I wandered in the deepest thoughts and came back with a wrinkled face, deep sharp and bright eyes now it seems survival would be the biggest challenge.
The measure of your intelligence is not your ability to acquire knowledge but how you handle uncertainty and navigate through it and behave when you don't know what to do.
Neerja Bhanot was a flight attendant on Pan Am Flight 73 when it was hijacked in Pakistan by Palestinian terrorists on September 5, 1986. She helped the pilots escape, saved American passengers from execution, and opened the emergency door so hundreds could jump to safety. Ultimately, she was killed while shielding three children from gunfire.
Twenty-two-year-old Indian air hostess Neerja Bhanot was always a woman of courage and convictions. Despite the traditions of her culture and her family's protests, she left her arranged marriage when her husband proved abusive. Then she struck out on her own and began working as both a model and a flight attendant for Pan Am. But shortly after she began her new career in the skies, disaster struck when a flight she was working was hijacked by four terrorists in 1986. Though she was new to the job, she proved to be the greatest hero of the entire ordeal. Over the course of 17 harrowing hours, she helped both the pilots and hundreds of passengers to escape. In the end, she was killed while using her body to protect three children from gunfire.
Bhanot was posthumously awarded medals of bravery from India, Pakistan, and the United States. And one of the children she saved grew up to be a pilot himself and credited Bhanot for his decision.
😭😭گاؤں کے پرائمری سکول کا ٹیچر🤣🤣
..
جس ٹیچر نے بھی یہ لکھا ھے کمال لکھا ھے۔
آج حسب معمول جیسے ہی میں نے اپنی کلاس ”کچی شریف“ میں قدم رنجہ فرمایا تو کچی کے جیالوں کی تعداد خلاف معمول 120 کے ہندسے کو کراس کر رہی تھی،جن میں دو ��ہائی اکثریت اُن مجاھدین کی تھی جو زندگی کی صرف دو یا تین بہاریں دیکھ چکے تھے،اور جوتی اور شلوار کی قیود سے آزاد یہ حریت پسند اپنی بڑی بہن یا بھائی کے ساتھ بطور پروٹو کول آفیسر تشریف لائے تھے
،بہر حال جیسے ھی میں اندر داخل ھوا تو کمرے کے کسی گوشے سے ”کلاس سٹینڈ“کا ایک نعرہ مستانہ بلند ھوا اور پندرہ، بیس بچے اٹھ کھڑے ھوئے باقی تمام رمُوز دنیا سے آزاد اپنی خانہ جنگی میں مصروف رھے،چنانچہ اپنے وجود کی موجودگی کا احساس دلانے کیلیے میں نے ”اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ“ کی باآواز بلند صدا لگائی جس کا جواب دو چند نے دے کر بھرم رکھ لیا
