سلمان راجہ نے گزشتہ روز اجلاس میں بھی یہی کہا تھا کہ جو ممبران اسمبلی یا ٹکٹ ہولڈر پرفارمنس نہیں دے رہے ان کے خلاف پارٹی ایکشن لے گی، شاہد خٹک
بلکل ایکشن لینا ضروری ہے
🚨پاکستان کی تاریخ میں اور دنیا کی Known سیاسی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی سویلین ایگزیکٹیو رہنے والے شخص کو اتنے مقدمات میں گھیر لیا گیا ہے کہ یہ سرکار خود نہیں جاتی کہ عمران خان پر کتنے مقدمات ہیں یہ نظام نا فیل ہوا ہے نا گرا ہے یہ نظام کریش کر گیا ہے ۔
ڈاکٹر بابر اعوان
عمران خان اور بشری بی بی کی آئسولیشن اور صحت کے متعلق ہائی کورٹ میں دستاویزات جمع کروانے کے بعد اب چیف جسٹس کے سیکرٹری کے پاس پہنچے ہیں کہ توشہ خانہ کیس کو لگایا جاۓ اور اس کے بعد آئینی کورٹ میں جائیں گے کہ ضمانت کی درخواست لگائی جاۓ .
حیدر کے ساتھ ہائیکورٹ گی تھی وہاں کوئی بھی نہیں تھا شاہد پریس کانفرنس کےلیے چلے گے ہو میری طبیعت کچھ خراب ھے اب میں گھر پر ہوں اور حیدر کے والد کو ساتھ بھیجا ھے کیسے بتاے کے ہم گراؤنڈ ورکرز پر زمین کتنی تنگ کی جارہی ھے اللہ تعالیٰ اپنے حفظ وامان میں رکھے خان صاحب کے چاپنے والوں کو اللہ حیدر کو بھی اپنے حفظ وامان میں رکھے عمران خان کو زندگی صحت وتندرستی دے اور حفاظت کرے
1100 days of targeting opponents politically still couldn’t quiet a nation demanding justice.
Nation demands Release Imran khan.
#ImranKhanHealthMatters .
شاید میں وہ آخری پیڑھی ہوں… 💔
شاید میں وہ آخری پیڑھی ہوں جس کے سر سے دوپٹہ بے خیالی میں اتر بھی جائے تو گھر کے کسی بزرگ پر نظر پڑتے ہی ہاتھ بے اختیار سر کی طرف جاتا تھا…
کسی نے کہا نہیں ہوتا تھا،
بس دل خود کہتا تھا:
"بڑے سامنے ہیں… دوپٹہ درست کر لو۔"
بزرگوں کو آتا دیکھ کر بے اختیار کھڑے ہو جانا،
اپنی کرسی چھوڑ دینا،
ان کے بیٹھنے کے بعد خود بیٹھنا…
اور جب کوئی بڑا اٹھ کر جانے لگے تو خاموشی سے اس کے جوتے سیدھے کر دینا۔
ہم نے یہ سب کسی کتاب سے نہیں سیکھا تھا،
یہ تو ہمارے گھروں کی فضا میں گھلا ہوا ادب تھا۔
ہم وہ لوگ تھے جنہیں ماں باپ کے سامنے اونچی آواز میں بولنا تو دور،
اونچی آواز میں سانس لینا بھی گستاخی محسوس ہوتا تھا۔
دل میں کتنی ہی بات ہو،
اختلاف کتنا ہی شدید ہو،
زبان پر ایک ہی پہرہ رہتا تھا:
"یہ میرے ماں باپ ہیں… لہجہ سنبھال کر۔"
ہم ناراض بھی ہوتے تھے تو خاموش ہو جاتے تھے،
دکھی بھی ہوتے تھے تو کمرے میں جا کر رو لیتے تھے،
مگر والدین کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی انا کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔
کیونکہ ہمیں معلوم تھا…
والدین سے بحث جیت کر بھی انسان اپنی زندگی کی سب سے بڑی دولت ہار سکتا ہے۔
ہم نے بزرگوں کو بوجھ نہیں سمجھا،
ان کی باتوں کو پرانی سوچ کہہ کر رد نہیں کیا،
اور ان کی موجودگی کو اپنی آزادی کے لیے رکاوٹ نہیں سمجھا۔
ہمیں تو یہ سکھایا گیا تھا کہ
گھر میں بزرگ ہوں تو برکت ہے،
ان کی آواز ہو تو گھر آباد ہے،
اور ان کی دعائیں ہوں تو زندگی میں راستے خود بنتے ہیں۔
پھر وقت بدل گیا…
اور شاید ہم بھی بدل گئے۔
اب بزرگ بات کریں تو موبائل کی اسکرین زیادہ اہم ہے،
وہ کچھ سمجھائیں تو اسے "پرانے زمانے کی سوچ" کہہ دیا جاتا ہے،
اور کبھی وہ اپنی ہی اولاد کے گھر میں
