My father's only crime is that he is my father, and my crime is that I speak out against human rights violations: Dr. Sabeeha Baloch
#ReleaseBYCLeaders#BalochFightForHumanRights
مستونگ میں قابض فوج کی ڈرون حملے میں ایک سندھی کسان شہید ہوگیا۔
اطلاعات ک�� مطابق مستونگ میں قابض فوج کی جاری زمینی و فضائی آپریشن کے دوران ڈرون حملے میں ایک سندھی کسان شہید ہوگیا۔ یاد رہے گزشتہ دن خاران میں بھی قابض کی فضائی بمباری سے ایک کسان شہید ہوا تھا
#StopBalochGenocide
In the Surab area of Gadar Gondan, innocent children, women, and elderly were killed in an aerial attack. The official narrative has labeled it an anti-terrorism operation. But the question is: in the war against terrorism, do homes,
#StopBalochGenocide
تعلیم یافتہ بلوچ بھی جبری گمشدگیوں سے محفوظ نہیں۔ بلوچ طلباء اور نوجوانوں کی مسلسل جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ خلیل بلوچ کو فی الفور باحفاظت بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseKhalilBaloch#SaveBalochStudents
Follow Sangat @Zaamuraan1 , a dedicated political activist actively using social media to document and highlight human rights concerns, injustice, and the peaceful struggle of the Baloch people.
بلوچ نسل کشی پر خاموشی، سازش یا لاعلمی؟
سوراب، گدر میں عام آبادی پر پاکستانی جنگی طیاروں کی بمباری کو محض ایک حادثہ، غلطی یا معمول ک�� سکیورٹی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ واقعہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی پالیسی اور بڑھتے ہوئے تشدد کے ایک نہایت سنگین باب کے طور پر سامنے آیا ہے۔پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیاروں کی جانب سے ضلع سوراب کے گاؤں پر کی گئی بمباری میں معصوم شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اپنے ہی ملک کے شہریوں پر جنگی طیاروں سے اس نوعیت کی شدید بمباری محض ایک واقعہ نہیں؛ یہ اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر بلوچ آبادی کے خلاف طاقت کے استعمال کی یہ مسلسل اور منظم صورت اختیار کیوں کر چکی ہے۔
نسل کشی کا لفظ سنتے ہی بہت سے لوگ فلسطین کی تاریخ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، لیکن 1948 کے نسل کشی کنونشن نے اس جرم کی ایک جامع قانونی تعریف متعین کی ہے، جس کا اطلاق کسی مخصوص ملک یا خطے تک محدود نہیں۔ اس تعریف میں کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے قتل، شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانا، ایسے حالات مسلط کرنا جو کسی گروہ کی جسمانی تباہی کا باعث بنیں، یا بچوں کو زبردستی کسی دوسرے گروہ میں منتقل کرنا ��امل ہے۔ اس تعریف کا بنیادی اور فیصلہ کن عنصر نیت ہے، جو کسی ریاست کی پالیسی، اقدامات اور ان کے تسلسل سے بھی پرکھی جا سکتی ہے۔
بلوچستان کا المیہ اسی بنیادی سوال پر آ کر ٹھہرتا ہے۔برسوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی، سیاسی کارکنوں کو اٹھائے جانے، صحافیوں اور وکلا کو خاموش کرانے اور شہری آبادیوں پر طاقت کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ریاستی ادارے ان واقعات کو عموماً سکیورٹی کارروائیوں یا دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن جب ایک ہی قوم کے خلاف تشدد، جبری گمشدگی، خوف، اجتماعی سزا اور شہری آبادیوں کو نشا��ہ بنانے کے واقعات مسلسل اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیں تو ان کا مجموعی جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
سوراب، گدر کی حالیہ بمباری نے اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں گھروں پر بم برسائے گئے، لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے، بچے اپنی ماؤں کی آغوش میں تھے۔ اگر ریاست کا دعویٰ کسی مسلح گروہ کے خلاف کارروائی کا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا گیا؟ کسی پورے گاؤں یا آبادی کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ اور جنگی قوانین کی پاسداری سے متعلق سنگین سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
کوئی بھی بلوچ اس درد کو فراموش نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ گدر کی وہ رات، ان بچوں کی چیخیں، ماؤں کا درد اور ملبے میں تبدیل ہونے والے گھر بلوچ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس واقعے کو محض ایک خبر بن کر گزر جانے نہیں دینا چاہیے۔ اسے محفوظ کرنا، اس کے حقائق دنیا کے سامنے رکھنا اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ض��وری ہے۔جس قوم کی یادداشت زندہ رہتی ہے، اسے تاریخ سے مٹانا آسان نہیں ہوتا۔ گدر بھی اسی اجتماعی یادداشت کا حصہ رہے گا—ایک ایسی یاد جو ہر بلوچ کو یہ سوال کرنے پر مجبور کرے گی کہ شہریوں کے خون کی قیمت آخر کب تک خاموشی میں ادا کی جاتی رہے گی؟
