The Pakistani cleric given an award by the Archbishop of Canterbury has been accused of protecting a blasphemy “blackmail” gang, The Telegraph can reveal.
🔗:https://t.co/woHNXRq77D
(مولانا طاہر اشرفی پر ڈیلی ٹیلی گراف کی تہلکہ خیز تحقیق — تفصیلی رپورٹ کا اردو ترجمہ)
دی ٹیلی گراف
آرچ بشپ سے اعزاز پانے والے عالمِ دین کا پاکستان میں ’بھتہ خور گینگ‘ سے تعلق ہونے کا الزام
دی ٹیلی گراف کی تحقیقات کے مطابق طاہر اشرفی کے بھائی پر ایسے گروہ کی قیادت کا الزام ہے جس نے درجنوں افراد کو اغوا، تشدد اور بلیک میل کیا
میمفس بارکر، سینئر فارن کوریسپونڈنٹ
پاکستانی عالمِ دین، جنہیں آرچ بشپ آف کینٹربری نے اعزاز دیا تھا، پر توہینِ مذہب کے نام پر بلیک میل کرنے والے ایک گروہ کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، دی ٹیلی گراف کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے طاہر اشرفی کو ڈیم سارہ ملّالی نے 11 ستمبر کے حملوں کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں ان کی “مذہبی رواداری” کے لیے “غیر متزلزل عزم” کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا تھا۔
تاہم گزشتہ ہفتے “ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ” عجلت میں واپس لے لیا گیا، جب یہ سامنے آیا کہ برطانوی دہری شہریت رکھنے والے مسٹر اشرفی ماضی میں اسامہ بن لادن کو خراجِ تحسین پیش کر چکے تھے۔
اب دی ٹیلی گراف کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ:
• مسٹر اشرفی کے بھائی پر ایک ایسے “توہینِ مذہب گینگ” کی قیادت کا الزام ہے جو بدعنوان سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر درجنوں افراد کو اغوا، تشدد اور بلیک میل کرتا رہا ہے۔
• مسٹر اشرفی نے اپنے بھائی کا عوامی طور پر دفاع کیا اور متاثرین کے وکلا پر “توہینِ مذہب کرنے والوں کو تحفظ دینے” کا الزام لگایا۔ انہوں نے گینگ کی تحقیقات کرنے والے ایک جج کو “کتا” بھی کہا۔
• برطانوی شہریت حاصل ہونے کے باعث مسٹر اشرفی لندن آزادانہ طور پر آتے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان میں توہینِ مذہب کی سزا موت ہو سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض گروہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر “ہنی ٹریپ” کے ذریعے پھانس کر توہینِ مذہب کے زمرے میں آنے والا مواد شیئر کرواتے ہیں اور پھر ان سے رقم بٹورتے ہیں۔
دی ٹیلی گراف نے اس مبینہ پاکستانی توہینِ مذہب گینگ کا نشانہ بننے والے کئی افراد کے اہلِ خانہ سے گفتگو کی۔ ان تمام افراد نے پرتشدد انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ توہینِ مذہب کے الزام میں جیل جانے والوں کی تعداد میں بہت بڑے اضافے کے پیچھے یہی گینگ ہے۔ پاکستان کے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے مطابق 2020 اور 2021 میں ایسے تقریباً 10 مقدمات سالانہ ہوتے تھے، لیکن صرف 2023 میں یہ تعداد 200 سے تجاوز کر گئی۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ ان کے ایک رشتہ دار نے فیس بک کے ایک گروپ میں شمولیت اختیار کی اور وہاں ایک نوجوان خاتون سے تعلق قائم ہوا۔ اس خاتون نے بالآخر اسے ایک عورت کے سینے کی تصویر بھیجنے پر آمادہ کیا جس پر قرآن کی ایک آیت درج تھی۔
بعد ازاں اس شخص کو گینگ نے اغوا کر لیا اور اس سے دس لاکھ پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 2,700 پاؤنڈ، طلب کیے۔ اس کے بعد اس کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کرایا گیا جس کے نتیجے میں اسے جیل بھیج دیا گیا۔
جلاوطنی میں کام کرنے والے پاکستانی میڈیا ادارے “فیکٹ فوکس” کی تحقیقات کے مطابق، کم از کم چار متاثرین تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک شخص کو مبینہ طور پر لکڑی کے ڈنڈے سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک اور شخص کے جسم کے نچلے حصے، بالخصوص شرم گاہ کے اطراف، شدید زخم اور نیل پائے گئے۔ جیل میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ “پیشاب رک جانا” بتائی گئی۔
متاثرین کے اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ مسٹر اشرفی کو آرچ بشپ کی جانب سے اس قدر گرمجوشی سے خوش آمدید دیے جانے پر حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر اشرفی اور ان کے بھائی نے ان کی زندگیاں برباد کر دی ہیں۔
لیمبتھ پیلس کی تصاویر میں مسٹر اشرفی اپنی اہلیہ، جنہوں نے نقاب پہن رکھا ہے، اور ڈیم سارہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک ذریعے نے کہا: “ہم انہیں ایوارڈ ملتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔” ان کا کہنا تھا کہ مسٹر اشرفی نے “ہمیں ایسی کھائی میں دھکیل دیا ہے جس سے ہم نکل نہیں سکتے”، اور اپنے عزیز کو رہا کرانے کی کوشش میں پیش آنے والے خطرات، مشکلات اور مالی اخراجات کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا: “ہمارے پاس جو کچھ تھا، اس نے ہم سے لے لیا۔”