اپنی بات کہنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ:
"کہیں بچے برا نہ مان جائیں…"
کتنا عجیب وقت آ گیا ہے…
جن ہاتھوں نے ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا،
آج وہی ہاتھ کسی کے سہارے کے منتظر ہیں۔
جن آنکھوں نے ہماری ہر شرارت میں محبت دیکھی،
آج وہی آنکھیں دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہیں…
کہ شاید بیٹا آئے گا،
شاید بیٹی بیٹھے گی،
شاید کوئی دو گھڑی پاس بیٹھ کر پوچھ لے گا:
"ابو… طبیعت کیسی ہے؟"
"امی… آج آپ نے دوا لی؟"
اور پھر ایک دن…
وہ کرسی خالی رہ جاتی ہے۔
وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔
وہ ہاتھ، جنہیں چھو کر کبھی دعا ملتی تھی،
مٹی کے نیچے چلے جاتے ہیں۔
تب انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں…
اور ایک ایسا سوال
جس کا جواب قبرستان کی خاموشی بھی نہیں دیتی:
"کاش… ایک بار اور ان کے جوتے سیدھے کر دیتا۔"
کاش ایک بار اور ان کے سامنے کھڑا ہو جاتا۔
کاش آخری مرتبہ وہ آواز سن کر موبائل ایک طرف رکھ دیتا۔
مگر زندگی "کاش" سے واپس نہیں آتی…
اس لیے اگر آج بھی آپ کے گھر میں کوئی بزرگ زندہ ہے،
تو خدارا اسے صرف عمر رسیدہ انسان نہ سمجھیں۔
وہ آپ کے ماضی کی وہ زندہ دعا ہے
جس کے سائے میں آپ بڑے ہوئے ہیں۔
ان کے سامنے اپنی آواز پست رکھیں،
اپنا لہجہ نرم رکھیں،
ان کے پاس کچھ دیر بیٹھ جائیں…
کیونکہ ایک دن…
گھر وہی ہوگا،
کرسی وہی ہوگی،
دروازہ وہی ہوگا،
مگر وہ بزرگ وہاں نہیں ہوں گے۔
اور تب آپ کو شدت سے احساس ہوگا کہ
ہم واقعی شاید وہ آخری پیڑھی تھے…
جس نے بڑوں کا ادب صرف کیا نہیں تھا،
محسوس بھی کیا تھا۔ 💔
کیا @OfficialDGISPR انجینیر صاحب کے پاس اسکا کوئی جواب ہے؟
یہ معاملہ تو مداخلت سے آگے کا ہے🚨
ایک گریڈ ۱۹/۲۰ کا سرکاری ملازم کیسے صوبے کے منتخب وزیراعلی کو ایسے دھمکی لگا سکتا ہے؟
کیا یہ آئین کے حلف کی خلاف ورزی نہیں؟؟؟
کیا اس بریگیڈیئر کا کورٹ مارشل نہیں ہونا چائیے؟؟؟
جواب ضرور دیجیے گا DG صاحب
ناتمام
ہارون الرشید
عمران خاں کی تگ و تاز
مدو جزر بہت ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل کیا لائے گا۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے،، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کےلئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
چالیس برس ہوتے ہیں۔لاہور کے پنج ستارہ ہوٹل میں پہلی بار اسے دیکھا۔ ہوٹل کے مسقف صحن میں ایک کھلاڑی سے گپ شپ جاری تھی۔ ماحول گرم گفتاری سے لبریز تھا کہ اچانک خاموشی چھا گئی۔ تجسس اور اشتیاق سے سب انکھیں ایک جانب مڑ گئیں ۔
یہ عمران خان تھے۔ ہمیشہ کی طرح شاہانہ بے نیازی سے چلتےہوئے۔ چائے کی دعوت دیتے والے دوستوں سے معذرت کرتے بڑے دروازے کی طرف لپکے۔ زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہا اور اشارہ کیا" ورزش کے لئے جاتا ہوں "
لاہور میں پاک بھارت میچ برپا تھے ۔شہر جوش وخروش سے بھرا ہوا۔ پاکسان غالب تھا اور اہل لاہور اپنے ہیروز پہ نچھاور ہوئے جاتے تھے۔مرحوم کالم نگار عبدالقادر حسن نے جو ان دنوں بہت مقبول تھے، خان کے بارے میں لکھا: "یونانی دیوتاؤں جیسا جسم اور تیور" ۔
