Spot on. The test of any economic policy is whether it changes people’s lives, betters their living standards and pulls them out of poverty or not. This comparison is horrifying and truly tragic!
The plan to chop up Pakistan into smaller slices is about making the country more malleable to the demands of one man. For the good of his country, Field Marshal Asim Munir should retreat https://t.co/xWTVRqEZDq
ایک جج سینٹورس مال اسلام آباد میں لور لور پھر رہا تھا کہ اسے گلوریا جینز نظر آئی۔ وہ اندر گیا اور کاونٹر پر جا کر کہا کہ مجھے 40 سائز کی جینز دکھاو۔
کاونٹر بوائے "سر ہم جینز نہیں بیچتے"۔
"تو پھر آپ کیا بیچتے ہیں؟" جج بولا
کاونٹر بوائے "سر ہم کافی اور سینڈوچ بیچتے ہیں"۔
جج "تو پھر دکان کے باہر اتنا بڑا سارا کر کے جینز کیوں لکھ رکھا ہے؟"۔
کاونٹر بوائے"سر! آپ کے چیمبر کے باہر لگی ہوئی لکڑی کی پھٹی پر بھی تو اتنا بڑا سارا کر کے جسٹس لکھا ہوا ہے"!!!
جب وقت بدلے گا تو ہم سب کو KP جا کر ہر اس انسان کا ہاتھ چومنا چاہیے جو اس مارچ میں شامل ہوا ہے۔ پورے ملک کی رہنمائی کر رہے ہیں، بلکہ دنیا میں جتنے پاکستانی ہیں ان سب کی رہنمائی کر رہے ہیں وہ!
چھا گئے ہیں KP والے، سلام تمام مارچ کرنے والوں کو- آپ سب کا دل سے شکریہ!
Cc @SohailAfridiISF@ShahidkhattakSk@ShafiJanPTI@MeenakhanAfridi@JunaidAkbarMNA
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
بالقسط لانگ مارچ، تیسرا دن — درہ آدم خیل میں شاندار استقبال!
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ کوہاٹ سے درہ آدم خیل پہنچ گیا، جہاں کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے قافلے کا پرتپاک استقبال کیا۔
لانگ مارچ کا قافلہ اب متنی پہنچ کر قیام کرے گا،
گورنر خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کو بائی پاس کرکے آ��ی جی پولیس، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر اعلیٰ افسران کو براہِ راست طلب کرکے سیکیورٹی اجلاس کیسے بلا سکتے ہیں؟
آئین کے آرٹیکل 129 کے تحت صوبے کی انتظامی اتھارٹی صوبائی حکومت، یعنی وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کے ذریعے استعمال ہوتی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو سائیڈ لائن کرکے گورنر ہاؤس میں صوبے کے انتظامی معاملات پر اس نوعیت کا اجلاس بلانے کی آئینی حیثیت کیا ہے؟
ہائکورٹ کا جج مجھے ملنے کی اجازت دیتا ہے پر میری ملاقات نہیں کروائی جاتی پھر سپریم کورٹ کے تین ججوں کے حکم پر بھی عمل در آمد نہیں ہوتا تو ہمارے پاس واحد راستہ پر امن احتجاج کا بنتا ہے جس کی شروعات ہم ن�� کر دی ہے۔ سہیل آفریدی
The Governor of the province has no constitutional authority to chair meeting on law & order / security. Under what law, the meeting was chaired by the Governor.
Since the regime in Pakistan is trying super hard to twist history and frame Imran Khan as a “terrorist supporter” for its foreign audiences, let me put out the timeline for the record:
1970's-1980's: Imran Khan was breaking world records in cricket when the Pakistani security state was already neck deep in the Afghan Jihad against the Soviets.
1990's: Imran Khan was building cancer hospitals for the poorest in society when they were consolidating militants as a state sanction policy to form and enable Taliban's rise to power in Afghanistan.
2000's: Imran Khan was protesting global wars when they were busy playing divide and rule among militants, which later came to be known as the “good Taliban/bad Taliban” policy.
2018-2021: Imran Khan as a Prime Minister helped bring an end to the 20 year long Afghan War, and facilated the US exit from Afghanistan.
You have to be Intellectually dishonest, and frankly ridiculous to place the burden of responsibility and blame for 50 years of state policy to play with militants on Imran Khan for his barely four years as PM, when he actually ended the not just the Afghan War, but the state policy as well.
Guess what returned when he was ousted?
Under the Constitution, the most you can do is perhaps ensure that the plants in Governor House are being watered properly not exercise the powers of the Chief Minister. Zero vote bank, losing elections since 2008, yet dreaming of ruling KPK. Some people simply refuse to let electoral reality interfere with their ambitions
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔��مران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عم�� کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
ہمارے مطالبات بڑے واضح ھیں جو 5 اگست جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ سُہیل آفریدی نے ساری قوم کے سامنے رکھے تھے ۔
۱ عمران خان کا علاج سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق
۲ عمران خان کے ملاقاتیں ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق بحال کئے جائے
۳ عمران خان کے کیسیز لگائے اور سنے جائے ۔
۴- بشری بی بی کے بنیادی حقوق بحال کئے جاے
۵ عمران خان کی بہنیں کے غیر قانونی گرفتاری ختم کیا جائے
۶ ۹ مئی کے اسیران کے کیسیز لگائے جائے اور اپیلوں کا بنیادی حق دیا جائے۔ تمام اراکین اسمبلی کو فورا رہا کیا جائے
اصل کہانی تو آج کھلی ہے۔ حکومت مذاکرات میں بڑی بڑی باتوں ��ر لچک دکھانے کو تیار تھی، مگر عمران خان تک رسائی کے معاملے پر ایسی دیوار کھڑی کر دی گئی کہ ذاتی معالج تک کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔اور سوال یہی ہے کہ آخر کیوں؟اب اطلاعات آئی ہیں کہ گزشتہ دنوں عمران خان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا اور لندن سے معالج بلانا پڑا۔
اگر حکومت ایک بیمار قیدی تک اس کے ذاتی ڈاکٹر کی رسائی بھی روک رہی ہے تو پھر شک تو پیدا ہوگا ہی کہ آخر پردے کے پیچھے کیا ہے؟ حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے؟