ہماری ISI نے ایک اور امریکہ دریافت کر لیا ہے؛ یہ خود کو کولمبس سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ میری دیوار کو برلن کی دیوار سمجھ کر گرا رہے تھے، لیکن آگے سے دیوارِ چین نکل آئی۔ کولمبس اُن لوگوں سے میرے خلاف پریس کانفرنس کر رہا ہے، جنہیں اپنی کھڑدادی، کھڑدادے، کھڑنانی یا کھڑنانے کی زمین بھی کسی اور سے لینی ہے۔
Bloody nincompoops! تمہاری نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے پاکستان دہشتگردی کے معاملے میں دنیا میں صفِ اول پر آ گیا ہے، اور تم لوگ یہ حرکتیں کر رہے ہو۔ کوئی تو شرم کرو! جو کام ہے، وہ کرو۔ دنیا میں تمہارا مذاق بن رہا ہے۔
میں دبئی سے ایک مرتبہ واپس آ رہا تھا تو میرے ساتھ بیٹھے شخص نے کہا کہ میں ریٹائرڈ جنرل ہوں۔ مشرف کے کہنے پر آپ پر ٹارچر کیا، میرا ارادہ نہیں تھا اور میں شرمندہ ہوں۔ میں نے اُس سے پوچھا، بھائی، تمہارا تعارف کیا ہے؟ اُس نے کہا، میں ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر احسان الحق ہوں۔ یہ ان کی اوقات رہ جاتی ہے، یہ ان کی کل اوقات ہے۔ اب گورنر راج لگا کر اُسے گورنر KPK لگائیں گے۔
عاصم منیر صاحب، واپس آؤ! اپنی اوقات میں واپس آؤ۔ جو تمہاری حیثیت ہے، وہیں واپس آؤ۔ تم عوام کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ عوام سویا ہوا شیر ہے، اُسے مت جگاؤ۔ تمہاری کوئی اوقات نہیں، تم بھسم ہو جاؤ گے
میرے پاکستانیو!
ہم نے اپنی زندگیاں داؤ پر لگائ ہوئی ہیں۔ ہمارے ورکرز کا بہیمانہ قتل عام ہورہا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم ہے۔ عمران خان کے جان کو شدید خطرات ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں ہی شرپسند ثابت کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ آزادی آپ کی ہے۔ یہ ملک آپ کا ہے۔ مستقبل آپ کا داؤ پر لگا ہے۔ ہم رہیں نہ رہیں آپ اپنی آزادی کے لیے نکلیں
مراد سعید
چیف سیکرٹری کے رویے اور آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت ملک کی بدتمیزی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 100 سے زائد بیگناہ اور نہتے کشمیریوں کے قتلِ عام میں براہ راست ملوث شخصیات نے کس طرح کا ظلم اور جبر کیا ہو گا!
اتنے بڑے افسران کا صحافی کے سادہ سے سوالات پر جھنجھلاہٹ اور ہاتھا پائی تک پہنچنا واضح نشان دہی کرتا ہے کہ ان کے ہاتھوں بہت کچھ ہوا ہے، کیمروں کے سامنے یہ حال ہے تو چھپ کر پتہ نہیں کیا کیا ہو گا، وقت آئے گا تو ثبوت بھی آ جائیں گے آئی جی صاحب۔
عاصم منیر رجیم نے نظریہ پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے، آج کشمیر میں کسی سے بات کرو آپ کو الحاق پاکستان کا حامی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا اور جو چند ایک ہیں وہ چھپ کر راولپنڈی میں بیٹھے ہیں!
یہ عاصم منیر کے چھوٹے چھوٹے فرعون ہیں ان کو اللہ ربّ العزت بڑے فرعون کے ساتھ نشان عبرت بنائے گا.
آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی@SalooDurrani بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔
ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔
انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔
ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔
جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔
وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘
وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔
یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔
تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔
عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔
عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔
مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇
شہبازشریف نے لندن میں بدنام زمانہ صہیونی خاندان Rothschild کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔
اس خاندان کی کچھ تاریخ دیکھ لیں تا کہ آپ کو اندازہ ہوجائے کہ موجودہ رجیم کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ اور عمران خان کیوں قید میں ہے۔
روتھسچائلڈ یہودی خاندان نے 18ویں صدی میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے بینکوں کا کاروبار شروع کیا۔ مائر ایمشل روتھسچائلڈ کے پانچ بیٹوں نے یورپ کے بڑے شہروں میں بینک قائم کیے اور 19ویں صدی میں خاندان یورپ کا سب سے امیر خاندان بن گیا۔ یورپ کی فائننشیل ورلڈ پر ان کی اجارہ داری قائم ہوگئی۔
آج یہ خاندان دنیا کے بہت سارے مرکزی بینکوں، حکومتوں اور جنگوں کو خفیہ طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ اس خاندان کی اولین ترجیح اسرائیل اور اس کے مفادات ہیں۔
کیا فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک کامیاب آرمی چیف / چیف آف ڈیفنس فورسز ہے یا فیل شدہ، اور کیا آپ اسے پسند کرتے ہیں یا نفرت کرتے ہیں؟
افواج پاکستان اور ان کی فیملیز سے پول میں شرکت کی درخواست ہے
انھوں نے انڈیا کا سانس بند کرنا تھا الٹا اقوام متحدہ کے اجلاس میں انڈیا کی نمائندگی کرنے والوں نے پاکستان کے منہ پر مزید کالک پوت دی ہے۔
“This regime is of the army, by the army, and for the army.”
اس پر کوئی صحافی کوئی چینل بات نہیں کرے گا کہ کیسے فوج پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر رہی ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں شاید کبھی کسی بات پر اتنی شرمندگی محسوس نہیں کی جتنی آج اس حقیقت پر ہوتی ہے کہ میں کبھی یہ سمجھتا تھا کہ میں ایک حقیقی قومی فوج کا حصہ ہوں اور ایک محب وطن سپاہی کی حیثیت سے خدمت کر رہا ہوں۔
اس تصویر میں نظر آنے والی یہ شیلڈ مجھے جون 1980 میں میری یونٹ، 15 پنجاب رجمنٹ کے افسران نے اس وقت پیش کی تھی جب میری پوسٹنگ جی ایس او 3، 4 اے کے بریگیڈ، بھمبر، آزاد جموں و کشمیر ہو رہی تھی۔
اس وقت تک میں فوج چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا، اور بالآخر 1981 کے اوائل میں میں نے فوج چھوڑ دی۔
لیکن اس مرحلے پر بھی، فوجی حکمرانی سے میرے تمام اختلافات کے باوجود، اور اس مقام تک پہنچ جانے کے باوجود جہاں میرے لیے اس ادارے میں رہنا ناقابل قبول ہو چکا تھا، میں اب بھی پوری طرح یہ نہیں سمجھ پایا تھا کہ نوآبادیاتی فوجی ذہنیت ہمارے اندر کتنی گہرائی تک پیوست تھی۔
میں نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوال نہیں اٹھایا تھا کہ انگریز ہمارے پیش روؤں کو 33rd Punjabi Mohammedans کیوں کہتے تھے، صرف 33rd Punjabi Muslims کیوں نہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ میں نے کبھی غور سے یہ نہیں دیکھا تھا کہ اس شیلڈ کے گرد درج یہ تمام Battle Honours دراصل کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہیں غور سے دیکھیے۔
پل کنجری 1971 اور لانس نائیک محفوظ شہید کے نشان حیدر کو چھوڑ کر، اس شیلڈ کے گرد درج تقریباً ہر Battle Honour برطانوی تاج کی خدمت میں حاصل کیا گیا۔
ایک طرف افغانستان، پنجاب فرنٹیئر، تیراہ، ملاکنڈ، چترال، برما، لا باسی اور یپرس ہیں، یعنی برطانوی ہندوستان کی نوآبادیاتی سرحدوں پر یا پہلی جنگ عظیم میں لڑی جانے والی مہمات۔
دوسری طرف کوت العماره، دجلہ، بغداد، مجدو اور فلسطین ہیں، اور پھر کروہ، کامپر، ایپوہ، مور، سنگاپور آئی لینڈ اور ملایا۔
ان تمام ناموں کو ایک ساتھ دیکھیے تو ایک غیر معمولی مگر تکلیف دہ داستان سامنے آتی ہے۔
ہمارے پیش روؤں کو برطانوی سلطنت جہاں چاہتی، بھیج دیتی۔ انہوں نے مسلمانوں سے بھی جنگ کی، عیسائیوں سے بھی، ہندوستانیوں سے بھی، پٹھانوں اور پنجابیوں سے بھی، جرمنوں، اطالویوں، جاپانیوں اور دوسروں سے بھی۔
اس لیے نہیں کہ یہ سب لوگ لازماً پنجاب کے دشمن تھے، یا ان لوگوں کے دشمن تھے جو بعد میں پاکستان بننے والے خطے کے باشندے کہلائے، بلکہ صرف اس لیے کہ جس سامراجی طاقت نے انہیں بھرتی کیا تھا، اس نے فیصلہ کر دیا تھا کہ یہ لوگ دشمن ہیں۔
یہی، اپنی اصل میں، نوآبادیاتی فوجی نظام تھا۔
اور میرے نزدیک یہی، اپنی اصل میں، آج پاکستان کے فوجی نظام کا بنیادی مسئلہ بھی ہے۔
لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا، تربیت دی جاتی تھی، تنخواہ دی جاتی تھی، ہتھیار دیے جاتے تھے اور پھر حکم دیا جاتا تھا کہ جاؤ اور لڑو۔
پیشہ ورانہ فرض کا نام اطاعت تھا۔
جنگ کا بڑا سیاسی مقصد کیا تھا، کس کو فائدہ ہو رہا تھا، جن لوگوں کے خلاف انہیں بھیجا جا رہا تھا وہ واقعی ان کے اپنے لوگوں کے لیے کوئی خطرہ تھے یا نہیں، اور کیا وہ جنگ ان کے اپنے قومی مفاد میں تھی یا نہیں، یہ فیصلہ سپاہی کا کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اسی لیے آج یہ شیلڈ مجھے اتنی بے چین کرتی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ یہ جنگیں ہوئیں۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ ان جنگوں میں لڑنے اور مرنے والے انفرادی سپاہیوں میں ذاتی بہادری یا قربانی نہیں تھی۔ انسان کسی انتہائی غیر منصفانہ سیاسی مقصد کے لیے لڑتے ہوئے بھی ذاتی بہادری دکھا سکتا ہے۔
جیسے شاید آج بھی عاصم منیر کے ماتحت بعض لوگ ذاتی بہادری دکھا رہے ہوں۔
اصل سوال یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی ہم ان سامراجی جنگوں کو ادارہ جاتی فخر کی علامت کیوں سمجھتے رہے؟
ہم نے رجمنٹس ورثے میں لیں۔ ان کی روایات ورثے میں لیں۔ میس کلچر، علامات، درجہ بندی، Battle Honours اور کمانڈ کلچر کا بڑا حصہ بھی ورثے میں لیا۔
لیکن کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس سیاسی اور نفسیاتی ذہنیت کا جائزہ لیا جو اس پورے ورثے کے ساتھ ہمارے اندر منتقل ہوئی تھی؟
آج یہ شیلڈ میرے سامنے یہی سوال کھڑا کرتی ہے۔
ایک ایسی فوج جو خود کو قومی فوج کہتی ہے، اس کی ادارہ جاتی شناخت آخر اس نوآبادیاتی طاقت کی جنگوں سے کیوں تشکیل پاتی رہے جس نے کبھی اس کے اپنے لوگوں پر حکومت کی تھی؟
برطانوی سامراجی مفادات کے لیے لڑی جانے والی جنگیں ایک آزاد، بعد از نوآبادیاتی فوج کے وقار، اساطیر اور اجتماعی خودتصور کا حصہ کیوں بنی رہیں؟