یہ المیہ کسی قدرتی آفت کی طرح آسمان سے نہیں اترا۔ اس کے ذمہ داروں، فیصلوں اور احکامات کا تعین ہونا چاہیے۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے ایسے واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ خاموشی، دوہرے معیار اور محض سفارتی مفادات پر مبنی رویے اس المیے کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ اگر دنیا واقعی نسل کشی کی روک تھام کے اصول پر یقین رکھتی ہے تو اس اصول کا اطلاق جغرافیہ، مفاد اور طاقت کی بنیاد پر مختلف نہیں ہونا چاہیے۔بمباری کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات نے بھی کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے واقعات میں متضاد سرکاری بیانیوں کے بجائے شفاف تحقیقات، حقائق کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کو جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ محض بیانیہ سازی شاید طاقت کے ایوانوں کو مطمئن کر دے، لیکن بلوچ عوام کے سامنے ریاست کی اخلاقی اور سیاسی ساکھ کو مزید کمزور کرتی ہے۔
سوراب، گدر کو خاموشی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں بہنے والا خون صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک سوال ہے—اور یہ سوال صرف بلوچ قوم سے نہیں، پوری دنیا سے ہے:بلوچ نسل کشی پر خاموشی آخر لاعلمی ہے، سازش ہے یا دانستہ چشم پوشی؟
بیبرگ بلوچ
ہَدّہ جیل، کوئٹہ
13 اگست 2026
آٹھویں گولی
ساتویں گولی لگنے تک میرے لختِ جگر کے بدن میں جاں تھی، آٹھویں گولی سر پر لگی اور پھر اس کی ماں مرگئی۔
بلوچ روایات میں بیٹے کے موت ��و مائیں اپنی موت کہہ کر بیان کرتی ہیں۔
13 اگست شہید حیات بلوچ کے شہادت کا دن
#13August
#HayatBaloch
#JusticeForHaya
ہمو جوژ ہلوکا چناء و لمہ غاتا نن توار جوڑ مرین,ریاست اوفتے بلوچ پن کرے خلک گڑا نن بلوچ مرین بش مرین اوفتا توار جوڑ مرین ریاست بلوچ پن ئن ہربشی ء و ریاست نا ہربشی مننگ نا کل ئن بھلا اشان دادے کہ او بلوچ نا چار سال والا چناء ئن ہم خلیس کیک
#SurabMassacre#StopBombingCivilian
The Eighth Bullet
Until the seventh bullet struck, my bare-livered body still had life in it; the eighth bullet hit my head, and then his mother died.
In Baloch traditions, mothers describe .
#13August#HayatBaloch#JusticeForHayat
In response to the bombing by Pakistan Air Force F-16 aircraft across the entire Pakistani Air Force, a shutter-down strike is taking place today, August 13, in Balochistan province. Businesses are closed
#BalochistanBleed#SurabMassacre
کیا میڈیا اس ریاستی بربریت کو دکھائے گی جس میں نہتے شہریوں کو فضائی حملہ میں نشانہ بنایا گیا ؟کیا وہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اس ظلم کی مذمت کریں گے جو ہر موقع پر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی سے مذمت کے مطالبے کرتے ہیں؟ریاستی قتل عام پر خاموشی ہی
Injured family members of those killed in Pakistan army bombing today in Gadar Gondan, Soorab, have placed the dead bodies of their loved ones at Soorab Main Chowk and are on a set-in protest. Even the injured children are there. Be their voice! Support them! #StopBalochGenocide
𝗠𝗔𝗡𝗗 𝗦𝗧𝗔𝗡𝗗𝗦 𝗙𝗜𝗥𝗠 — 𝗦𝗜𝗟𝗘𝗡𝗖𝗘 𝗜𝗦 𝗡𝗢𝗧 𝗔𝗡 𝗢𝗣𝗧𝗜𝗢𝗡
13 𝘼𝙪𝙜𝙪𝙨𝙩 2026 -𝙈𝙖𝙣𝙙, 𝙆𝙚𝙘𝙝, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Mand joined the shutter-down strike today in solidarity with the victims of the Surab bombardment and their grieving families.
The people of Balochistan live under a permanent atmosphere of terror. Every household knows the sound of aircraft overhead. Every family carries the name of someone who has disappeared, someone who has been killed, someone who never came home. This is not simply a conflict; it is the systematic destruction of a people. It is genocide carried out in plain sight and met with international silence.
The people of Balochistan demand an independent international investigation into the Surab massacre, an immediate end to the bombing of Baloch civilian areas, and accountability for every commander and official responsible for ordering or carrying out these attacks.
Balochistan is bleeding. The world must stop looking away.
#SurabMassacre
#StopBombingCivilians
Bombs may destroy homes but the deepest wound is the suffering left in innocent hearts. We strongly condemn this violence against local people. No innocent life should ever be caught in the pain of conflict.
every innocent life matters...