It was inevitable, despite my all optimism and positive wishes.
I see lots of blood in the streets of Rawlakot, sadly.
And not for any greater cause.
Another sad day for Kashmiris, a new addition to an ever extending catalogue.
جسطرح مظفرآبادی آج سوچتے پائے گئے کہ نیلم جہلم سرنگ کے وقت، وہ خاموش کیوں رہئے۔
اسی طرح آج سے 10 سال وہ یہ سوچتے پائے جائیں گے
کہ حبیب میر کا بیٹا، انکا نمائندہ بننے میں کیسے کامیاب ھوا یا بنا دیا گیا؟
تاریخ ایسے فیصلے، سیاہ کالک سے لکھتی ھے
اور کشمیری اس کالک سے بخوبی واقف
حالات کٹھن ھیں
لیکن کشمیری اتنے بودے نہیں کہ کسی شوکت میر/امان خان کے پیچھے آگ میں کود جائیں۔
حق استصواب کشمیریوں کا بنیادی حق ھے
گزشتہ 3 سال سے کوہالہ پار کے علماء سے التماس کر رہا ھوں
یہ ھمارا داخلی مسئلہ ھے جو ھمارا ہی چہرے پر کالک ملے جا رہا ھے
آپ اس کالک میں کیوں کودنا چاہتے
ہم اتنی دیر سے نعرے مارتے آ رہے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان، اب وقت آ گیا ہے کہ اسے پاکستان کا حصہ بنا دیں کشمیریوں کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے گلگت بلتستان کو بھی پاکستان میں شامل کریں، متنازعہ علاقہ، متنازعہ علاقہ والے راگ الاپنا چھوڑیں، یہ تب کی باتیں تھیں جب بھارت نے آرٹیکل ۳۷۰ ختم نہیں کیا تھا
جے ھویا، ایوئیں ھونا سی
تے ہونی، ہونیو رکدی نئی
اک واری شروع ھو جاوئے
تے گل فئیر ایوئیں مکدی نئی
انقلاب 8 مزید جانیں لے گیا
اور مورخ ھمیں بتائے گا
یہ سب کشمیر کی خاطر شہید ھوئے۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون
جے ھویا، ایوئیں ھونا سی
تے ہونی، ہونیو رکدی نئی
اک واری شروع ھو جاوئے
تے گل فئیر ایوئیں مکدی نئی
انقلاب 8 مزید جانیں لے گیا
اور مورخ ھمیں بتائے گا
یہ سب کشمیر کی خاطر شہید ھوئے۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون
Despite my repeated appeals for peace, calm and negotiations, we’re getting reports of armed attacks on security forces resulting in loss of multiple lives. How difficult was it to understand that violence will only make things worse? How can anyone think that a call to arms is a good idea when even the Chief Executive of the State is pleading for talk? Unbelievably insane.
سب سے تکلیف دہ بات اور ناقابل معافی جرم یہ ھوا
کہ کشمیریوں کو بھکاری اور بلیک میلر بنا دیا گیا۔
یہ سیاہی،میرے یا کسی اور کی بحث یا دلیل سے ختم نہیں ھو سکتی۔
مظفرآباد کی بیٹھکوں میں جو گفتگو چارٹر آف ڈیمانڈ کے بارے میں ھو رہی ھے
وہ زنجیر زنی کے مترادف ھے
مگر جو ھونا تھا،ھو چکا
آپکی رجذبات قابل قدر ھیں۔
مگر بریڈ فورڈ اور لوٹن میں بیٹھا شخص یہ بات نہیں سمجھتا۔
جن لوگوں کی نظر میں 3 روپے بجلی اور ڈڈیال کا پل،370 سے زیادہ مقدم ھے
ان سے بحث نہیں کی جا سکتی۔
آپ ہجوم کو آئین دوبارہ لکھنے کا اختیار بھی دے دیں
تو شوکی سڑک پر ہی ھوگا،جبکہ اسکی افادیت ختم ھو چکی
آپکی رجذبات قابل قدر ھیں۔
مگر بریڈ فورڈ اور لوٹن میں بیٹھا شخص یہ بات نہیں سمجھتا۔
جن لوگوں کی نظر میں 3 روپے بجلی اور ڈڈیال کا پل،370 سے زیادہ مقدم ھے
ان سے بحث نہیں کی جا سکتی۔
آپ ہجوم کو آئین دوبارہ لکھنے کا اختیار بھی دے دیں
تو شوکی سڑک پر ہی ھوگا،جبکہ اسکی افادیت ختم ھو چکی
@drque71 مقبوضہ کشمیر کا مہاجر صرف ووٹ کی پرچی نہیں بلکہ اپنی ہجرت سے جنم لینے والے معاشی، جذباتی اور سماجی خسارے کی تلافی کا منتظر ہے۔ اس نے الحاق پاکستان کے لیے جو قربانی دی یے اس کا دہرا نقصان پار اس کے گھر خاندان والے بھگت رہے ہیں جبکہ وہ یہاں دربدر ہے۔
In continuation of series of intelligence based operations, Security Forces engaged multiple Khwarijs’ locations in general area Miran Shah, North Waziristan District.