ایک نوآبادیاتی فوج اور ایک حقیقی قومی فوج میں فرق صرف اس جھنڈے کا نہیں جو اس کے ہیڈکوارٹر پر لہراتا ہے۔
اصل فرق سپاہی، ریاست اور شہری کے باہمی تعلق میں ہوتا ہے۔
ایک قومی فوج آئین اور قانون کے تحت موجود ہوتی ہے۔ اس کا اختیار اس ریاست سے آتا ہے جسے عوام نے تشکیل دیا ہے۔ اس کا کام ملک اور شہریوں کا دفاع کرنا ہے، اور وہ آئینی اختیار کے تابع رہتی ہے۔
نوآبادیاتی فوج کا مقصد بالکل مختلف تھا۔
اس کی بنیادی ضرورت ڈسپلن، کمانڈ سے وفاداری اور حکم کی اطاعت تھی۔
اسے ان لوگوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا تھا جن کے ساتھ اس کے سپاہیوں کا مذہب، نسل، زبان یا جغرافیہ مشترک ہو، کیونکہ اصل سوال کبھی یہ نہیں ہوتا تھا کہ سامنے کون ہے۔
اصل سوال صرف یہ ہوتا تھا کہ سامراجی اختیار نے کیا حکم دیا ہے۔
اور آج کے پاکستان میں بھی ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔
یہ فرق بہت اہم ہے اگر ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان نے 1947 میں کیسی فوجی ثقافت ورثے میں پائی۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ایک نوآبادیاتی فوج ورثے میں پائی۔
لیکن زیادہ تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس ادارہ جاتی نفسیات کو حقیقتاً تبدیل کیا بھی یا نہیں۔
میرا جواب ہے:
نہیں۔
کیا آزادی کے بعد ایک ایسی حقیقی قومی فوجی ثقافت وجود میں آئی جو آئینی تابع داری اور شہری کی حاکمیت پر قائم ہو؟
میرا جواب ہے:
نہیں۔
یا پھر پرانے نوآبادیاتی تعلق کا بڑا حصہ صرف ایک نئے جھنڈے، نئے بیجز اور نئے سیاسی آقاؤں کے نیچے زندہ رہا؟
میرا جواب ہے:
ہاں۔
جب یہ شیلڈ مجھے 1980 میں دی گئی تھی تو میں اس میں رجمنٹ کی تاریخ، عزت اور روایت دیکھتا تھا۔
آج میں اس میں کچھ اور دیکھتا ہوں۔
میں ایک ایسے نوآبادیاتی فوجی نظام کا ورثہ دیکھتا ہوں جس میں سپاہیوں کو تربیت دی جاتی تھی کہ جہاں بھی بھیجا جائے، جائیں؛ جس کے خلاف لڑنے کا حکم ملے، اس سے لڑیں؛ اور اطاعت کو بذات خود ایک فضیلت سمجھیں۔
بالکل اسی طرح جیسے آج وہ اپنے ہی نہتے، بے بس اور معصوم شہریوں پر بے رحمی سے گولیاں چلا دیتے ہیں جب انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
اور میں خود سے پوچھتا ہوں کہ ہم نے اس ذہنیت کو آخر کتنا پیچھے چھوڑا؟
میرا جواب ہے:
کچھ بھی نہیں۔
اسی لیے آج میرے لیے یہ شیلڈ کسی یاد، کسی فخر یا کسی فوجی رومان کی علامت نہیں۔
یہ ثبوت ہے۔
ثبوت اس بات کا کہ ہماری فوج نے اپنی نوآبادیاتی، کرائے کی فوج والی ذہنیت سے مکمل نجات کبھی حاصل نہیں کی۔
ایک ایسی فورس جو تنخواہ لے، ہتھیار لے، حکم لے، اور پھر اس پر عمل کرے، چاہے حکم دینے والا کون ہو اور گولی کھانے والا کون۔
میرے لیے مسئلہ یہی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر فوجی کنٹرول ختم ہونا چاہیے۔
اسی لیے گزشتہ تیس سال سے زیادہ عرصے میں یہ شیلڈ کبھی میرے گھر کی دیوار پر نہیں لگی۔
میرے لیے یہ کسی قابل فخر فوجی ماضی کی علامت نہیں۔
یہ ایک شرمناک اور ذلت آمیز ماضی کی یاد دہانی ہے۔
صرف پل کنجری 1971 اس سے مستثنیٰ ہے۔
باقی اس میں میرے لیے فخر کرنے کو کچھ بھی نہیں۔
Pakistan’s “reforms” in a nutshell:
Two weeks ago, the PM’s niece flew to London on a newly purchased Gulfstream jet to attend her daughter’s graduation, do some last-minute wedding shopping, and pick up a rare Mouawad diamond set, reportedly without paying the applicable duties or government taxes.
