"Bury me face down in my grave so that even after death I may continue to kiss the soil of my homeland. Place chains and locks upon my grave and keep them there until the people of Sindh, and Sindh itself, are free. That shall be my protest for Sindh."
— Atta Muhammad Bhanbhro
21st April,the day I lost my father.Its been 15 years,yet the pain is still same.Whenever this day comes,it takes me back to the moment when I heard the news of papa’s assassination.All those moments come in front of my eyes again,and the pain I feel cannot be expressed in words!
@MarioNawfal Israel and humanity seem to stand on opposite shores today.
Where compassion should speak, silence often answers.
And in that silence, humanity feels a little more distant.
@MarioNawfal Israel and humanity seem to stand on opposite shores today.
Where compassion should speak, silence often answers.
And in that silence, humanity feels a little more distant.
اس رہزن بوڑھے کو سزا دینے کا اختیار ہمیں عورتوں کو دیا جائے تاکہ ہم اس کا چہرہ سیاہ کر کے، جوتوں کا ہار پہنا کر، گدھے پر بٹھا کر پورے سندھ کے بازاروں میں گھمائیں ��ور اسے انجام تک پہنچائیں۔
ایک نہایت کم عمر لڑکی کو ’’غیرت‘‘ کے نام پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ آخر کب تک یہ ظلم چلتا رہے گا؟ پولیس، حکومت اور معاشرہ سب کو شرمندہ ہونا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ’’آنر کلنگ‘‘ کے خلاف آواز اٹھائیں۔
@HamidMirPAK@HRCP87#StopHonorKillings
ڳوٺ گڏ هو، پر انسانيت اڪيلي بيٺي هئي. بيڏوهي روبينا روئندي، دانهون ڪندي زندگي جي ڀيڪ گهرندي رهي، شايد هر سڏ سان هن کي جيئڻ جي آس هئي، پر جاهل وحشي ظالم کلندا رهيا، ماڻهو تماشائي بڻيل رهيا. اڄ به اهو منظر روح کي روئاري ٿو. 💔😭
#JusticeForRubinaChandio#Sindh
ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ حادی علی چٹھہ، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں۔ ان دونوں وکلانے گزشتہ کئی سالوں میں ہزاروں غریب، مظلوم اور لاچار لوگوں کے کیسز لڑے ہیں اور ان کے حقوق کی آواز بنے ہیں۔مگر گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصے سے انہیں ایک غیر قانونی پرچے میں گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں بند کر دیا گیا ہے۔ ان کے کیس کی باقاعدہ سماعت نہیں ہو رہی، کوئی پیشی نہیں ہوئی، اور عدالتی کارروائی مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان کے ساتھ فوری انصاف کیا جائے، ان کے کیسز کو جلد از جلد سنے اور قانونی عمل مکمل کیا جائے۔اس طرح کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے طور پر ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور قانون کے مطابق انہیں فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
روشن دین دیامری
@Rohshan_Din
ترجمان، ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان
@ShireenMazari1