Following intense fierce exchanges of fire, in last seventy two hours, twenty seven khwarij belonging to Indian-sponsored Fitna-al-Khwarij have been sent to hell.
Weapons and ammunition have also been recovered from killed Indian sponsored Khwarij, who remained actively involved in numerous terrorist activities and target killing of innocent civilians. By neutralising this group of killed Khwarij the heinous act of target killing of prominent figure Shaheed Malik Saifullah Dawar in Miranshah has been avenged and perpetrators have been brought to justice.
Sanitization operations continue to eliminate holed up khwarij from these areas, as relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out the menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
@drque71 مقامی نوعیت کے جو مطالبات ہیں وہ مظفرآباد حکومتوں کی نااہلیوں اور منظم کرپشن کا کیا دھرا ہے۔ مظفرآباد اسمبلی میں کوئی پنجابی نہیں بیٹھا سب کے سب مقامی ہیں۔
قانون اور آئین سے چشم پوشی
آپکو ایسی رائے قائم کرنے پر مجبور کرتی ھے
تاریخ ، اگر واٹس ایپ یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی
تو پاکستان اس پر ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ھوتا۔
حیف ایسا ھو نہیں سکتا
سینٹورس مال کے مالک بھی کشمیری سردار الیاس ہیں۔
کیا پاکستانی شہری میرپور میں شاپنگ مال بنا سکتے ہیں؟
پاکستانیوں کو آزاد جموں و کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں ہے۔
لیکن بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی اسلام آباد، پنڈی، گوجر خان، جہلم، راجہ بازار پنڈی میں جائیدادیں ہیں۔
کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟
لیکن بیرون ملک مقیم میرپوری کہتے ہیں کہ آساں کشمیری آن
پاکستانی نہیں
میرے خیال میں تو آپ کی عدالت میں پیش ھو کر بیان ریکارڈ کروایا جائے
تو ہی یہ مسئلہ حل تصور ھوگا۔
وگرنہ ابہام و قانونی موشگافیوں کا احتمال رہئے گا۔
حکومت پنجاب کو چاہئیے، آپکی جناب میں بچی کو پیش کریں
اور آپ سے التماس ھے، اپنی گوں نہ گوں مصروفیات میں سے کچھ وقت تصرف کریں
جزاک اللہ
وزیر اعلی شکایت سیل کا بہت شکریہ۔۔۔۔ بطور انسان ہماری آخری گزارش ہے کہ اس طالبہ کو ملتان کی عدالت میں منتقل کیا جائے اور آزادانہ ماحول میں اس طالبہ کا بیان مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کرایا جائے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے وزیر اعلی سے یہ بھی درخواست ہے کہ اس طالبہ کا Ossifossification Test بھی کرایا جائے تاکہ مزید تسلی اور تصدیق ہو سکے کہ طالبہ کی عمر واقعی 18 برس ہے۔
چونکہ ہمارے معاشرے میں بچیوں اور خواتین کے مسائل ایسے ایسے سنگین ہیں کہ بچیوں اور خواتین کی زندگیاں دائو پر لگی ہوتی ہیں، اس لئے قانون اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر احتیاطی تدبیر کرنی چاہیئے۔
اگر طالبہ قانونی تقاضے پوری کرتی ہے تو پھر وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے میں آزاد ہے، ورنہ قانون کا راستہ اختیار ہونا چاہیئے
@MaryamNSharif@CMComplaintCell
ذاتی تجربات اور مقامی سیاست و سماجی ہئیت کی سمجھ بوجھ بہت ضروری ھے
ان مسائل پر تبصرہ کرنے کے لئیے
سوشل میڈیا پر کسی وڈیو کلپ کو سیاق و سباق کے بغیر دیکھ کر اس پر رائے زنی آسان اور خطرناک رجحان ھے
میری بار بار تمام اصحاب سے گزارش ھے
یہ ھمارے داخلی مسائل ھیں، جنہیں کچھ ناعاقبت اندیش، غلط رنگ دے کر اپنے مشہوری کر رہئے ھیں۔
آپ اصحاب ان مسائل پر رائے زنی سے پرہیز کریں
اس ہیجان کی اتنی ہی عمر اور حیثیت ھے جتنی کراچی میں برسات کی۔
پاکستان میں اتنے کشمیری ہیں کہ کبھی گمان ہی نہیں گزرا کہ یہ کوئی غیر ہیں اور اور انہیں بھی پاکستانیت اپنے کشمیری ہونے سے زیادہ عزیز ہے اب جبکہ نفرت کے بیوپاری میدان میں نکلے ہیں تو ایسے لگتا ہے گویا ہم کوئی دو الگ قومیں ہیں کشمیریوں کو دوہرے فائدے ہیں بحیثیت کشمیری وہ آزاد کشمیر میں جائیداد رکھ سکتے ہیں کاروبار کر سکتے ہیں نوکری کر سکتے ہیں ووٹ دے سکتے ہیں اور یہ سب کام وہ پاکستان میں بھی کر سکتے ہیں لیکن پاکستانیوں کو اسطرح کشمیر میں کوئی حقوق حاصل نہیں لیکن پھر بھی مصائب ایسے بیان ہوتے ہیں گویا کوئی قیامت آئی ہے