تو جناب جیسے ہی میں کُرسی پر براجمان ہوا ،کلاس روم کمرہٕ عدالت میں تبدیل ھو گیا ،30،35 مدعیان نے بیک وقت اپنا اپنا استغاثہ دائر کر دیا ،کسی نے پنسل تراش “گم ھونے کی شکایت کی تو کسی نے ہتک عزت کا دعوی دائر کیا، کسی نے گالیوں کی بوچھاڑ سے اپنا چھلنی سینہ دکھایا تو کسی نے اپنے مسات کے ہاتھوں زلف کشی کا مقدمہ پیش کیا،کسی نے کچی پینسل کے سِکے ”پوڑنے“ کی شکایت کی تو کسی نے کاپی کے پھٹے. ورک کو بطور ثبوت پیش کیا،کچھ نے دور بیٹھے اپنے ملیر شلیر کی طرف سے نقالی کرنے کا دکھڑا سنایا تو کسی نے ھوم ورک پر ”لِم شریف“یعنی تھوک گرانے کے اندوہناک واقعے سے آگاہ کیا، کوئی اپنے جیب خرچ کی محرومی کا رونا رو رھا تھا تو کوئی مدعا علیہ کی طرف سے (چھٹی کے بعد راستے میں مار کی) ملنے والی دھمکی سے مطلع کر رھا تھا
چنانچہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ھوئے تمام متاثرین اور مدعا علیہان کو طلب کیا گیا اور وقت کی قلت کے پیشِ نظر تمام ملزمان سے اجتماعی طور پر نمٹنے کا فیصلہ کر لیا،چنانچہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 7/51 کے تحت تمام مدعیان و مدعا علیہان کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا اور سوٹی بنوانے کےلیے تیز رفتار گھڑسوار روانہ کر دیے اس دوران ایک دوسرے کو خون بہا معاف کرنےاور آپس میں صلح صفائی کا موقع بھی دیا گیا،چنانچہ جیسے ہی کلاس روم میں چھمک نما سوٹی کا ظہور ھوا تو کچھ اس طرح کی صورت حال تھی
بقول شاعر٠٠٠٠
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگۓ محمود و ریاض٠٠٠٠
نا کوئی ملزم رھا اور نا کوئی بندہ ناراض٠٠٠
ایک منٹ کے اندر بھائی چارے کی فضا قائم ھوگٸ اور میں نے بھی عام معافی کا اعلان کرتے ھوئے تعلیمی عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا،مگر یہ کیا٠٠٠٠ ابھی سکول لگے چالیس منٹ بھی نہیں ھوئے تھے کہ ناشتے والے انڈوں نے ستانا شروع کر دیا اور وہ خشک سالی شروع ہوگٸ کہ جیسے سبھی نےکل سے لنگری روزہ رکھا ھوا ھے، اور مثانہ کی کمزوری کے عارضہ میں مبتلا مریض بھی وارد ھونے لگے
تاریخ گواہ ھے کہ اگر کسی نے واش روم کی چھٹی مانگ لی اور اس کو دے دی گٸی تو پھر انگلی کھڑی کرنے والے ایمپائروں کی آمد کا ایک نا تھمنے والا سلسلہ شروع ھو جاتا ہے جو کہ بریک تک جاری رہتا ھے
کچھ شدت پسند ایسے بھی متھے چڑھ جاتے ہیں جن کو اگر چھٹی نا دی جائے تو انتقامی کاروائی کرتے ھوئے وہیں موقع پر پتلون گیلی کر تے ھوئے واپس لوٹ جاتے ھیں،
بہرحال پھر بھی آج کل پرائمری اساتذہ کےلیے آمد سےقبل تعداد کا بڑھنا نیک شگون ہوتا ھے،
چنانچہ 121 بچوں کی نفری لیے داد و تحسین وصول کرنے کے ج��بے سے سرشار جناب ہیڈ ماسٹر کی دربار میں حاضر ہوا اور دست بستہ عرض کی کہ٠٠٠٠٠٠ جناب آٸیں اور تشریف لاٸیں اور دیکھیں ہم معیار تعلیم ، فروغ علم اور ��لبہ کی عدد افزودگی کے لیے کیسے کوشاں ہیں
تو جناب رٸیسِ مدرسہ نے اس لشکرِ جرار کو دیکھ کر وہ الفاظ کہے جو تاریخ کا حصہ بن گٸے،فرمایا” او کاکے ! یہ جو دو، تین سال کے بچے سمیٹ لاٸے ھو یہ در اصل چار دن کی چاندنی ھے ،یہ تو گندم کی کٹائی کا سیزن ھے اور مائیں ایسے چھوٹے دو تین سالہ بچے سکول بھجوا دیتی ھیں تاکہ اساتزہ بچوں کو بہلاتے رھیں اور ھم یکسو ھو کر گندم کی کٹائی کر سکیں،“
تم دو ماہ بعد دیکھنا پھر اندھیری رات ھو گی “ سو راجہ پورس کی طرح اپنا لشکر لیے واپس کلاس روم آ دھمکا ٠٠٠کیونکہ بات تو سچ تھی مگر بات تھی۔۔