Absolutely Not
@ImranKhanPTI
اڈیالہ کی خاموش دیواروں میں سے عمران خان کی آواز گونجی۔
میں بتاتا ہوں کہ یہ واقع کب پیش آیا۔
عمران خان نے دنیا کے سٹیج پر ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ کر ٹرمپ اور بین الاقوامی گلوبل آرڈر کو چیلنج کر دیا تھا۔ مگر مجھ سے بھی ایک بڑے انکار کے لیے خان صاحب نے انہی الفاظ کا انتخاب کیا۔
گرفتاری کے چند ماہ بعد کی بات ہے۔ قیدی نمبر ۸۰۴ کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں ہو چکی تھیں۔ اُس وقت یہ امکان پیدا ہوا کہ خان صاحب کو جو سزائیں دھاندلی سے دی جا چکی ہیں، انہیں عوام اور عمران خان کے دیے ہوئے صدارتی آئینی اختیارات استعمال کر کے ایمنیسٹی یا معافی کا اعلان کر کے معطل کردوں۔
اُن حالات میں اسٹیبلشمنٹ کی رکاوٹوں کے باوجود میرا خان صاحب سے مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ میری کئی بار استعفیٰ کی درخواست کو عمران خان یکسر مسترد کر چکے تھے۔ ہر معاملے میں مشاورت ہوتی تھی جس میں کچھ دوست بشمول محترم رؤف حسن اور سینیٹر علی ظفر معاونت کرتے رہتے تھے۔
میں نے اپنے لیڈر کو پیغام بھیجا کہ جن مقدمات میں انہیں سزا ہو چکی ہے، ان میں پارڈن یا معافی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ پیغام کے ساتھ اپنی رائے بھی ظاہر کی کہ
۱) میں چار مقدمات میں تو پارڈن کر سکتا ہوں، باقی ۱۹۶ جو چل رہے ہیں انکا کیا ہوگا؟
۲) خان صاحب نے جب کوئی جرم ہی نہیں کیا، تو کس بات کی معافی؟
۳) عدلیہ کو انصاف کرنا چاہیئے اور حکومت جھوٹے ایف آئی آر واپس لے۔
دوستوں سے گزارش کی کہ عمران خان کو میری رائے مت بتائیں جب تک وہ خود فیصلہ نہ کر لیں۔چنانچہ یہی ہوا۔ فیصلہ کرنے سے پہلے خان صاحب نے اپنے مخصوص محبت بھرے انداز میں پوچھا کہ علوی کیا کہتا ہے۔ رفقاء نے جواب دیا کہ پہلے آپ فیصلہ کریں۔ عمران خان نے کہا کہ
Absolutely Not
اور وہی منطق دی جو خاکسار نے پیش کی تھی کہ جب میں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے تو کس بات کی پارڈن۔
جو لوگ دنیا میں “لا إله إلا الله” سے بات شروع کریں اور فرعونوں کے آگے انکار اور نفی کی بساط بچھائیں، اُن سے اقتدار چھین لیا جاتا ہے۔ مگر یہی للکار ہے میرے نبیﷺ کی سنت پھر سونے پر سہاگہ کہ اکیسویں صدی میں عمران خان کا اسرار ہے کہ إياك نعبد وإياك نستعين۔
یہ اعلان جنگ ہے جھوٹے خداوں کے خلاف جو دنیا کے قوانین میں استثنٰی تلاش کر رہے ہیں۔ معصوم انبیاء کے علاوہ کسی کو بھی کوئی استثنٰی نہیں۔ صحابہؓ اور خلفاءِ راشدینؓ نے بھی دنیا میں استثنٰی نہیں لی۔
قیامت تو قیامت ہوگی۔ اس دن صرف اللہ کا رحم کام آئے گا، نبی ﷺ کی شفاعت ہوگی، ورنہ ہم اور آپ تو بے یار و مددگار ہوں گے۔ دنیا میں بھی اللہ کا قانون چلتا ہے اور قیامت میں تو کاینات اُس کا جلال دیکھے گی۔
ایک مرتبہ اور اڈیالہ سے آواز گونجے گی جب قیدی نمبر ۸۰۴ کو پتہ لے گا کہ آئین کی فاتحہ پڑھی جا چکی ہے۔
Absolutely Not
#ایسے_دستور_کو_میں_نہیں_مانتا
@RanaSikandarH MRI qualification M. Phill h hr job py apply krta hn kuch nii Milta ab 1000 fees h agy sy marit bhi ni hoga.... R mai Academy parhata hn 10000 payment h married bhi hn... Ab batao koe jaay to jaay kahan?
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
”اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا- باہر میری نمائندگی عمر ایوب کریں گے- سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے-
تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اس احتجاجی تحریک کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے۔ انشأللہ اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
پاکستانی قوم کو میرا پیغام ہے کہ شاید یہ پھر سے میری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دیں لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے کہ ووٹ میرا نہیں آپ کا چوری ہوا ہے۔ آواز میری نہیں آپ کی دبائی جا رہی ہے، لہذا آپ کو خود پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔ بارہا کہہ چکا ہوں کہ “آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا”-
احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں۔جو قتل عام تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا اور کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔
میرا اپنے پارٹی عہدیداران کو پیغام ہے کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔ مجھے بھی جیل میں ڈالنے کے بعد تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا جیسے نواز شریف کو دس سال تک چپ رہنا پڑا مگر میں بزدل نہیں ہوں اور یزیدیت پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کروں گا-“
1/2
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ پوری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے آئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے بادشاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا کر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان کے جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکا ہوا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور میری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری کتابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2