ٹیلی کام بل لوگوں کی پراپرٹی پر قبضے کا ایک بھیانک منصوبہ تھا جسے پلوشہ خان نے ناکام بنایا لیکن اس معاملے کو ہلکا نہیں لینا چاھیے بل پیش کرنے والوں اور اس میں مدد دینے والوں کا محاسبہ بھی ضروری ھے
پیٹرول اور ڈیزل دو سو روپے سے اوپر ناانصافی ھے اور اس کی وجہ سے جو مہنگاٸی ھوٸی ھے اس کے کنٹرول پر توجہ دینے کی ضروت ھے پیٹرولیم سے ریلیٹڈ دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ھوا ھے
پاکستان نیشنل بینک کے صدر کی تنخواہ 90 لاکھ روپے ماہانہ ھے جبکہ بھارت کے بینک آف انڈیا صدر کی ماہانہ تنخواہ 12 لاکھ (پاکستانی روپے) ھے
پاکستان کو افسر شاہی نظام نے نگل لیا ھے
ہم بجلی کو روتے یہاں تو گیس کے بل پر بھی ڈالے پڑ رہے
یہ گیس کا بل چیک کریں ساڑھے تین سو گیس کی قیمت اس پر 2270روپے ٹیکس ڈال دیا ہے سولہ سو تو فکسڈ ٹیکس ہے حکومت نے تو عوام کی چمڑی میں بھوس بھرنے کی ٹھان لی ہے
اس ظلم پر کون حکومت سے خوش ہو گا ؟
حسن نثار کبھی کبھی بھت پتے کی بات کر جاتے ہیں
کیا آپ حسن نثار کی اس بات سے متفق ہیں
کیا ایسا پاکستان میں بھی ہونا چاہیے ؟
متفق لوگ ریٹویٹ کریں پلیز
جو متفق نہیں وہ پرے پرے رہیں
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے، حکومت کو فوری طور پر قیمتیں کم کرکے پاکستانیوں کی اذیت اور تکلیف میں تھوڑی کمی کرنی چاہیے۔اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوئی ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں کمی کی جارہی؟
یہ ریڑھی والا بابا کوئی عام شخص نہیں ہے یہ افغان آرمی کا جنرل شاہ محمود نیازی ہے😭
انہوں نے رائیل ملٹری اکیڈمی UK سے 1958 میں گریجویشن کی 1990 تک یہ افغان آرمی میں خدمات سرانجام دیتے رہے.
اس نے اپنے تین بیٹے اپنے ملک کے لیے قربان کیے.
اب یہ قندھار میں اپنی بیوی اور بہو کے ساتھ رہتے ہیں ان کی کفالت یہ ریڑھی چلا کر پھل اور سبزی بیچ کر کرتے ہیں 88 سال کی عمر میں یہ سخت محنت کرتے ہیں.
کوئی انہیں امداد یا خیرات دینا چاہے تو یہ سخت ناراض ہوتے ہیں اور سخت برا مناتے ہیں.
غیرت، خودی اور خودداری سے جینا اسے کہتے ہیں، جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آتی ہے اس رزق کا انکار اسے کہتے ہیں.