کچھ دن بیت گئے۔حفیظ اللہ خاں سے گاہے بہ گاہے ملاقات ہونے لگی۔ وہ خان کے بارے میں عجیب و غریب واقعات سناتے، ناقابل یقین ۔ کسی فاتح کی نہیں، ان واقعات سے ایک درویش کی سی تصویر بنتی اور یہ ناقبل فہم نہ تھا۔مثلآ شادی کے دن کسی دوست کی شیروانی پہن لی ۔اس تقریب کے لئے ہنری کسنجر سمیت ا مغرب کی ممتاز شخصیات جس میں شریک تھیں۔ دلہن کی والدہ کا تعلق برطانوی تاریخ کے ایک اساطیری کردار، صلاح الدین ایوبی کے حریف The lion heart سے تھا ۔ اس کے کھرب پتی والد گولڈ سمتھ دنیا کے ممتاز سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرح اخبارات اور جرائد میں جگمگاتے۔
وہ ایک کرشماتی کھلاڑی تو تھا مگر ہیرو؟ کرکٹ سے دل چسپی بھی اس سے زیادہ کبھی نہ تھی کہ بھارت سے پاکستان جیت جائے۔ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔
خان سے ملاقات کرکٹ سے دستبرداری کے چار برس بعد ہوئی۔ لٹیرے سیاست دانوں سے نجات کے لئے خلق خدا اس کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ اس مکروہ مخلوق سے اکتائے ہوئے ہم بھی تھے۔
خبر سننے میں آتی رہی ۔ تفصیل ایک دن جنرل حمید گل مرحوم نے بیان کی۔ان دنوں مسلسل جن سے ملاقات رہا کرتی۔ اپنے ہاتھوں سے تراشے گئے فریب کار نواز شریف سے بیزار وہ خاں صاحب کو سیاست میں لانے کے لئے بے تاب تھے۔مدید تکبیر محمد صلاح الدین مرحوم اور عبدالستاد ایدھی کی مدد سے ۔منصوبہ یہ تھا کہ لاہور کے موچی دروازے میں ایک عظیم عوامی اجتماع ہو۔ پہلے سے تحریک چلائی جائے۔اس اجتماع میں خلق خدا امڈ آئےتو ہجوم کا رخ زماں پارک کی طرف موڑ دیا جائے۔ خان سیاست میں کود پڑنےکا اعلان کر دے۔ نئے امکانات کا در کھلے۔
" ملک کو تباہی سے بچانے کا یہ بہترین نسخہ ہے" جنرل نے کہا ، آئی ایس آئی کی سربراہی کے دور سے جو سیاسی جوڑ توڑ کے چسکے کا عادی ہو چکا تھا"
مگر وہ مانتا نہیں" جنرل نے کہا۔
کیوں نہیں مانتا؟ اس کے خیال میں سیاست آدمی کا دامن آلودہ کرتی ہے۔
" قائد اعظم نے سیاست سے عزت پائی اور تاریخ کی لوح پر دائم دمکتےرہیں گے۔ ابرہام لنکن سیاست دان تھا۔ اخلاقی عظمت کا لہکتا ہوا استعارہ کہ امریکی تاریخ میں کوئی اس کا ہم سر نہیں"فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے : بنی اسرائیل کے انبیا سیاست کیا کرتے تھے۔
" یہ کڑے دلائل ہیں ۔ اس سے ملو اور اسے قائل کرنے کی کوشش کرو" جنرل نے کہا۔"ایاز قدر خود بشناس" میں نے سوچا " میں کیا اور میری بساط کیا" تاہم ان کے اصرار
پہ وعدہ کرلیا۔ دل چسپ یہ کہ اس اثنا میں خان نے جنرل کو تیاگ دیا اور پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔ لاہور گیا۔تجاویز مرتب کیں کہ نئی پارٹی کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ حفیظ اللہ خاں کی عنایت سے علیحدگی میں خان سے کا ملا۔ خوش دلی سے اس نے خیر مقدم کیا
یہ ایک رفاقت کا آغاز تھا رفتہ رفتہ جو بے تکلفی میں بدل گئی۔نشیب سرفراز سے گزری کہ ہمیشہ اتفاق رائے ممکن نہ تھا۔
اخبار نویسوں میں حاسدتھےاور اس کی پارٹی کے لیڈروں میں بھی۔ وہ خان کو بدظن کرنے کی کوشش میں لگے رہتے۔ حسد ایک مستقل ذہنی بیماری ہے۔ کم لوگ اس سے بچتے ہیں۔
کھلاڑی، Philanthropist اور سیاست کار پہ ارادہ تو کتاب لکھنےکا تھا ۔ اس کی علالت کی خبر سن کر جی بے تاب ہوا ہے کہ یہ داستان ابھی دہرا دی جائے۔ اس آدمی کی کہانی جو طوفانوں میں رسان سے لنگر انداز ہوتا ہے۔
