جنید اکبر کی اس بات سے 100 فی صد اتفاق کر تا ہوں کہ اگر خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگتا ہے،تو فارم 47 کی جعلی قومی اسمبلی سمیت تمام جعلی صوبائی اسمبلیوں سے ہمیں فی الفور مستعفی ہونا چاہیے۔۔
یاد دہانی
سندھ طاس معاہدہ معطل ہے۔ بھارت پاکستانی دریاؤں پر ڈیمز اور نہریں بنا رہا ہے۔ 800 ارب روپے سالانہ صرف پنشن کھا جانے والی فوج اس پر ایک حرف کہنے سے قاصر ہے۔
عمران خان بغیر کسی جرم کے قید میں ہیں اور وہاں سے بھی ق��م و ملک و ملت کے مجرموں کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ اس بہادری اور شجاعت کا 10 فیصد انکی قوم بہادری دکھائے تو یہ مجرم کم از کم پاکستان میں نظر نہیں آئینگے۔ اس گرتی ہوئی دیوار کو، ایک دھکا اور دو۔۔۔
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
تحریک انصاف اگر عمران خان کی بہنوں اور پختونخواہ میں اغواء و گرفتار ہونے والے کارکنان کی رہائی کے بغیر مذاکرات شروع کرتی ہے تو یہ وقت کا ضیاع ہے۔ کٹھ پتلی حکومت سے م��اکرات کرنا بیوقوفی ہے۔ لانگ مارچ کو مزید ملتوی کرنا نالائقی اور عمران خان کو سنٹر سٹیج پر لائے بغیر مذاکرات کے شور میں حصہ دار بننا سیاسی عدم بلوغت ہے۔
کچھ دنوں سے ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں جرنیل اپنی کسی خاتون کو بلوچ کپڑے پہنا کر نیم برہنہ حالت میں دکھا کر تاثر دے رہے ہیں یہ بلوچ خاتون ہے
یہ کوئی نئی بات نہیں انہوں نے زین قریشی سے ووٹ لینے کے لیے ��ین سے مل کر ڈرامہ رچایا کہ آپ تاثر دیں کہ آپ کی بیوی کو ISI نے اغواء کر لیا ہے اور اس لیے آپ نے بس ہو چکے ہیں
کیا کسی بھی مہذب دنیا کی انٹیلیجنس ایجنسی خود اتنا بدنام ہونا چاہے گی کہ اس کی عوام اس کے بارے میں یہ سوچے کہ یہ ایجنسی لوگوں کی ماؤں بہنوں بیٹیوں بیویوں کو اغواء کرتی ہے لیکن ISI یہ کام بڑے فخر سے کرتی تھی
بااصول مافیا بھی ایسی غلیظ حرکتیں نہیں کرتا
"What will become of Imran Khan, only Allah knows. But this much is already clear: the men who imprisoned him have already lost the war of ideas. They may keep him in a cell. They may keep his sisters in detention. They may keep his party in disarray. But they cannot keep his story from being told. And in the end, it is stories, not generals that shape the soul of a nation. The tyrant fears the poet more than the soldier. The poet is remembered; the soldier is replaced. And so the wheel turns again. Another man, another prison, another set of sisters taken from their homes. Another generation watching, learning, remembering …and somewhere, in the silence of a cell, a voice is speaking words that will outlive the walls around it; just as they did before, just as they always will."
https://t.co/cvyPsA3asB
گستاخی معاف گزارش ہے کہ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کچھ وقت کے لیے اپنے آپ کو ریلیونٹ رکھنے کی کوششوں میں مت پڑیں اور یہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نامی پٹاری بند رکھیں۔
Lol fyi, for the record, I did not apologize to her if that is the impression being given here. I stand by my assertion that she is a military-backed grifter who is also a bank defaulter. I have not taken down any tweets.
بنوں میں انصاف یوتھ ونگ کے وقار یونس، حمید خان اور عدنان خان کو نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ ایسے اقدامات سے کارکنان کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
مقبوضہ کشمیر سے یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، آسیہ اندرابی ، انجینئر رشید بھارت کی جیلوں میں ہیں لیکن انکی اہلخانہ سے ملاقاتوں پر پابندی نہیں ۔
پاکستان میں پاک فوج نے گیارہ ماہ سے عمران خان کے لیے یہ سہولت بند کررکھی ہے۔
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانو�� کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو ��کمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“
جا راضی آں تیرے توں @ShafiJanPTI
سوال: سہیل آفریدی اور آپ لوگوں پر پریشر تو گا ؟
شفیع جان: پریشر کا بڑا سادہ جواب ہے کہ شائید ہمیں تیار ہی اس دن کے لیے کیا گیا ہے ہمیں شائید اس منصب پر بیٹھایا ہی اسی دن کے لیے گیا ہے کہ ہم نے مزاحمت کرنی ہے ہم عمران خان کی original breed ہیں ہم کسی اور پارٹی سے یہاں تک نہیں آئے ہم نے پہلے دن سے ہی عمران خان کو دیکھا ہے عمران خان کو بطور ہیرو دیکھا ہے سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ شائید اس دن کے لیے بنے ہیں میں وزیر شائید اس دن کے لیے بنا ہوں اسی لیے میڈیا پر بین ہوں ۔
پاکستان تحریک انصاف کے لوگ وہ سنہری اصول بھول چکے ہیں ۔۔کہ نا اپ نے اس طرح کے لوگوں کو جواب دینا ہے نا ہی ان کی پوسٹ کو کوٹ کرنا ہے بلکہ ان کے بیانیے کو ختم کرنا ہے اس اصول کے ذریعے
#NoCommentZeroReach
پوسٹ کو ری پوسٹ کریں اور اس ہیش ٹیگ پر پوسٹ بھی کریں اور عمل بھی
میرا سوال ہے منیب فاروق صاحب سے اور منصور علی خان صاحب سے کہ کیا انہوں نے اپنے پروگرامز میں Electric گاڑیوں کے متعلق نئی پالیسی پر تنقید خود سے کی تھی ؟ یا انہیں اس کے لئیے کسی کمپنی نے pay کیا تھا ؟
عوام کا یہ حق ہے کہ انہیں پتہ چلے یہ سب صرف ص��افتی رائے تھی یا paid lobbying؟