اس شعر میں شاعر حبا چوہدری کو کاکڑ بنانے کی اشارہ کررہے ہیں 😁
یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہمارے کم عقل ایماء پر ملک چلائی جائے اسے کوئی کہہ دے کہ بھائی 70 کی دہائی میں نکالے جانے والے سارے ملازم وفات پاچکے ہیں
اور اب 55 سال بعد بلوچوں کے نوجوانوں نے بھی ڈگریاں لے رکھی ہیں
تمہارے لئے محض آگ ہے مگر
مجھے اپنے خواب جلتے نظر آرہے ہیں
وہ دھوئیں سے لپٹا میرے بچوں کا تعلیم
سمندر کے پاس یوں گھر جلانا یہ تم کیا جانو
میرے اور سمندر کے رشتے تم کیا جانو
ہر ہر مچھلی مجھے جانتا ہے
ہر ہر لہر کے تپھیڑوں سے میرے نسلوں
کا واسطہ ہے
#کنٹانی#گوادر
ہم مجبوراً قلم کی زبان پر لدے الفاظ لیکر پکارتے ہیں تو تم ٹویٹر سردار کے طعنے دیتے ہو
تم benificiary ہو اس جنگ کے صرف اتنا پتہ دو کہ نواب اکبر بگٹی کے پرامن دور میں تم زمین کے کس حصے میں دفن تھے اور آج جائیدادوں سے شکم بھرکر ��س جنگ کے شعلوں کو مزید اس لئے ہوا دیتے ہو کہ امن نہ
بلوچ تاریخ و سماج میں طاقتور پہلوئیں بھی شامل ہیں جن سے اجتماعیت کے امثال ملتے ہیں وہی کمزور پہلو بھی اپی جگہ پہ حاضر ہے کہ آپ کے مہمان نوازی سے پوٹینگر جیسا جاسوس بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے تاریخ کے مطالعہ کا مقصد کمزور پہلووں کو طاقتور پہلو میں بدلنا ہے
فاروق بلوچ
یہ محض ایک ہجوم کے ہوتے ہوئے سنّاٹے میں بیٹھنے کی تصویر نہیں بلکہ یہ بلوچستان کی حالیہ تصویر ہے جو ایک تاریخی غصے اور ظلم کے تسلسل کے خلاف خاموش نہیں بلکہ سوچ رہا ہے
بلوچستان سوچ رہا ہے
@sakhtarmengal@BNP_Wadh
@
پہلی بار ملک کا وزیر اعظم اس اعلی عہدے کو اپنی ذاتی تشہیر کیلئے استعمال کیا ہے اور سب سے اعلی عہدے پر پہنچ کر سردار اختر مینگل سے ��ر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں میرے پاس وقت بہت ہے اس کا مطلب وہ ایک مجسمہ ہے کام اور کررہے ہیں
@sakhtarmengal
یہ میرے لئے بہار کے سب سے پہلے کھلے اس کونپل اور گرمی کے شروعات کا پہلا جھونکا جیسا ہے کہ اب میرے نوجوان کتاب پڑھتے ہیں فلسفیوں کے فرمودات سے مجھے ٹوکتے ہیں اس طرح میرے گریبان میں پکڑ کر وہ مجھے بے چینی سے ذیادہ قرار بخشتے ہیں ___
🖋
ذرا خیال سے بیٹا کہیں بابا خواب میں نہ آجائیں اور کہہ دیں کہ میں تمہیں اعلی تعلیم ، تمہیں بادلوں کے گرجدار آوازوں سے سینے سے لپک کر چھپاتا تمہیں برقی آلات سے دور اور آگ سے کھینچتا رہا لیکن ایسے بدبختی کہ تجھے یتیم بنا کر چوراہے پہ شعبدہ بنا ڈالے ایسا کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا
ڈانسر وڈھ میں نورا مینگل کے نقوش میں آپ کو ہو بہو وہی عکس ملینگے جو دعوی کرتے ہیں کہ نورا اور مرجانا متضاد نظریے ہیں وہ تتلیوں کے پھنک پھیلانے سے بادلوں کے دستار اور بادلوں کے دستار سے ہواوں میں خوشبو کی طرح من کے پیاسوں کو آکسیجن فراہم کرتے رہتے ہیں
نورا کے شہر میں نورائی لوگ
وہ کوبرا صرف ایک بار ایک شخص کو ڈسیگا ہوسکتا ہے وہ بچ جائے ___
لیکن سامنے بیٹھنے والا کوبرا کسی نسل کسی قوم کو اس وقت تک ڈستا رہیگا جب تلک وہ آگہی کے سر نہیں اُٹھاتے_
آپ ��جھ سے بڑے خطرناک ہیں ہہ کہہ کر سانپ واپس جوگی کے پاس شرمندگی سے چلا گیا__
🐍🐍
سنو جاناں!!!!
محبتوں نے رخ سے چادریں ہٹادیں ہیں __
بادل برہنہ ہوکر بجلیاں گرارہی ہیں __
پہاڑ بار بار روشنی میں خود کو دیکھ کر محوِسنگھار ہیں
راستے تمہاری طرف آنے ہمیں ہواوں سے دھکیل رہے ہیں _
اب اس راز کو فاش کردو جو تم مجھے وقت پر بتاوگے اور میں سن کر دنگ رہ جاونگا______
❤🖤
میں نے زندگی کو ایک بچے کی طرح کاندھے پر اُٹھایا ہوتا ہے کبھی رو لیتا ہے تو کبھی ہنستا ہے میری جان ایک کچکول کی مانند جبکہ دل عصاء کی طرح ہے مجھ پہ وجد کی کیفیت طاری ہو تو ملنگ بن جاتا ہوں _
📝🖋
بعض اوقات صرف ایک آہ کی تشریح لکھتے ہوئے کتابیں کم پڑجائیں _____
سونے اگلنے والی زمیں کے ھیرے جیسے باسیوں کو زیر دست بااثر افراد اُٹھانے اغواء کرنے کی دھمکی دیکر بلوچ سماج کو ایک ہیجانی کیفیت میں دھکیل کر عورت کی تعظیم سے بغاوت کا عنصر بن رہے ہیں
🖋📝
تم ہمیں ولایت کے کاغزی پھولوں سے آشنا کرانے کی تگ و دو میں ہو _________
چلے آو گاوں بہار میرے نگاہوں کے سامنے برہنہ کھڑی ہیں کلیوں کو ہم نے کپڑے بدلتے جب کہ بادلوں کو سنگھار کرتے دیکھا ہے یہ سوچ بھی نہیں سکتے ان لمحات کو بھول کر ہم کوئی قضاء کرکے کفارہ ادا کردیں ___
🖋📝
جدت بعض اوقات ہمیں آسائشوں کے ساتھ ساتھ علوم کے مندرجات عطا کرتی ہے اور ک��ھی کبھی ان کے بدلے ہمیں احساسات کی قربانی دینی پڑتی ہے جو ہمارے سرشت میں محوِ وجدان ہیں _____
❤🖤