@RH_views واہ بھائ واہ ، کون لوگ ھو توسی ، کبھی عدت اور نکاح اور کبھی سابقہ بيوی کو لے کے اس پر کيچڑ اچھالتے ھو۔ شرم تم کو مگر نہيں آتی۔ سمجھ نئی آتی جمائمہ سے آپ کا کيا گہھرا رشتہ ھے جو اس کی ڈيٹ پر اتنی تکليف ھو رھی ھے۔ وہ ايک آزاد معاشرے کی آزاد شہری ھے جو مرضی کرے۔ آپ کو اس سے کيا
آج یوم شہدائے کشمیر ہے 13 جولائی 1931 سے یوم شہدائے کشمیر منایا جا رہا ہے میر پور سے جموں اور راولاکوٹ سے سرینگر تک کے ان کشمیریوں نے پاکستان بننے سےپہلے ہی 19 جولائی 1947 کو الحاق پاکستان کی قرارداد بھی منظور کر لی لیکن آج ان کشمیریوں کو غدار کہا جا رہاہے https://t.co/HohTeR2nGq
کشمیریوں نے کیا مانگا؟
بنیادی حقوق نا کسی کا حق، نا کسی کی زمین۔ صرف بہتر سڑکیں، بنیادی سہولیات، روزگار، مضبوط بینکنگ نظام مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ اور ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ
ذرا اس سڑک کی حالت دیکھ کر بتائیں کیا یہ مطالبات ناجائز ہیں؟
کشمیری خوددار لوگ ہیں۔ ہمیں 1958 سے لے کر آج تک کے پندرہ لاکھ لوگوں کے اسٹیٹ بینک سے متعلق تمام حسابات دیے جائیں۔میں،آپ کی وساطت سے، پاکستان کی وزارتِ خزانہ سے بھی سوال کرتا ہوں اور اپنی قیادت سے بھی کہ جموں و کشمیر بینک شیڈول بینک کیوں نہیں ہے، تاکہ اس میں فارن ایکسچینج آ سکے؟ کیا یہ ایک سازش نہیں؟ ہمیں 1958 سے آج تک کا مکمل حساب دیا جائے۔
ہمیں بجلی کے واٹر یوزیج چارجز صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے برابر دیے جائیں۔ ہم سی پیک کی حمایت کرتے ہیں، لیکن سی پیک کشمیریوں کے دل کے اوپر سے، گلگت بلتستان سے گزر کر آ رہا ہے، اور دیامر بھاشا ڈیم بھی گلگت بلتستان میں بن رہا ہے۔ لیکن "بھاشا" کو بلاوجہ اس کے ساتھ شامل کر لیا گیا ہے۔ ڈیم دیامر میں بن رہا ہے، مگر گلگت بلتستان کے لوگوں کی محرومیوں کو ان کے گلے میں ڈال کر انہیں صوبے کا طوق پہنایا جا رہا ہے۔
وہاں کی نئی نسل کو ان منصوبوں کے حقیقی ثمرات دیے جائیں۔ ان کے جو حقوق بنتے ہیں،وہ انہیں دیے جائیں، اور انہی حقوق کی بنیاد پر جو مراعات بنتی ہیں، وہ بھی فراہم کی جائیں۔
1958 سے لے کر آج تک کا ہمارا تمام فارن ایکسچینج حساب کر کے ہمارے حوالے کیا جائے۔ اگر آپ کا فارن ایکسچینج اکاؤنٹ کم پڑ رہا ہے تو ہم اسے پورا کر دیتے ہیں۔ آخر آپ ہم سے کیا مانگ رہے ہیں؟ ہم تو بلا معاوضہ بھارت کے مذموم عزائم کے خلاف اپنے مقدس بچوں کے خون کی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔
مجاہدوں کی اولاد کو کوئی سبق نہیں پڑھا سکتا، اور نہ ہی ہم کسی سے خوف کھانے والے ہیں۔ یہ کبھی نہ سمجھیں کہ یہاں کوئی نہیں ہے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ محبت اپنی جگہ ہے، احترام اپنی جگہ، لیکن جو ہماری عزت پر حرف لائے گا، ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
1947 کی تاریخ ہم نے ہتھیار اٹھا کر دہرائی تھی، اب اگر ضرورت پڑی تو پُرامن طریقے سے بھی سبق سکھائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے۔
