4 محرم الحرام:
کربلا میں فوج جفا کا سمندر جمع ھو گیا۔ ابن زیاد نے مسجد کوفہ میں بنی امیہ کی تعریف اور امام ع کے قتل کیے جانے پر خطبہ دیا۔ اسکے بعد کوفہ سے باہر مقام نخیلہ میں قیام کرتے ھوئے تمام جنگی امور کی نگرانی کرنے لگا۔
سب سے پہلے حر کو 1000 اور اسکے بعد برابر فوج در فوج بھیجی گئی جن کی تفصیل یہ ہے: عمر ابن سعد کو 4000، کعب بن طلحہ کو 3000، شمر کو 4000، یزید بن رکاب کلبی کو 2000، حصین بن نمیر کو 4000، مضایر بن رھینہ مازنی کو 3000، نصر بن حرشہ کو 3000، شیث بن ربعی کو 1000 اور حجار بن ابجر کو 1000۔
یہ 25000 سے 30000 تک کی کثیر فوج کس لیے بھیجی جا رہی تھی؟ محض فرزند رسول ص، پروردہ کنار بتول س، جگر گوشہ امام مبین علی ابن ابیطالب ع، پروردہ جبرائیل امین ع، برادر امام حسن ع، سفینہ النجات و مصباح الہدی امام سید الشہداء کی شمع حیات کو گل کرنے کے لیے۔ جنکے تمام اعزہ و انصار کی تعداد بنا بر مشہور کل 72 یا 145 نفوس تھی۔
کہاں 145 یا 72 نفوس زاکیہ اور کہاں 30000 کا انسان نما خونخوار درندوں کا لشکر.
"جون بن حویؑ"
۔
وہ کیسا منظر ہوگا جب مدینہ چھوڑنے سے قبل ایک ٧٠ سالہ ضعیف سیاہ فام شخص نے امام حسین علیہ السلام سے درخواست کی ہوگی کہ وہ بھی ان کے ہمراہ کوفہ جانا چاہتا ہے۔ جب امام حسین علیہ السلام نے اُس شخص سے کہا ہوگا کہ آپ نے اہل بیت علیھم السلام کی بہت خدمت کرلی اب آرام کیجئے۔ جب اُس سیاہ فام شخص نے بھرائی آواز میں کہا ہوگا کہ جانتا ہوں آپ مجھے کیوں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے، اس لیے کہ میں سیاہ فام ہوں۔ اور جب امام حسین علیہ السلام نے آگے بڑھ کر اس ستر سالہ شخص کی پیشانی کا بوسہ لیکر اسے سینے سے لگایا ہوگا۔ میرا دل کہتا ہے کہ دیکھنے والوں کو حسینؑ کے نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور بلال رض کی یاد آگئی ہوگی۔
۔
یہ جون بن حویؑ تھے، کربلا کے منور و معطر شہید۔ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مولا علیؑ کے وفادار۔ اُنہوں نے حبشہ میں اسلام قبول کیا، ہجرت کرکے مدینہ آئے اور امام علیؑ کی غلامی اختیار کی۔ امام حسنؑ و حسینؑ کا ساتھ پایا، امام علیؑ نے اُنہیں ابوذرؑ کے سپرد کیا، ابو ذر غفاریؑ کے قرب میں رہے، یہاں تک کہ اُن ہی ساتھ جلاوطن کرکے شام بھیجے گئے اور کلمہ حق کی پاداش میں ایک بار پھر جبل الامل نامی پہاڑی قصبے میں جلاوطن کیے گئے۔ موجودہ لبنان میں موجود جبل الامل کا علاقہ آج محبان اہلیبیتؑ کا مرکز ہے، جب کسی عالم کے نام کے ساتھ الآملی لکھا دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ یہ ابوزرؑ اور جونؑ کی محنت ہے، شیخ حُر الآملیؒ کا نام کس نے نہیں سنا ہوگا؟
