse of anti-terrorism laws.
The people of Azad Jammu and Kashmir have legitimate constitutional, democratic, social and economic concerns. If there is a dispute over refugee seats, electoral representation or the powers of the Legislative Assembly, the answer lies in open debate, judicial review and political engagement instead declaring citizens’ platforms as terrorist organisations.
Kashmir is not an ordinary political matter; it is Pakistan’s national cause, a matter of our principled stand, and a symbol of the sacrifices of the Kashmiri people. As patriotic Pakistanis, we must protect this cause with wisdom, unity and responsibility. Any internal unrest in Azad Jammu and Kashmir must be handled with extreme care, because India is always looking for opportunities to distort facts, spread propaganda and weaken Pakistan’s moral and diplomatic position on Kashmir.
Therefore, the government must not create any impression that legitimate public grievances in AJK are being crushed by force. The stronger and more democratic Azad Kashmir appears, the stronger Pakistan’s case becomes before the world.
History proves that the use of force has never produced lasting political solutions. From the tragedy of East Pakistan to the continuing unrest in Balochistan, the lesson is clear that political problems require political solutions. Coercion may create temporary silence, but it deepens resentment and weakens national unity.
PTI demands that the government immediately review the proscription decision, restore communication services, protect peaceful assembly, avoid collective punishment, and begin serious dialogue with all stakeholders.
AJK must be handled with maturity and constitutional wisdom.
Issued by:
Central media department
Pakistan Tehreek-e-Insaf
HRCP is deeply concerned by the AJK government's decision to proscribe the Joint Awami Action Committee (JAAC) under anti-terrorism legislation ahead of its planned protest on 9 June. The use of counterterrorism laws against a group that has been mobilising around political and socioeconomic demands, and had called for a public protest, raises serious concerns about the shrinking space for peaceful assembly and dissent in this region.
At a time when elections are approaching in July, it is particularly important that fundamental freedoms, including the rights to expression, association and peaceful assembly, are fully protected.
عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا اعلان درحقیقت صرف ایکشن کمیٹی کے خلاف نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے ان لاکھوں عوام کے خلاف ہے جو اپنے حق روزگار عزت اور بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں....نو جون کی کال کسی ایک کمیٹی یا چند افراد کی کال نہیں بلکہ یہ آزاد کشمیر کے ہر شہر ہر قصبے ہر گاؤں اور ہر گھر کے باشعور عوام کی آواز ہے جب ایک تحریک میں نوجوان بزرگ مزدور تاجر طلبہ اور خواتین شامل ہوں تو اسے کالعدم قرار دینا دراصل پوری کشمیری قوم کی اجتماعی رائے کو کالعدم قرار دینے کے مترادف ہے....افسوس کہ چند مراعات یافتہ اشرافیہ جو اپنی کرسیوں اپنے مفادات اور اپنی عیاشیوں کے تحفظ میں مصروف ہیں عوامی مطالبات سننے کے بجائے عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عوامی شعور کو نہ پابندیوں سے روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری اعلانات سے ختم کیا جا سکتا ہے....نو جون کو ثابت ہوگا کہ یہ صرف عوامی ایکشن کمیٹی کی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے غیور عوام کی تحریک ہے عوام کی آواز کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ قومیں زندہ رہتی ہیں اور ان کے حقوق کی جدوجہد بھی زندہ رہتی ہے....آج اگر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم کہا جا رہا ہے تو کل آزاد کشمیر کے ہر اس فرد کو کالعدم کہنا پڑے گا جو ظلم ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے....نو جون عوامی طاقت کا دن ہوگا اور عوام اپنے اتحاد سے یہ پیغام دیں گے کہ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔!
عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا اعلان درحقیقت صرف ایکشن کمیٹی کے خلاف نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے ان لاکھوں عوام کے خلاف ہے جو اپنے حق روزگار عزت اور بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں....نو جون کی کال کسی ایک کمیٹی یا چند افراد کی کال نہیں بلکہ یہ آزاد کشمیر کے ہر شہر ہر قصبے ہر گاؤں اور ہر گھر کے باشعور عوام کی آواز ہے جب ایک تحریک میں نوجوان بزرگ مزدور تاجر طلبہ اور خواتین شامل ہوں تو اسے کالعدم قرار دینا دراصل پوری کشمیری قوم کی اجتماعی رائے کو کالعدم قرار دینے کے مترادف ہے....افسوس کہ چند مراعات یافتہ اشرافیہ جو اپنی کرسیوں اپنے مفادات اور اپنی عیاشیوں کے تحفظ میں مصروف ہیں عوامی مطالبات سننے کے بجائے عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عوامی شعور کو نہ پابندیوں سے روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری اعلانات سے ختم کیا جا سکتا ہے....نو جون کو ثابت ہوگا کہ یہ صرف عوامی ایکشن کمیٹی کی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے غیور عوام کی تحریک ہے عوام کی آواز کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ قومیں زندہ رہتی ہیں اور ان کے حقوق کی جدوجہد بھی زندہ رہتی ہے....آج اگر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم کہا جا رہا ہے تو کل آزاد کشمیر کے ہر اس فرد کو کالعدم کہنا پڑے گا جو ظلم ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے....نو جون عوامی طاقت کا دن ہوگا اور عوام اپنے اتحاد سے یہ پیغام دیں گے کہ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔!
جو کہتے ہیں کہ عمران خان ہم نے بنایا وہ سن لیں کہ تم میں اتنی اوقات ہی نہیں ہے کہ تم عمران خان جیسے کو بناؤ اور ختم کرو۔!! تم سے نہ ہو پائے گا۔!!