اور ایک بات میں مزید کہتا ہوں۔ پاکستان کی معیشت صرف ایک وجہ سے نہیں سنبھل رہی،اس میں بہت سے عوامل ہیں، ان کی نااہلیاں بھی شامل ہیں۔ لیکن مشرقی پاکستان کے شہداء کے ساتھ بے وفائی، مقبوضہ کشمیر کے شہداء کے ساتھ بے وفائی، افغانوں کے ساتھ بے وفائی، اور شہداء کے خون کے ساتھ بے وفائی یہ سب بے برکتی کا سبب ہیں۔ جب تک یہ بے وفائیاں ختم نہیں ہوں گی، حالات درست نہیں ہو سکتے۔
میں ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ انہی بے وفائیوں کے نتیجے میں آپ نے امتِ مسلمہ کی امیدوں کے مرکز، پاکستان، کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
ہم ان سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان سے کیا خوفزدہ ہونا؟ ہم پورا کشمیر آزاد کروائیں گے۔ اگر درمیان میں کسی نے کھلواڑ کیا، خواہ مظفرآباد والے نے یا اِدھر والے نے، تو میں نے تنویر اعجاز صاحب سے بھی کہا تھا۔ وہ میرے بڑے بھائی ہیں، ان کا میں بے حد احترام کرتا ہوں۔ وہ میرے پڑوسی بھی ہیں اور میرے لیے باعثِ عزت بھی۔ اختلاف اپنی جگہ، اور بہت سی کہانیاں اپنی جگہ، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب انہیں عزت دی ہے تو میں بھی ان کا احترام کرتا ہوں۔
میں نے ان سے کہا تھا: "تنویر صاحب! اگر پندرہویں آئینی ترمیم منظور ہو گئی، تو جب آپ اسمبلی سے باہر آئیں گے، تو سامنے میں کھڑا ہوں گا۔ پھر دیکھیے گا کہ آپ کیسے آگے بڑھتے ہیں۔"
اور یہ پیغام سب کے لیے ہے، ان شاء اللہ۔
سابق امیر جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر، ڈاکٹر خالد محمود
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح
#حسینی_خان_بمقابلہ_یزیدی_نظام
#ہر_زمانہ_میرے_حسین_کا
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو
#RightsMovementAJK
@UnitedByIK ڈاکٹر صاحب نے کشميری عوام کی نبض پر جيسےھاتھ رکھ کر کشميريوں کی ترجمانی کی ھے۔ کشمير کا اپنا بينک، اپنا ٹی وی سٹيشن اور ھر ڈسٹرک ہسپتال ميں ايک سول ھسپتال کا ھونا بھی ضروری ھے۔ تاکہ ھم سی ايم ايچ ميں ايک سيکنڈ کلاس پرائريٹی کے مريض کی طرح کھڑے نہ ھوں۔
لائن آف کنٹرول کے اُس پار سے آنے والی خبروں پر شدید تشویش ہے۔ احتجاج کرنے والے ایک درجن سے زائد شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔ وہاں کی حکومت کو یہ بہتر انداز میں سمجھنا چاہیے کہ عوامی شکایات اور مطالبات سے نمٹنے کے لیے اس طرح طاقت کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ جب لوگ اپنے خدشات اور مطالبات کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی آواز سنی جانے کے خواہاں ہیں۔ اقتدار میں موجود افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی بات سنیں، ان سے رابطہ کریں اور معاملے کو پُرامن طریقے سے حل کریں، نہ کہ اسے تشدد، من مانے گرفتاریوں اور انسانی جانوں کے ضیاع تک پہنچنے دیں۔ آزاد کشمیر کی صورتحال پر حریت لیڈر میرواعظ عمر فاروق کا ردعمل
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan