لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ۔
یا اللہ🤲🏻🤲🏻اور انہیں خیر، برکت، صحت اور ایمان کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹا۔ آمین 🤲
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ
وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ۔
یا اللہ! اپنے تمام مہمانوں کا حج قبول فرما، ان کی ہر جائز دعا قبول فرما، ان کے گناہوں کو معافرما، ان کے دلوں کو سکون عطا فرما، 🤲🏻
۲/۲
آخری بات، ”میں اکیلا ہوں“ اُس رات عمران خان کا کہا آخری جملہ نہیں تھا، انہوں نے کہا؛ ”یہ میری کور ٹیم ہے، اگر یہ ہی حق میں نہیں ہے میں باہر والوں کا تو مقابلہ کرسکتا ہوں، میں اپنے لوگوں سے تو نہیں لڑ سکتا“۔ یہاں عمران خان نے خدانخواستہ سرینڈر نہیں کیا، تاریخ دیکھ رہی ہے، عمران خان نے سرینڈر نہیں کیا۔ عمران خان نے اپنی صفوں سے لڑنے سے انکار کیا (مگر ہم کیا کررہے ہیں شب و روز؟)۔ عمران خان نے اپنوں سے لڑنے سے انکار کرکے قوم کے اصل دشمنوں کا پردہ چاک کیا، پھر جو جو عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے تھے وہ الگ ہوتے گئے۔ آگے بھی ہوتے جائیں گے۔ میں اس وقت اپنی رائے میں غلط نہیں تھا، مگر عمران خان کا حتمی فیصلہ تاریخ نے درست ثابت کیا (اور اسی لیے میں ہمیشہ لیڈر کی فہم اور فیصلے کو اپنی سوچ پر فوقیت دینے پر زور دیتا ہوں، چاہے اس کی پشت پر محرکات اور وقتی اثرات کچھ بھی ہوں)۔
کتابیں، تاریخ، واقعات صرف اس لیے نہیں تحریر اور بیان کیے جاتے کہ حقائق سامنے لائے جائیں ان کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں۔ سیکھیں دوسروں کے تجربے سے، ان کے صحیح اور غلط فیصلوں سے۔ میری گزارش ہوگی کہ آپ اس تحریر کو بھی اس تناظر میں دیکھیں۔
ابھی تک عموماً بُک سٹورز کتاب رکھنے پر تیار نہیں ہیں، ماسوائے چند ایک کے۔ ہم اپنے ذاتی نیٹ ورکس کے زریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور انشاء اللہ جلد ہی آپ کو اس کا ای ورژن بھی میسر ہوگا۔
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
Deeply appreciative of Greg Chappell for raising his voice for my father.
It is heartening to see global cricketing leaders call for dignity and justice while he remains in solitary confinement for nearly 1000 days, having lost approximately 85% of the vision in his right eye, and still denied proper medical care and access to his doctors and family.
Thank you Greg, and all those who have stood beside him.
https://t.co/wbq0qlyoPN
It is critical and urgent that Imran Khan be examined and treated at a proper medical facility. Our recommendations to CJP clearly demanded that he be examined and treated at Shifa International Hospital (Islamabad) by specialist doctors, under the supervision of his personal physicians and in the presence of his family members. It is extremely unfortunate that Chief Justice Yahya Afridi expressed satisfaction with the doctors’ visit to Adiala Jail and completely disregarded the family’s lawful and legitimate demands.
What are they hiding?
The extraordinary effort by the government and establishment to prevent Imran Khan from being properly examined, tested, and treated in a reputable tertiary care hospital, under the supervision of his own doctors and in the presence of his family, raises serious questions. Government ministers have falsely claimed that his treatment was delayed because the family insisted on their presence along with his personal doctors. This was not a delaying tactic; it was a necessary safeguard to ensure transparency, proper care, and his safety. The additional doctor who accompanied the PIMS doctor to Adiala Jail was sent ONLY for examination, not treatment. What kind of comprehensive examinations can be conducted inside a jail facility, which lacks the equipment, environment, and safeguards of a proper hospital?
The PIMS doctors, along with a specialist from Al-Shifa Trust Eye Hospital, were sent to Adiala Jail on Monday, 16th February, to show compliance with the deadline set by Chief Justice Yahya Afridi. However, on Tuesday, 17th February, Imran Khan conveyed a message through Bushra Bibi via her daughter, clearly stating that he was NOT satisfied with the doctors’ visit or the treatment being provided, and he specifically asked that his blood tests should be conducted in the presence of his personal doctors, Dr. Asim and Dr. Faisal. We REJECT any medical reports drawn up as a result of examinations conducted in the absence of Imran Khan’s personal physicians and family member. URGENCY IS OF THE UTMOST IMPORTANCE.