Politics is not a dirty game.
Dirty people just keep using it like one.
Pakistan needs citizens who treat politics as duty — not as a ladder for power and personal gain.
Follow if you want public work, not private benefit.
@fawadchaudhry آپ جیسوں کو تو سوٹ کرتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو ہٹا کر فضل الرحمن کو لے آئیں۔ ہمیں اتنی بات کا پتہ ہے کہ جس کی آپ مخالفت کریں گے اس کا مطلب ہے وہ بندہ صحیح ہے اور جس کی حمایت کریں گے ہم سمجھ لیں گے کہ اس سے دور رہنا ہے۔
@SHABAZGIL ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک رؤف حسن ہوا کرتے تھے !
بڑے بڑے نام تو اور بھی بہت ہیں کس کس کا لیں۔ سیف اللہ نیازی، لطیف کھوسہ، حامد خان، حلیم عادل شیخ، خرم ذیشان ، ڈار برادران، یہ تو صرف چند ایک ہیں۔
ایک کہانی وہ ہوتی ہے جو سکرین پر چل رہی ہوتی ہے اور ایک وہ ہوتی جو اس سکرین کے پیچھے چل رہی ہوتی ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر سامنے چلنے والی کہانی کو ہی حقیقت سمجھ کر قبول کرتے ہیں ۔ لیکن ہم میں سے وہ جو نہ صرف پیچھے چھپی اصل کہانی سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ social media warriors کی مخالفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی بات پر غور کرنے کی بجاۓ ہم اُن کی ذات پر زیادہ غور شروع کر دیتے ہیں اور بدقسمتی سے بے سروپا الزامات بھی لگاتے ہیں۔
اب دیکھیں کے پی کے میں لانگ مارچ کے بعد کے واقعات کو دیکھا جاۓ تو سب پی ٹی آئی chill ہے۔ نہ کوئی پریس کانفرنس ،نہ کوئی بیان اور نہ ہی کوئی لائحۂ عمل ! رد عمل کا ظاہر نہ ہونا بھی ایک رد عمل ہی ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے تو۔
اب نئی بات سامنے آئی ہے کہ کے پی کے اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ کے پی کے اپنے فیصلے خود کرے گا اور سنٹرل لیڈرشب کا ان کے فیصلوں میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ اب ممبران کل کو کہیں ہم اپنا نیا وزیر اعلیٰ گنڈا پور کو بنا رہے ہیں۔
اس سارے چکر میں عمران خان کی بات کہیں نہیں ہو رہی۔سب بھول گۓ ہیں کہ عمران سمیت ان کی ساری فیملی جیل میں بند کر دی گئی ہے ۔ پارٹی کے سینئر لیڈران کی طرف سے بھی مکمل خاموشی ہے ۔ان کا زیادہ فوکس مولانا فضل الرحمان کو ساتھ ملانے اور محمود اچکزئی کو نکالنے میں ہے۔ ہاں جی وہی فضل الرحمن جو ہماری سیٹوں پر ناجائز قبضہ کر کے بیٹھے ہیں ۔ اب کون سا فیصلہ کہاں سے ہو رہا ہے ہم نہیں جانتے لیکن دماغ کو استعمال کریں تو اتنا بھی مشکل نہیں۔
میر کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوۓ جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔
واقعی افسوناک اور انتہائی افسوس ناک !
میں نے اپنی زندگی میں اتنا بہادر آدمی نہیں دیکھا!
باقی نیلسن منڈیلا، ولادیمیر لینن, مہاتما گاندھی, ماؤ زی تنگ, چی گویرا یا فیڈل کاسترو ہو انکی کہانیاں سنی ہے, لیکن عمران خان کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہےہیں!!
Most fundamental requirement of leadership at any level is the courage to take responsibility for obvious failures. The more senior you are in leadership the greater the burden of responsibility. Has any of PTI leadership taken this responsibility for October 4 long March or any others in 2024?
نثار باز خان ANP کے ممبر صوبائی اسمبلی کا جوابی ٹویٹ؛
“رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ــــــ
1/2
اس حوالے میں نے ہر میٹنگ میں یہی بات کی ہیں،کہ پورے محکمے اور 4000 لیز ہولڈرز کو ایک مخصوص جماعت کیساتھ جوڑ کر روزگار چھیننا کہاں کا انصاف ہے؟ اس مطلب پھر صاف ہیں، کہ کسی طرح تمام لیز ہولڈرز کو مشکوک بناکر پروپیگنڈا کرکے عوامی رائے کو ہموار کرکے اسے ختم کردیں اور حوالدار صاحب گورنر راج اور ایمرجنسی کا فایدہ اٹھا کر اس پر لارج اسکیل لائسنس اپنے جاری کرکے قبضہ کرلیں، اور جس طرح امریکی بہادر سے بات پہلے جو کی جاچکی ہیں اس مقصد کو پورا کردیں،
مگر ھم ایسا ہرگز نہیں ہونے دینگے، پچھلے سال 2025 جس طرح گنڈا پور سرکار نے SIFC کے طرف سے بھیجی گئے ڈرافٹ کو کابینہ سے منظور کرکے اس بل کو اسمبلی میں ٹیبل کیا، اور اس منرلز ایکٹ 2017 میں تبدیل کرنے اور مسلط کرنے کی کوشش ہوئی، تو سب سے پہلے میں نے اسے پختونخوا کے عوام کے سامنے ایکسپوز کیا اور اسمبلی فلور پر اسکی بھرپور مخالفت کی، اور پختون قوم کی میراث پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عوام کے سامنے ننگا کیا، اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے اس ایشو پر جسطرح پوری قوم کو متحد کیا اور جرگے منعقد کی، سیمینارز، ال پارٹیز کانفرنس سمیت مظاہرے بھی کیے جس کی بدولت اس صوبائی حکومت کو مجبور کرکے اس بل کو ڈرافٹ آؤٹ کیا،
میں ہرگز صوبائی حکومت کا دفاع نہیں کرنا چاہتا مگر حقائق کے منافی ریاستی پروپیگنڈا ٹیک نہیں،
احتساب ضرور کریں، مگر ثبوت، قانون اور حقائق کی بنیاد پر، ھم خود چاہتے ہیں کہ احتساب ہو اور سرعام ہو۔محکمہ معدنیات میں جہاں خامیاں ہیں،انہیں درست کیا جائے، جہاں کرپشن ہے اسے بے نقاب کیا جائے۔ لیکن پختونخوا کی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہرگز نا کریں۔ یہ اس پختونخوا کی عوام کا مشترکہ میراث ہیں، اور اسکا دفاع ہرصورت میں کرینگے۔
احتساب کی مخالف نہیں۔ اگر کسی بھی معدنی لیز میں حکومتی دباؤ، اقرباپروری، رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانون شکنی کے شواہد موجود ہیں، تو ان کی مکمل تحقیقات ضرور ہونی چاہیئں اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
لیکن اسکی پس پردہ اگر کوئی اور منصوبہ بندی ہورہی ہیں تو ھم اسکو ایکسپوز کرتے رہینگے۔!!!