Meanwhile, her uncle, the Prime Minister, flew at government expense on an Airbus to New York, via London, on what appears to be a leisurely 10-day trip, ostensibly to deliver a speech at the UN General Assembly, the sort of rhetoric you can hear every hour at Hyde Park Corner.
I hope the IMF Managing Director raised these issues as part of the conversation around Pakistan’s reforms and fiscal discipline.
I’m not an economist, but I’d wager that between the cost of these two trips, the uncle’s and the niece’s, Pakistan could probably have waived the petroleum levy (which gives tells people is IMF mandated) on fuel for at least a week.
Just a thought for @KGeorgieva and @IMFNews.
صابر کی کہانی میں کہیں بھی سرکار کی سرپرستی ، سرکاری سہولیات ، کوئی ہیلتھ کئیر ، کوئی چائلڈ کئیر ، حتی کی سکول میں تعصب سے پاک ماحول، معاشرے کی نظر میں برابری کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی خط غربت سے نئچے ہے۔ کوئی ایک آدھ صابر نکل آتا ہے۔ باقی سارے وہیں اسی گھن چکر میں گل سڑ رہے ہیں۔ https://t.co/T9dWfQQuM1
میں ہر ماں کے آگے ترلہ کروں گا، میں منتیں کروں گا عمران خان کو بچاؤ، ان ظالموں سے بچاؤ!!!
ایک نوجوان کا پنجابی زبان میں عمران خان کے لئے شدید محبت کا اظہارـ
یہی جذبہ پاکستان کی اکثریت میں پایا جاتا ہےـ
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
اور پاکستان میں تیرے جیسے حرامزادے مزہب کے دلے پیدا ہوگئے جنہوں نے فرقہ واریت کی آگ میں ملک کو جھونک دیا۔
ایران 50 سال سے معاشی پابندیاں بھگت رہا ہے اسرائیل سے مقابلہ کررہا ہے
اور جن ملکوں کے تم نام لے رہے وہ سب اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں۔
حرامزادہ
Power US اسرائیل سے منسلک کمپنی ہے، جس کا بانی آج جی ایچ کیو میں موجود تھا۔ ہم ان سے ڈرون خریدیں گے۔ میرا سر اُن ہزاروں فلسطینیوں کے سامنے شرم سے جھکا ہوا ہے جو آج بھی ہماری طرف امید سے دیکھتے ہیں، اور ان لاکھوں معصوم بچوں کے سامنے جو انہی ڈرونز کی زد میں آ کر شہید ہوئے، جن کی لاشیں آج بھی ملبے تلے دفن ہیں۔
قائد اعظم نے اسرائیل کو ایک Bastard State قرار دیا تھا۔ اسی فوج نے بعد میں انہیں اغوا کیا، یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
فلسطینی عوام اور آزاد فلسطین کی جدوجہد کے لیے میرے پاس آپ کو سرزنش کرنے کے لیے الفاظ نہیں، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی پاکستانی اس فوج کے ساتھ کھڑا نہیں۔ یہ ایک ایسا عسکری ادارہ ہے جو پاکستانیوں کا استحصال، ان پر ظلم، جبر اور انہیں محکوم بنانے پر قائم ہے، اور جن پاکستانیوں کے ساتھ وہ یہ سب کرتے ہیں، انہی کے خلاف ان کے اندر ایک نسل کش ذہنیت پائی جاتی ہے۔