آج کچھ دیر قبل قوم سے کیا گیا میرا مکمل خطاب!
پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے ایک پرامن اور جمہوری جماعت ہے۔ میں نے کئی ایک واقعات کا حوالہ دیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے تصادم کی راہ روکنے کیلئےمسل��ل صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار پرامن راستے کا انتخاب کیا اگرچہ مجھے اور میری جماعت کو اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ اٹھانا پڑی۔
میرا حکّام سے مطالبہ ہے کہ سرکاری عمارتوں پر کئے جانے والے کسی بھی حملے کی شفاف تحقیق کریں؛ میرا اعتقاد ہے کہ یہ سب تحریک انصاف کو پھانسنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی میں پولیس سے کہتا ہوں کہ زبردستی گھسنے اور افراتفری پھیلانے کی بجائے باقاعدہ سرچ وارنٹس کے ساتھ میری رہائشگاہ پر آئیں اور ان مبیّنہ دہشتگردوں کو (بقول ان کے) جو یہاں چھپے ہوئے ہیں گرفتار کرلیں۔
ایک آزاد، معتبر اور محترم قانون دان/سیاستدان میرے ان خدشات کی تصدیق کررہے ہیں کہ سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کئے جانے کو تحریک انصاف کیخلاف کریک ڈاؤن کے ایک جواز کے طور پر استعمال کرنے کی یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
Nation has been taken over by a bunch of crooks, criminals, duffers devoid of any ethics or morality.
While the country sinks into its worst economic crisis esp unprecedented inflation and unemployment, all those in power are concentrating on how to crush the biggest and the only federal party by unleashing a reign of terror
Time for all citizens to raise their voices before it’s too late.
میں اپنے کارکنان اور قائدین کی غیرقانونی گرفتاریوں اور اغواء کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہمارے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری جنرل اسد عمر کو قید میں ڈالے ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔
اسی طرح عدالتی احکامات کے باوجود صحافی عمران ریاض خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا اور ان پر تشدد کی مصدّقہ اطلاعات ہیں۔
میں اپنی خواتین قائدین�� کارکنان اور اپنے قائدین اور کارکنان کی اہلِ خانہ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
شہریار آفریدی کی اہلیہ کو کیسے قید کیا جاسکتا تھا؟
واضح طور پر یہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کیلئے کھڑے نہ ہوسکیں۔
انسانی حقوق کی سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے روا رکھے جانے والے سلوک اور انکی صاحبزادی پر مرد پولیس اہلکاروں کے حملے ک�� بارے میں جان کر میں نہایت دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو ضمانت دیے جانے کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل کے اندر سے اغواء کیا گیا اور تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر شیریں مزاری کے چلّانے کی آوازیں سنائی دیں۔
ہماری خواتین کارکنان سے کئے جانے والے وحشیانہ سلوک، جس کے ویڈیو شواہد بھی مسلسل سامنے آرہے ہیں نہایت قابلِ نفرت و مذمت ہے۔
ہماری بہت سی خواتین اراکینِ قومی اسمبلی، کارکنان اور حمایتیوں کو نہایت غیرانسانی حالات میں ملک بھر کی جیلوں میں ٹھونسا جارہا جہاں وہ پولیس کی زیادتی��ں کی زد میں ہیں۔
اس فسطائی حکومت کی جانب سے ان خواتین شہریوں کا اغواء اور ان سے کیا جانے والا بہیمانہ سلوک انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہی نہیں بلکہ ہمارے کلچر اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
ان تمام خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہیں پیہم قید میں رکھنا نِری ب��حسّی ہے۔ میں یہ سارا معاملہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے بھی رکھ رہا ہوں۔
اسلام آباد میں فسطائیت اپنے عروج پر ہے جہاں پولیس ہمارےکارکنوں کو پکڑنےکیلئےبغیر وارنٹس گھروں پر چھاپےمار رہی ہے۔جہاں کارکن گھروں میں موجود نہیں وہاں10برس تک کےکم سِن بچوں کو اٹھایاجارہاہے۔ہمارےوہ تمام کارکن اور ان کےبچے فوراً رہا کئے جائیں جنہیں اغواء کیا جاچکاہے!
Fascism at unprecedented levels with police in Islamabad raiding homes without warrants to abduct PTI workers. Where the worker is not present, children as young as 10 yrs are picked up. We demand the immediate release of all our workers & their children who have been abducted.
Shortly I will expose how I almost walked into a death trap & the plot to kill me in the Judicial Complex; and how Almighty Allah saved me in the nick of time.
All our workers that have been jailed by this govt of criminals, today we will not only approach the courts but also int human right organisations. We will ask all PTI chapters abroad to approach their local elected reps & politicians to inform them of the fascism going on in Pak
مجرموں کی اس سرکار کے ہاتھوں قید کئے جانے والے اپنے کارکنان کا معاملہ آج عدالتوں ہی میں نہیں بلکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے بھی اٹھائیں گے۔ دنیا بھرمیں تحریک انصاف کے ذمہ داران اپنے منتخب مقامی نمائندوں اور سیاستدانوں کو پاکستان میں جاری اس فسطائیت سےآگاہ کریں۔