نثار باز خان
الفاظ پے نہ جائیں، ان الفاظ کے پیچھے ایجنڈے کو سمجھیں۔
اس سے پچاس گنا کم سچ ٹویٹر پر لکھنے سے لوگ گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ایمان مزاری اور سیکنڑوں کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں ۔
مولانا کبھی ملتان جاتے ہیں کبھی فیصل آباد ، کبھی واپس کے پی کے۔ ان کے تو کسی ملازم کا بھی بال تک بیکا نہیں ہوا۔ ظاہر ہے وہ تحریک انصاف میں لیڈرشپ کا vacuum فِل کرنے کی کوشش کر رہیں ہیں ۔
میرے خیال سے تو آپ کو اس غدار کا پتہ کرنا چاہیے جو اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر تحریک انصاف اور مولانا صاحب کو مزاحمتی تحریک کے لیۓ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو تحریک انصاف کے ووٹ بینک کو مولانا کی جھولی میں ڈالنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ جب تحریک انصاف فرنٹ لائن پر لیڈ نہیں کرے گی تو مولانا صاحب ٹیک اوور کریں گے۔ یہ منصوبہ تو اتنا کلئیر نظر آ رہا ہے۔
تحریک انصاف والوں میں تھوڑی سی بھی عقل ہو تو مولانا کو ساتھ جوڑنے سے پہلے شرط رکھیں کہ پی ٹی آئی کی ریزروڈ سیٹوں پر جو ناجائز قبضہ کیا ہے وہ نہ صرف چھوڑ دیں بلکہ تسلیم کریں کہ انھوں نے غلط کیا۔ آپ کے لیۓ میر تقی میر فرما گۓ ہیں
میر کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوۓ جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
پارٹی لیڈران میں سے کسی کو بھی کچھ کرنے کی جلدی نہیں۔
حالانکہ عمران خان کی زندگی خطرے میں ہے۔ جب آنکھ کی بینائی جانے کا پتہ چلا تھا اسی وقت بھی نہ ہلے، بلکہ کے پی کے میں جاری دھرنے ختم کروا دیۓ اور رمضان کے بعد کہا رہائی فورس بنائیں گے۔ بلڈ پریشر کے بہت زیادہ ہونے کی متواتر خبریں پہنچ رہی ہیں لیکن مزاکرات مزاکرات کھیل کر اب پھر آرام سے بیٹھے ہیں۔ اگر کچھ کرنا نہیں تھا تو عہدے کیوں لیۓ تھے ؟؟
اب سوال ہے: اگر لیڈر کی زندگی اور صحت ہی محفوظ نہ رہیں تو آپ کی سیاست، عہدے اور آرام کس کام کے؟
تاریخ صرف ظلم کرنے والوں سے نہیں، وقت پر آواز نہ اٹھانے اور جدوجہد نہ کرنے والوں سے بھی سوال کرتی ہے۔
یہ تینوں خاص طور پر شہباز گل اور شہزاد اکبر اگر اپنے وی لوگز کے ذریعے ہمیں حقائق / خبروں سے آگاہ نہ کریں تو ایسٹیبلشمنٹ تو مکے تک راضی ہو۔ کئی ارب روپیۓ خرچ کر کے جو فائر وال لگائی گئی وہ صرف اس لیۓ تھی کہ ان کی اور ان جیسے اور باہر بیٹھے ول لاگرز کی آواز کو پاکستان میں بند کیا جا سکے۔ تقریبا اسی فیصد لوگ پاکستان کا نیشنل میڈیا نہیں دیکھتے صرف اسی وجہ سے کہ وہاں جھوٹ کے پلندے ہوتے ہیں ۔ ہمیں ان تمام وی لوگرز کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اگر وہ یہ کام نی کرتے تو قوم بلکل اندھیرے میں ہوتی۔ ان وی لوگرز کے خلاف بھی یہ مہم کچھ تو پارٹی کے اندر وہ گروپ چلا رہا ہے جو دونوں طرف کھیل رہا ہے کبھی یہ اعتراض ہے کہ اس وی لوگز سے پیسہ کیوں کما رہے ہیں تو کبھی یہ کہ ملک کے باہر کیوں ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ملک کے اندر ہوتے تو کیا وہ اس بہادری سے اپنا یہ کام کر سکتے تھے؟ الٹا ان کی جان کو خطرہ ہوتا۔