جونؑ اور ابوذرؑ کے تعلق کو بیان کرنے کیلئے اس سے بہترین مثال اور کیا ہوگی کہ زیارتِ ناحیہ میں جونؑ اور ابوذر غفاریؑ کا نام ایک ساتھ آیا ہے۔ گویا جونؑ وہ ہستی ہے جس نے کربلا میں اپنے آقا اپنے دوست ابوذر غفاریؑ کی نیابت بھی کی۔
۔
جون بن حویؑ کا ابوذر غفاریؑ کے ساتھ تعلق ابوذرؑ کی مظلومانہ شہادت کے ساتھ ختم ہوگیا۔ ابوذر غفاریؑ جیسا جلیل القدر صحابی رسولؐ جس کے تقوے کو رسولِ خداؐ نے عیسیؑ کے تقوے سے تشبیہ دی، وہ اس قدر مظلومانہ انداز سے شہید کیوں ہوا، اس کا سوال "صحابہ دے نوکروں" کو ضرور دینا چاہئے، ہم شیعہ عرض کرتے ہیں تو رافضی کہلاتے ہیں۔
۔
آپ جون بن حویؑ کی عظمت دیکھیے۔ حبشہ میں مسلمان ہوئے، ہجرت کرکے رسولِ خداؐ کی خدمت میں مدینہ آئے، امام علیؑ کے ساتھ رہے اور ابوذرؑ کی ہمراہی میں شام اور جبل الامل سے ہوتے ہوئے ساٹھ ھجری میں دوبارہ امام حسینؑ کے سامنے اس انداز سے آکھڑے ہوئے کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ میرا آقا ابوذرؑ تو شہید ہوچکے، میں یقینا اسی لیے زندہ ہوں کہ آپ کے ساتھ شہید ہوسکوں۔
یہ ستر سالہ بوڑھا جب گھوڑے سے گرا تھا تو اپنے سر کو امام حسینؑ کے زانو پر پایا تھا۔ وہ جونؑ جس نے مدینہ میں امام حسینؑ سے شکوہ کیا تھا کہ شاید آپ مجھے اس لیے نہیں لے جانا چاہتے تھے کہ میں سیاہ فام ہوں، میرے پسینے سے بدبو آتی ہے، اُسی جونؑ نے اپنا سر زانوئے حسینؑ پر پایا۔ خدا جانے یہ منطر دیکھ کر بھی کسی کو حسینؑ کے نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور بلال رض یاد آئے ہونگے یا نہیں؟
یہ وہ موقع تھا جب جونؑ کا سر اپنے زانو پر رکھ کر امام حسینؑ نے وہ تاریخی دعا کی تھی کہ اے پروردگار جونؑ کا چہرہ منور کردے، اس کے پسنے کو معطر کردے۔ کہتے ہیں کہ دعا ختم ہوتے ہی جونؑ کا جسم خوشبو سے معطر ہوگیا تھا، چہرہ نور کی مانند چمک اُٹھا تھا۔ یہ کربلا کا منور و معطر شہید تھا جو حبشہ سے ہوتا ہوا کربلا پہنچا تھا کہ اپنا خون، خون مطھر حسینؑ کے ساتھ شامل کرسکے۔
۔
ضریح امام حسینؑ کے بالکل سامنے، گنج شہیداںؑ میں مدفوں جون بن حویؑ، حُر بن یزید الریاحیؑ کی طرح کربلا کا وہ منفرد و لازوال کردار ہے جو کربلا کو حادثہ اور اقتدار کی جنگ کہنے والوں کو تاحشر جواب دیتا رہے گا کہ یہ حق و باطل کا وہ آفاقی معرکہ ہے جس میں اپنا نام شامل کروانے کیلئے میں نے حبشہ سے کربلا ہجرت کی۔
" اَلسَّلَامُ عَلَى جَوْنٍ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ"
۔
#نوردرویش
إن عدم التزام الولايات المتحدة بالبند الأول من مذكرة التفاهم يُظهر أنها لا تملك الارادة لكسب ثقة الشعب الإيراني.
استمرار هذا الوضع سيكلفهم ثمناً باهظاً، أوله ردٌّ ذكيٌّ ورادعٌ على انتهاك التزامات مذكرة التفاهم.
نحن ما زلنا واقفين بثبات
حبیب ابن مظاہر پر دو سلام ایسے بھیجے گئے ہیں جن کا خصوصیت سے ذکر کرنا چاہئے۔ ایک سلام وہ جو سیدہ زینبؑ نے حبیبؑ کے کربلا پہنچنے پر فضہ کے ذرئعے بھجوایا۔ یہ وہ سلام تھا جسے سُن کر حبیبؑ روتے ہوئے زمینِ کربلا پر بیٹھ گئےتھے اور ریت اپنے چہرے پر ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ بنتِ علیؑ اور مجھے سلام؟ اور ایک سلام وہ جو زیارتِ ناحیہ میں امامِ زمانہؑ نے “اسلام علیک یا حبیب ابن مظاہرؑ” کہہ کر بھیجا۔ پھر ایک سلام وہ بھی تھا جو “علیک مِنی سلام” کہہ کر حبیبؑ نے امام حسینؑ پر اُس وقت بھیجا جب وہ گھوڑے سے نیچے گرے۔ مجالس میں سنتا آیا ہوں کہ امام حسینؑ نے اپنے دوست کے دنیا سے رخصت ہونے پر اُس کے سرہانے بیٹھ کر کچھ ایسے الفاظ میں اُسے یاد کیا تھا”
” تم سے خدا راضی ہو اے حبیبؑ، تم ایک رات میں مکمل قران کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ “
ایک سلام کا تذکرہ اور بھی ملتا ہے۔ جب شہیدانِ کربلا کے سر کوفہ لیجائے گئے تو حبیب ابن مُظاہرؑ کے بیٹے نے اپنے باپ کا سر پہچان کر اپنی والدہ کو خبر دی۔ یہ خبر سُن کر حبیبؑ کی زوجہ نے اپنا رُخ مدینے کی طرف کیا اور کہا
“اسلام علیک یا فاطمہ۔س
۔
#نوردرویش
عثمان بن علیؑ
صحابی جلیل القدر حضرت عثمان بن مظعون نبی کریمؐ کے بہت ہی پیارے اور قریبی صحابہؓ میں سے ہیں، آپ سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں، آپ وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے دورِ جاہلیت میں بھی شراب کو خود پر حرام قرار دے رکھا تھا، آپ اپنے بھائی کے ساتھ حبشہ اور مدینہ ہجرت کرنے والے اصحاب میں سے تھے، آپ ابی ارقم ؓ اور عبیدہؓ کے ساتھ آقا کریمؐ کی بارگاہ میں پیش ہوئے اور اسلام قبول کیا، آپ اسلام قبول کرنے والے پہلے تیرہ افراد میں شمار کئیے جاتے ہیں، آپ عابد زاہد انسان تھے دن کو روزہ کی حالت میں رہتے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے۔
آپ وہ عظیم شخصیت ہیں جو مہاجرین میں سب سے پہلے جنت البقیع میں دفن ہوئے اور نبی کریمؐ نے آپکی پیشانی پہ بوسہ دیا اور اپنے ہاتھوں سے آپ کی قبر پہ پتھر رکھ کر نشان بنا دیا اور اکثر آپ کی قبر پہ آتے تھے،
حضرت عثمان بن مظعون کو مولا علیؑ سے خاص رغبت تھی اور امام علیؑ کو بھی آپ سے بے انتہاء محبت تھی، امام علیؑ آپ کو اپنا بھائی کہتے تھے یہی وجہ ہے مولا علیؑ نے آپ کی وفات کے بعد اپنے ایک بیٹے کا نام عثمان رکھا، نبی کریمؐ کے تمام اصحاب میں عثمان نام کے پچیس صحابہ کرامؓ ہیں مگر امام علیؑ نے اپنے بیٹے کا عثمان نام اپنے دوست عثمان بن مظعون کی محبت میں رکھا۔
عثمان بن علیؑ کربلاء کے شہداء میں سے ہیں، آپ حضرت عباس بن علیؑ کے سگے بھائی تھے اور آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت حزام جنہیں ام البنینؑ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ غیر شادی شدہ تھے اور کربلاء میں جنگ کے وقت آپ کی عمر مبارک 21 سال تھی، بنی ہاشمؑ کے جوانان میں سے جب آپ کے بھائی عبداللہ بن علیؑ اور جعفر بن علیؑ شہادت نوش فرما گئے تو آپ میدان میں گئے اور دلیری کے ساتھ جنگ کی میدانِ جنگ میں اترتے ہی آپ نے یہ رجز پڑھے
میں ہوں عثمان افتخارات کا مالک, میرے آقا علیؑ ہیں جن کے نیک کام ظاہر و آشکار ہیں۔
وہی جو نبیؐ کے چچا زاد ہیں، یہ حسینؑ میرے بھائی ہیں تمام بھائیوں سے بہتر، رسول اور اسے کے وصی کے بعد چھوٹے بڑے سب انسانوں کے سردار ہیں
دورانِ جنگ خولی بن یزید نے آپ کی پیشانی میں تیر مارا آپ گھوڑے سے زمین پہ گرے اور یزیدی فوج کے ایک شخص نے آپ کا سر قلم کیا۔
امام زمانہؑ زیارتِ ناحیہ میں حضرت عثمان بن علیؑ کو یاد کرکے فرماتے ہیں
سلام ہو آپ پر اے عثمان بن علی بن ابی طالب، اور اللہ کی رحمت اور برکات ہوں آپ پر، پس کس قدر عظیم ہے آپ کی قدر، کتنی شیریں ہے آپ کی یاد اور کتنا نمایاں ہے آپ کا اثر، اور کس قدر مشہور ہیں آپ کی نیکیاں اور کتنی بلند ہے آپ کی مدح اور کتنی عظیم ہے آپ کی شان۔
آپ کربلاء میں باقی شہدائے کربلاء کے ساتھ گنجِ شہداء میں دفن ہیں اور آپ کا نام بھی ان تمام شہدائے کربلاء کی فہرست میں شامل ہے جن کے خون نے تلوار پہ فتح حاصل کی۔
آپ پہ لاکھوں درود و سلام ہوں۔
علی اصغر
ہم اتنے بھولے تھے کہ فوجیوں کو اپنا بھائی سمجھ کر گلے لگاتے رہے ۔۔
عمران خان نے فوجی ادارے کو عوام کے غیض و غضب سے بچانے کیلئے "یہ فوج بھی میری" کا نعرہ بلند کیا
وقت نے ثابت کر دیا کہ عمران خان غلط تھا اور ہم بھی غلط تھے
یہ فوج میری نہیں اور فوجی ہمارے بھائی نہیں
مریم نواز کی ماہانہ واری کا خون رائیگاں نہیں جاتا، خیبرپختونخوا کے کچھ پشتون اسے اپنی رگوں میں اتار لیتے ہیں
غدار یونہی اچانک جنم نہیں لیتے، خون اپنا اثر دکھانے میں وقت لیتا ھے
@SohailAfridiISF@ShafiJanPTI
Israeli strikes killed at least three people in Lebanon despite the US-Iran deal, which calls for a “complete ceasefire on all fronts.”
ISRAEL = THE SPOILER.
⚡Trump accused Iran of disrupting a technical meeting on a peace agreement in Switzerland and stated that Tehran will not receive "a single cent" from the US.
"It's not us who didn't meet out of desperation, it's Iran. They're finished! We'll withstand those 60 days. They won't get any money - not a single cent!"
This is not a rant by a random genocidal lunatic. It's a public post by the national security minister of the Israeli regime.
The genocidal death cult headquartered in Tel Aviv is a threat to all of humanity. It threatens all humans. Its only interest is permanent war.
سوشل میڈیا کا پریشر، اعلان کی حد تک ہی سہی سرپلس بجٹ دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کا پریشر بہت میٹر کرتا ہے جرنیل اسی لئے اربوں لگا رہے ہیں سوشل میڈیا پہ کاش بطور قوم ہم اپنی طاقت کو پہچان سکیں!
https://t.co/aPM2JD9yg1
Hezbollah MP Fadlallah told Reuters that Iran informed the group that negotiations with the U.S. cannot continue unless a comprehensive ceasefire is reached.
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
امریکہ سے معاہدے پر متفق نہيں تھا۔ اپنے صدر کی یقین دہانی پر منظوری دی: سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای
*********
صدر مسعود پزشکیان بہت ہی سادہ لوح اور مَرَنجاں مَرَنج انسان ہیں(شخص جو ہر حالت میں خوش رہے اور کسی کا دل نہ دُکھائے، ملنسار)۔ مسلمانوں سے محبت کرنے والے۔ انسانیت کا درد رکھنے والے۔
پیشے کے اعتبار سے ایک اعلی پائے کے سرجن ہیں۔ انسانیت کے مسیحا ہیں۔ درویش صفت۔
جب ایران نے عرب ممالک کے اندر امریکی اڈوں کی وجہ سے فوجی کاروائی کی تو مسعود پزشکیان نے ان ممالک کے عوام سے معافی مانگی تھی۔ اور یہ معافی دل سے تھی۔ انہیں واقعی تکلیف پہنچی۔ یہ مسعود پزشیکان کی شخصیت ہے۔
میں نے جنگ کے دنوں میں ایرانی دوستوں سے عرض کیا تھا کہ مسعود پزشکیان مذاکرات اور صلح کے لئے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اور جنگ کے بعد کے ایران میں ان کا بہت بڑا نقش ہوگا۔ اور یہی پوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
IRGC sent a message to the Leader of the Islamic Revolution, Ayatollah Seyed Mojtaba Khamenei:
🔺 With the aggressor defeated in the war and forced to retreat from its goals of erasing Iran from the map and turning it back to the past, it has now turned—out of desperation—from its earlier positions to calls for understanding and negotiation. The nation and its fighters expect the political arena to continue that same path and secure Iran’s rights.
🔺 The Iranian people and Islamic fighters stand firmly behind their Leaders. If the enemy breaks its commitments and continues its past demands and violations of Iran’s rights, the IRGC is fully prepared across land, sea, air, and all domains of hybrid warfare. Drawing on experience from multiple battles, it stands ready—at the command of its courageous and wise leadership—to deliver an even greater historic defeat.