سولر پینل قومی گرڈ کیلئے خطرہ بنتے جارہے ہیں ۔ ان سے قومی گرڈ کو نئے تکنیکی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے ۔ وزیر توانائی اویس لغاری
دبئی میں تقریبا ایک ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے بن رہی جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
پاکستان میں ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں بہت بڑ سولر پارک ہے جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
اب میں بتاتا ہوں وزیر صاحب کی اصل تکلیف!!
واپڈ اور پالیسی میکرز کی نالائقیوں کی وجہ سے تنگ آجر جب عوام نے اپنا تمام لوڈ سولر پر شفٹ کر لیا جو کہ ہاکستان کی ٹوٹل ڈیمانڈ کا تقریبا پچیس فیصد ہے تو واپڈ کی کمائی کم ہو گئی اب ٹکریں مار رہے کہ سولر گریڈ کیلئے تکنیکی مسائل ہے۔
یہ جو دفتروں اور اسمبلیوں میں اشرافیہ بیٹھی ہے ان کو صرف غریب کا چار،پانچ کلو واٹ کا سولر ہضم نہیں ہو رہا۔
جہاں 42 جوان شہید ہو گئے یہ وہیں پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ ان کا اپنا کوئی خدانخواستہ مرے تو کیا یہ ایسی گھٹیا حرکت کریں گے؟ کم از کم لاش کا احترام کرنا چاہیے۔ انسان میں اور گدھ میں فرق ہونا چاہیے
@kabeerraja786 راجہ صاحب نواز لیگ سے الیکشن لڑنے کے ایک ایک کرکے تمام بیانیے لے لئے گئے ہیں اور الیکشن بآسانی ہارنے کے تمام تر بہانے سونپ دیے گئے ہیں. بہتر ہے کہ میاں ��احب ابھی سے ہی سالم رکشہ کروائیں اور لندن چلے جائیں
اعلان ختم ہوا
بہاولپور، ڈی جی خان، رحیم یار خان اور خوشاب کی مائیں بہنیں بزرگ اب پینے کے صاف پانی کے لیے تپتی دھوپ میں سروں پر گھڑے اٹھائے کٹھن راستوں پر نہیں بھٹکیں گے۔ 5 ماہ کے مختصر ترین وقت میں صاف پانی کی فراہمی ممکن بنا دی گئی ہے۔ چار واٹر بوٹلنگ پلانٹس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ روزانہ ۱ لاکھ ساٹھ ہزار لیٹر صاف پانی ان دور دراز پسماندہ بستیوں کے ہر گھر کی دہلیز پر بالکل مفت پہنچایا جائے گا۔ یہ منصوبہ صرف پانی کی فراہمی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے عوام کی عزت، سکون اور صحت کی ضمانت ہے۔ الحَمدللہ پیاس کا یہ طویل اور تکلیف دہ سفر اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔
فضل الرحمان نے ہارڈ سٹیٹ کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو شدید ہارڈ زبان میں ہِٹ کیا ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کی طرف سے ڈی جی آئی ایس پی آر کوئی جواب دیتے ہیں یا اب ہارڈ سٹیٹ سوفٹ سٹیٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے؟ یہ راز جاننے کے لیے ہمیں تھوڑا سا انتظار کرنا ہو گا۔
#FazlurRehman#FieldMarshal#DGISPR
جب آپ ایک محسن نقوی کو سارے نظام پر بھاری کردیں تو تو نتیجہ صرف بغاوت ہی نکلتا ہے مانتے ہیں کہ مولانا کے الفاظ بہت سخت ہیں لیکن کبھی اس نفرت اور محسن نقوی کی طاقت کو ایک ترازو میں رکھیں تو یہ الفاظ بہت ہلکے نکلیں گے محسن نقوی بھاری نکلے گا
مولانا صاحب!
آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے، اسی احترام کے جذبے کے تحت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر ہمارے شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا۔ اس سے نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے جذ��ات مجروح ہوئے ہیں۔
ہمارے فوجی جوان اور افسر محض ایک پیشہ انجام نہیں دیتے، بلکہ وہ ہر لمحہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کے دفاع کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ آج ہم اپنے گھروں میں، مساجد میں، مدارس میں اور جلسوں میں امن کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ وہ سپاہی ہے جو سرحد پر، دہشت گردی کے خلاف محاذ پر اور ہر خطرناک مقام پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے کھڑا ہے۔
وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگلا لمحہ ان کی زندگی کا آخری لمحہ ہو سکتا ہے، اس خوف سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتے ہیں کہ ان کی شہادت ان کی بیوی کو بیوہ، بچوں کو یتیم اور بوڑھے والدین کو سہارے سے محروم کر دے گی۔ ایسی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا نہ انصاف ہے، نہ اخلاق کے تقاضوں کے مطابق، اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، ��نہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔”
(سورۃ آل عمران: 169)
رسول اللہ ﷺ نے شہادت کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
“مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔”
(صحیح بخاری)
یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔
شہداء ہی قوموں کی عزت، آزادی اور وقار کے محافظ ہوتے ہیں۔ انہی کی قربانیاں قوموں کو سربلندی عطا کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو امن اور آزادی کا مستقبل دیتی ہیں۔ ہم سب پر ان کا ایسا قرض ہے جو کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ ان کے احسان کا اعتراف کرنا، ان کی قربانی کا احترام کرنا اور ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنا اور انہیں ہر قسم کی سیاست سے بالاتر رکھنا ہماری قومی، سیاسی،اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔
اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شہداء کے مقام و مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو ان کے اہلِ خانہ، ان کے ساتھیوں اور پوری قوم کے دلوں کو دکھ پہنچائیں۔ شہداء کا احترام درحقیقت پاکستان کے احترام، ہماری آزادی کے احترام اور ان اسلامی اقدار کے احترام کا تقاضا ہے جن کی بنیاد ایثار، قربانی اور وفاداری پر قائم ہے۔
اگر کوئی خود کروڑوں کما کر پرتعیش اور شاندار زندگی گزر رہا ہو اور تمہیں
"دنیا کی وقعت مچھر کے پر برابر نہیں"
"موت کا خوف"
"ایک دن سب نے مر جانا"
"سب کچھ یہی رہ جانا"
"آخرت کی تیاری"
"قبر کا عزاب"
جیسی باتیں سنائے تو وہاں سے فورا نکل لیں .....!!
وہ شخص تمہیں "کاٹ" رہا ہے.
الحاج پیر سید امام دین گجراتی رحمتہ اللہ علیہ
"اس کا انٹرویو سن کے ایک لطیفہ یاد آ گیا"
جھنگ کے دیہاتی علاقوں میں عورتیں لاچا (دھوتی) باندھتی تھیں اور رفع حاجت کے لئے کھیتوں میں جاتی تھیں
ایک عورت رفع حاجت کے لئے بیٹھی تھی کہ اس کے گاوں کا مرد وہاں سے گذر رھا تھا عورت کو بیٹھا دیکھ کر کھنگورا بھرا اور کہا بھینڑاں پردا کر لوویں
عورت نے لاچا کمر کے اوپر سے سر پہ لیا اور کہتی لنگھ جا ویرا پردا ھو گیا ای