دھشت گردوں کی مذمت سیاستدانوں سے کرائی جاتی ہے نہ کہ اُن مظلوموں سے جنہیں ریاستی اور غیر ریاستی دونوں عناصر سے خطرہ ہوتا ہے اور انہیں اُن علاقوں میں لوٹنا ہوتا ہے جہاں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر ملل کر انکی جان کے در پہ ہوتے ہیں،
جن صحافیوں کو ماہرنگ بلوچ کے جواب پر اعتراض ہے وہ خود بلوچستان جا کر ماہرنگ بلوچ کے علاقے میں رہ کر اُن بلوچ تنظیموں کی مذمت کر کے دکھائیں، بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ویسے۔
سیاستدانوں اور طاقت ور ریاستی اہلکاروں سے کبھی لاپتہ افراد کے بارے میں جو سوال کرنے کی ہمت نہیں رکھتے وہ ان مظلوموں پر اپنی صحافت کا رعب ڈال کر فخر کرتے ہیں۔
#GharidaMustApologise
"We want nothing from Pakistan, nothing at all, we need our loved ones back that are forcibly disappeared" words of a participant of #MarchAgainstBalochGenocide.
بلوچوں کو اپنی جبر سے دبانے والوں آنکھیں کھول کر دیکھ لیں اس وقت پورا بلوچستان اپنے گھروں سے نکل کر سراپا احتجاج ہے۔آپ اس عوامی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے جتنی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہے،یہ تحریک اتنی شدت سے ابھر رہی ہے۔ فتح عوامی طاقت کی ہوگی۔
#MarchAgainstBalochGenocide
If anyone knows such journalists in d world who are the voice of d subjugated nations,let them connect with us or inform them about this Long March.We will now fight against d state media blackout in different ways.We want support from across d world.
#MarchAgainstBalochGenocide