ڈئیر NCCIA,
مجھے 03424614991 سے میرے نمبر پہ کال ریسیو ہوئی کہ آپکا پارسل آیا ہے اور آپکے نمبر پہ 6 digit نمبر وٹس ایپ پہ بھیجا ہے، تو وہ بتائیں. میں نے انکو نمبر نہیں بتایا لیکن یہ کوئی فراڈ کرنے والا گروہ ہے. انکو کیفر کردار تک پہنچائیں.
@NCCIAOFFICIAL
اکتوبر 2017 میں نیب نے کروڑوں روپے کرپشن کے کیس میں شرجیل میمن کو گرفتار کیا، 2018 میں انہوں نے طبیعت ناسازی کا بتایا تو صاحب کو کراچی کے ڈاکٹر ضیاءالدین ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور کمرے کو سب جیل قرار دے دیا گیا، اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ ان دنوں پاکستان میں سپر مین کی طرح اڑتے اڑتے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کراچی کے ایسے ہسپتالوں کے دورے پر پہنچ گئے جہاں ہائی پروفائل قیدی زیر علاج تھے، بڑے صاحب جیسے ہی شرجیل میمن کے کمرے میں داخل ہوئے، سامنے بوتلیں پڑی تھیں، ساتھ سگریٹ اور دیگر اشیاء بھی، شرجیل فورا بولے بوتلیں میری نہیں، ان کے جان محمد نامی ڈرائیور نے کہا کہ بوتلوں میں شہد اور زیتون کا کوکنگ آئل ہے، چیف نے فوری طور پر شرجیل میمن کو واپس جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا، بلڈ سیمپل لیے، کمرہ سیل اور شراب رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوگیا، سندھ کے چیف کیمیکل ایگزامینر ڈاکٹر زاہد حسن انصاری کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک بوتل میں شہد (میٹھا، گاڑھا براؤنش مائع) اور دوسری میں زیتون کا تیل یعنی کوکنگ آئل تھا اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے بھی کچھ ایسا ہی کہا، جس پر چیف جسٹس نے عدالت میں اس حد تک کہا کہ سیمپلز ہسپتال کے کمرے میں تبدیل کیے گئے، انہوں نے سندھ حکومت پر عدم تعاون کا الزام بھی لگایا، خیر مقدمہ کراچی کی عدالتوں میں چلتا رہا اور آج تقریبا 8 سال بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمان کو باعزت بری کر دیا، باقی یہ وکیل صاحبہ کی سن لیں فرماتی ہیں کہ میرے کلائنٹس کو اس کیس میں پھنسایا گیا تھا، یعنی وہ سابق چیف جسٹس پر بدنیتی کا الزام لگا رہی ہیں۔۔۔
اس ملک کی اشرافیہ کو بیان کرنے کو بس یہی مثال کافی ہے کہ بوریت دور کرنے کے لیئے آپس میں گزارے ہوئے کچھ وقت کے دوران ایک بہن اپنے حقیقی بھائی کو کہتی ہے کہ، "یار، تمہارا تو پپا سے بھی بڑا ہے" اور بھائی جواب دیتا ہے کہ، "ہاں، مما بھی یہی کہہ رہی تھیں" ۔