وہ کل بھی ہیرو تھا وہ آج بھی ہیرو ہے!!
#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان
شہادت کی خواہش رکھنے والے ایسا لگژری لائف سٹائل نہیں اپناتے، لڑنے والے فوجی خود کو شاہانہ سہولیات کا عادی نہیں بناتے
غریب فوج کے آفس کی دیواریں Walnut اور فرنیچر شیشم اور ساگوان کی قیمتی لکڑی سے تیار نہیں کیے جاتے
آرمی کے قبضے میں موجود ہر اک شئے پر پاکستانی عوام کا حق ھے
فوج نے ساری کشمیری قیادت مٹھی میں کررکھی تھی۔ میوزیکل چئیر کا کھیل چلتا رہتا تھا۔ پھر ایکشن کمیٹی آگئی۔ شوکت میر ، خواجہ مہران ، سردار عمر نذیر جیسے عام لوگ آگئے جو منظم بھی ہیں ، ایماندار بھی اور پر عزم بھی۔ ایک دن وقاص اکرم ، بیرسٹر گوہر جیسے بھی اٹھا کر سائیڈ پر کردیے جائیں گے اور انکی جگہ حقیقی عوامی قیادت لے لے گی۔ یہ وقت اب زیادہ دور نہیں۔
تحریک کا پہلا شہید۔
کھائیگالہ راولاکوٹ۔عمر نزیر کشمیری اور شاہزیب حبیب پر فائرنگ عمر نذیر زخمی اطلاع کے مطابق شاہزیب حبیب گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے ہیں
اللہ پاک شہادت قبول فرمائے آمین
کشمیر میں بلیک آؤٹ کر ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کو گرفتار کرنا ان کے گھروں میں چھاپے اور ڈرانا دھمکانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے
اس کے ذمہ داری کٹ پتلی حکومت اور انتظامیہ ہے۔
کشمیر حالات خراب ہیں
گلگت میں الیکشن کے بعد حالات خراب ہوجائیں گے
بلوچستان میں حالات قابو سے باہر ہیں.
کے پی کی عوام سہیل آفریدی کی طرف دیکھ رہی ہے.
پنجاب اور سندھ کی عوام کے پی کی طرف دیکھ رہی ہے.
اگر کوئی جرات مند قیادت ہوتو اس وقت اپنے تمام جائز مطالبات منوائے جا سکتے ہیں. ضرورت صرف ہمت دکھانے کی ہے
@enkidureborn حامد میر واشنگٹن پوسٹ میں عمران خان کی حکومت کے خلاف لکھتا رہا ۔ اس کا بھائی پنجاب میں فسطائیت مچاتا رہا۔ اس بدبخت سے کسی خیر کی امید نہیں ہے۔!!
اس بدبخت انسان کو نومئی کو شہید ہونے والے تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان دکھائی نہیں دیے۔ اس بے حس کو چھبیس نومبر کا قتل عام دکھائی نہیں دیا۔ اس شعور سے اندھے کو ہزاروں گھروں پر چھاپے یاد نہیں۔ اس بے ضمیر شخص کو معلوم نہیں کہ تحریک انصاف کے جلسے کا اعلان پشاور یا کراچی میں ہوتا ہے تو پنجاب اور کشمیر میں بھی متحرک کارکنان کو اغواء کرکے تھانوں میں بٹھا لیا جاتا ہے۔
تحریک لبیک کے لوگ احتجاج کے لیے نکلنے تو لاشیں سڑکوں پر پڑی تھیں اور کوئی اٹھانے والا نہ تھا۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچز پر شیلنگ بھی ہوئی اور فائرنگ بھی۔ نومئی کے بعد تو جس قسم کی بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اس کا عشر عشیر بھی دنیا کو معلوم نہیں۔ لیکن اس بدبخت کو وہ سب معلوم ہے۔ ایسا خوف پھیلایا گیا اور ایسی ایسی گری ہوئی حرکتیں کی گئیں کہ لوگ مجبور ہوگئے۔ لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ ننگی ویڈیوز بھی اس خوف کا ہتھیار تھا برہنہ کرکے کرنٹ لگانا بھی خوف پھیلانے کا طریقہ۔ رہنماؤں اور کارکنان کی بہنوں بیٹیوں کے گھروں میں بھی چھاپے مارے گئے۔
اس بدبخت کو پتہ ہے کہ لوگ اس وحشت کے ہاتھوں خوفزدہ ہوگئے۔ لیکن جب جب لوگوں کو موقع ملا انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا اور آٹھ فروری جیسے معرکے برپا کیے۔ یہ بدبخت انسان ڈرے ہوئے اور خوفزدہ انسانوں کی بے بسی کو کچوکے لگاتا ہے۔ ان پر طنز کے وار کررہا ہے۔ اس وحشت کو سیاسی گیند بازی کے لیے استعمال کررہا ہے۔ یہ خوف ہمیشہ نہیں رہے گا۔ یہ وہی خوف ہے جو بلوچستان میں بلوچوں کی جوتیوں کی نیچے چپکا ہوا ہے۔ بس ہم دعا کرتے ہیں کہ کہیں اس ملک میں وہ نوبت نا آجائے ، پورا ملک ویسے حالات سے دوچار نہ ہوجائے ، ورنہ جن غاصبوں کو یہ بدبخت انسان جواز گھڑ گھڑ کے دے رہا ہے انکی وقعت مقبولیت اور پذیرائی کے خانے میں اس وقت کسی نالی میں گرے ہوئے شاپر سے بھی کمتر ہے۔