جسے قتل کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔کوئی نہیں جانتا کہ آنے والے والا کل اس کے لئے ، اس کے وطن کے لئے کیا لائے گا ۔عمر بھر جو طوفانوں سے کھیلتا رہا۔ ترک امید البحر خیر الدین باربروسا کی طرح جو سمندر کو جھیل بنا دیتا تھا۔
مدو جزر بہت ہے۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کے لئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
آج عمران خان کے حوالے سے اہم دن ہے
آج جج صاحب فیصلہ سنا سکتے ہیں۔
میں نے گڑگڑا کر پارلیمنٹیرینز سے التجاء کی تھی کہ آپ نے ہائیکورٹ کے باہر پہنچنا ہے کہاں ہیں یہ لوگ؟
جس عمران خان نے پاکستان کو تین کینسر ہسپتال دیے صحت کارڈ دیا دو یونیورسٹیاں بنائیں پاکستان کےلیے ورلڈکپ لیکر ایا جس نے پوری دنیا میں پاکستان کا اسلام کا نام روشن کیا اج وہ ہی عمران خان اپنے ہی لوگوں کے عتاب کا نشانہ بنا قوم سوال کرتی ھے ہمیں جرم بتایا جاے کے اخر عمران خان نے ایسا کونسا جرم کیا ھے کے اس کی زندگی کو تم روز ختم کرنے کی کوشش کررہے ہو ہم کمزور ضرور ھے مگر ہم سوال کرتے رہے گے اور یہ سوال اپنی نسلوں تک پہنچا کر جاے گے ءہ سوال اب ہماری وصیت میں شامل ہوگا کے اخر عمران خان کا قصور کیا تھا
بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند، حلالی ماں کا حلالی بیٹا، جسٹس انوارالحق پنوں چھا گیا۔ شہباز گل نے اپنے ویلاگ میں مکمل کلپ چلا دی۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کچھ پلے نہ چھوڑا، پچھلے اگلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ آج تک آپ نے اپنی پوری زندگی میں کسی جج کی ایسی دبنگ، باکمال، حق پر مبنی گفتگو نہیں سنی ہوگی۔ ایک ایک الفاظ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ شروع سے لے کر اینڈ تک سننا، مس مت کرنا 🔥🔥
ہم جھوٹے ہیں، ہم دغاباز ہیں، ہماری ویلیو سسٹم اپنی زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکا ہے۔ اس لیے اس سے کسی قسم کی توقع فوری طور پر کئی نئے صوبے بنا لیں، لوکل گورنمنٹ لے آئیں، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ مجھے ان دو تین ٹرمز سے بڑی حیرت ہوتی ہے، فلاں حکمران خاندان ڈیموکریسی میں بھی کبھی یہ تصور ہوتا ہے کہ جی فلاں حکمران خاندان، فلاں مقتدرہ۔ کیا ڈیموکریسی میں بھی کسی اسٹیبلشمنٹ کو مقتدرہ کہا جاتا ہے؟ تو جب تک یہ لوگ اپنے اپنے آربٹ (مدار) میں نہیں جاتے، اور یہ اب نہیں جائیں گے، اس لیے کہ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں، ان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے انڈیا والوں نے تو خود کو کاک روچ سے آئڈینٹیفائی کیا، ایک سمبولیکلی (علامتی طور پر) کیا کہ ہماری حیثیت یہ ہے، مگر انہوں نے ایک ڈیموکریٹک سسٹم کے اندر ڈیمونسٹریشن کرنے کے بعد اپنی ایک بات کو منوایا۔ یہاں تو آزادی سے سوچنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ آپ کسی سے شیئر نہیں کر رہے، آپ کو سوچنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کو کسی سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے کی اجازت نہ ہو، جس ملک میں آزادی سے بات کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ ملک کسی قیمت پر ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ آفاقی اصول ہیں۔ آپ دنیا بھر کے جو ملک ہیں، جس جس ملک نے ترقی کی ہے، اگر انہوں نے کسی اصول پر، ادارے قائم کر کے ترقی کی ہے، تو ہمیں بھی اسی پر جانا پڑے گا۔ ہمارا کوئی علیحدہ سے خطہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کے کہنے پر یہ اسمبلیاں 15 دنوں میں، 5 دنوں میں اتنی بڑی امینڈمنٹس (ترامیم) ہوتی ہیں، کیا وزیر قانون کو بھی نہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیا امینڈمنٹ انٹروڈیوس ہو رہی ہے؟ کیا پاکستان کی عدلیہ جو ہے، اس کو اس حد تک سبجوگیٹ (ماتحت) ہونا چاہیے تھا؟ کیا پنجاب کے اندر ہر روز ہاف فرائی اور فل فرائی کی جو ٹرم چل رہی ہے، وہ ہزاروں لوگ قتل ہو گئے، یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے آپ بہت دیر وقت گزار لیں گے؟ ان کو سیکنڈ کون کر رہا ہے؟ اور اس کے بعد ایک ٹی وی پروگرام جو کل میں نے دیکھا، وہ ایک منصور علی خان کوئی جرنلسٹ ہیں، جس انداز میں انہوں نے بات کی ہے، فائلیں تیار ہو چکی ہیں، فلاں جو مسلم لیگ ن ہے اس کی جو لیڈرشپ ہے اس کو یہ کیا جائے گا۔ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ آپ کا اختیار ہے؟ یہ آپ کے کہنے پر صوبے بننے چاہئیں؟ یہ اس ملک کے جن کی زمین ہے، جن کا آسمان ہے، جن کی فضا ہے، یہ ان کے لیے، ان کے کہنے پر بننے چاہئیں۔ اس ملک کو تنخواہ دار طبقے نے لوٹا ہے۔ خود کو مالک سمجھ کر خواہ ججز ہوں، خواہ بیوروکریٹس ہوں، خواہ فوجی ہوں، انہوں نے تباہ کیا ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔
جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کی بہنیں یا علیمہ خان ملاقات سے پہلے تحریری ضمانت دیں کہ وہ باہر آکر کوئی بات نہیں کریں گی، تو سوال سیدھا ہے: آخر ایسی کیا بات ہے جسے چھپانے کے لیے یہ شرط لگائی جا رہی ہے؟
اگر جیل میں عمران خان کے ساتھ سب کچھ معمول کے مطابق ہو رہا ہے، ان کی صحت کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کے علاج میں کوئی غفلت نہیں برتی جا رہی، تو پھر ملاقات کے بعد ان کی بہنوں کو بولنے سے روکنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
یہ مطالبہ خود اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ عمران خان کی بگڑتی صحت، ممکنہ انفیکشن، مسلسل ہائی بلڈ پریشر یا جیل میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں کوئی ایسی حقیقت ہے جسے باہر آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی ان کی آنکھ کی تکلیف کی شکایات کو نظرانداز کیا گیا، کہ میرے بار بار بلانے پر بھی جیل کے حکام نے توجہ نہیں دی ۔
اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو خوف کس بات کا؟ اور اگر سب ٹھیک نہیں تو ملاقات کے بعد سچ بولنے پر پابندی کیوں
27 ستمبر عمران رہائی تحریک:
پورے پاکستان میں 12اگست بدھ کے دن سے سٹریٹ موومنٹ کا اغاز ضلع خیبر سے وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل افریدی شروع کریں گے. آپ سب کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ بمقام ڈی ٹور روڈ ۔
ایم این اے اقبال آفریدی
اندھوں بہروں کی نگری میں یوں کون توجہ کرتا ہے،
ماحول سنے گا دیکھے گا جس وقت بجیں گی زنجیریں،
جو زنجیروں سے باہر ہیں آزاد انہیں بھی مت سمجھو ،
جب ہاتھ کٹیں گے ظالم کے اس وقت کٹیں گی زنجیریں