اچانک ایسا کیا ہوا ہے کہ متحدہ اپوزیشن میدان میں آ رہی ہے۔ پی ٹی آئی لیڈر شپ سے بد ترین سیاسی مخالف جھپیاں ڈال رہے ہیں۔عدلیہ کی پھرتیاں نظر آ رہی ہیں وکلا متحرک ہو رہے ہیں۔ میڈیا کے بعض اراکیین سیاسی بیانیے کا جھنڈا اٹھا چکے ہیں! یہ سب کچھ اچانک شروع ہوا ؟ ہر گز نہیں ! نئے صوبوں کی بحث نے سوئے ہوئے مردے جگا دیے ہیں۔اختیارات کی تقسیم اور عوامی شرکت اقتدار “پنڈتوں” کو تسلیم نہیں ہے۔مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر انکا یقین نہیں ہے۔ خزانہ بھرنے کی مشینیں بند ہوتی نظر آئیں تو خزانہ کا کچھ حصہ صف بندی پر بھی خرچ کرنا ہمارے ہاں بڑی چال ہوا کرتا ہے۔۔۔سب صوبوں کی تقسیم منظور مگر ہماری طرف نہ دیکھنا کی خاطر کچھ انوکھا کرنا بھی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے اور ادھر ادھر پھرنے والے دانشور جہاں بھی چلے جائیں انکی زہنی آبیاری جہاں ہوئی تھی انکے مفادات کو ٹھیس پہنچے تو گھر کو لوٹ آتے ہیں۔ زرا سوچئے تو بہت سے تانے بانے مل جائیں گے مگر آگے بڑھنے کیلئے فیصلہ کرنا ہو گا کہ کوئی فرد ادارے یا جماعت سے بڑا نہیں اور کوئی ادارہ یا جماعت پاکستان سے بڑی نہیں۔
پاکستانی شہری کی خانہ کعبہ میں اللّه سے گڑگڑا کر عمران خان کی رہائی اور صحتیابی کی دعا۔
یہ اپنا اپنا نصیب ہے کہ کوئی زندان میں بھی دعائیں لے رہا ہے اور کوئی اقتدار کے مسند پر بھی بددعائیں سمیٹ رہا ہے۔
انشاءﷲ۔ ہمارا رب ہم سب کی دعا ضرور قبول کرے گا۔ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔
لیگی ایم این اے قیصر احمد شیخ کے آج 14 اگست پر 5 لیٹر فری پٹرول دینے اعلان پر ۔۔۔ ذرا عوام کی لائن ملاحظہ کریں سر پکڑ لیں گے کہ 5 لیٹر یعنی کہ 1625 روپے کا فری پٹرول ۔۔۔ ڈلوانے کے اتنے لوگ پہنچے ہوئے ہیں کہ شاید نمبر آتے آتے تین گھنٹے لگ جائیں پھر گرمی الگ ہے
چلیں کچھ لوگ تو مستحق ہوں گے پھر یہ بھی مان لیتے ہیں کہ پٹرول دینے والے کے مستحق ہونے نا ہونے کی شرط نہیں لگائی لیکن پھر بھی سوال یہ ہے جتنے یہ کھڑے ہیں کیا تمام ہی 5 لیٹر پٹرول یعنی 1625 روپے لینے کے مستحق والے ہیں جواب ہے ایسا ممکن نہیں
پھر ایسا کیوں ہے ؟ جواب ہے یہ عوام کا مجموعی مائنڈ سیٹ بن چکا ہے بے شک گرمی تین چار گھنٹے لگ جائیں فری کے 1625 روپے تو ہوں گے نا ۔۔۔ !!