ذرائع کے مطابق، مسٹر اشرفی “اچھے پولیس والے” کا کردار ادا کرتے تھے، جبکہ ان کے بھائی حسین معاویہ اشرفی “برے پولیس والے” تھے جو لوگوں کو پھانستے اور سڑکوں سے اٹھواتے تھے۔
ایک ذریعے نے کہا: “معاویہ کے لیے یہ سب کچھ کرنا اسی صورت ممکن ہے جب اسے اپنے بھائی کی حمایت حاصل ہو، کیونکہ اس کے بھائی کے انٹیلی جنس اداروں، سیاست دانوں اور بیوروکریٹس سے روابط ہیں۔”
مسٹر اشرفی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یا ان کا بھائی کسی توہینِ مذہب گینگ کا حصہ ہیں، اور ناقدین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ انہوں نے کبھی کسی سے رقم وصول کی۔
پاکستان میں توہینِ مذہب کے ملزمان کا دفاع کرنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ 30 برسوں میں وکلا، ججوں اور سینیٹرز سمیت 100 سے زیادہ افراد مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔
مغرب میں مسٹر اشرفی کو پاکستان کی مسیحی اقلیت کے دوست اور سخت گیر مسلم گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں سے بات چیت کرنے کے قابل ایک شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ماضی میں ایک شیعہ مخالف شدت پسند گروہ سے وابستہ رہنے والے یہ عالمِ دین پاکستانی حکومت کی طرف سے اکثر نسبتاً ترقی پسند پیغامات بھی نشر کرتے رہے ہیں۔ وہ پولیو ویکسینیشن کی حمایت کر چکے ہیں، داعش کو “دہشت گرد تنظیم” قرار دے چکے ہیں اور اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کی حمایت بھی کر چکے ہیں۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے، جو مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے علما کی نمائندگی کرتی ہے، ان کے فتووں اور بیانات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
لیمبتھ پیلس نے اپنے اصل ایوارڈ اعلامیے میں 2012 میں 14 سالہ مسیحی لڑکی رمشا مسیح کے معاملے میں مسٹر اشرفی کی مداخلت کا بھی ذکر کیا تھا، جسے غلط طور پر توہینِ مذہب کا ملزم بنایا گیا تھا۔
اردو میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی واقعے کے بعد برطانیہ نے انہیں شہریت دی۔ دی ٹیلی گراف کو معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ مسٹر اشرفی کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ مسٹر اشرفی نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے شکایت کی کہ “پروپیگنڈے” کی وجہ سے ان کا ایوارڈ واپس لیا گیا۔
ایوارڈ واپس لیے جانے کے فیصلے کے ردعمل میں پاکستان علما کونسل نے کہا کہ بن لادن کے بارے میں مسٹر اشرفی کے بیانات کو “سیاق و سباق سے ہٹ کر” پیش کیا گیا۔ کونسل نے مزید کہا کہ عالمِ دین نے “پاکستان کے توہینِ مذہب قوانین کے غلط استعمال کی ہمیشہ مخالفت کی ہے”، بالخصوص “بے گناہ افراد” کے خلاف “جھوٹے الزامات” کی۔
چرچ آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر آزاد مارشل، جنہوں نے ابتدا میں مسٹر اشرفی کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا، نے کہا کہ مسٹر اشرفی نے “ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے سے پہلے متعدد افراد کو رہا کرانے میں اہم کردار ادا کیا”۔
تاہم مختلف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد ذرائع نے دی ٹیلی گراف سے گفتگو میں اس دعوے سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ آف پاکستان کے ریاست کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
جلاوطنی میں مسیحیوں کے خلاف ظلم و ستم کے معاملات پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکن سردار گل نے کہا: “وہ بہت کم مقدمات میں ملزمان کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں، اور صرف ان معاملات میں جو بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کر لیں۔” ان کے مطابق مسٹر اشرفی نے مسیحیوں کا دفاع صرف “بین الاقوامی دباؤ” کے باعث کیا۔
2022 میں امریکی محکمہ خارجہ نے بھی نوٹ کیا تھا کہ مسٹر اشرفی کے بھائی نے احمدی برادری کے کئی افراد کے خلاف توہینِ مذہب کی شکایات درج کرائی تھیں۔ احمدیوں کو پاکستان کے سخت گیر مذہبی حلقے مسلمان تسلیم نہیں کرتے۔
2020 میں مسٹر اشرفی نے سابق وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا تھا کہ انہوں نے احمدیوں کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم ایک سرکاری کمیشن سے خارج رکھا۔ سردار گل نے کہا: “وہ احمدیوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں۔”
It is good to finally see international media reporting on the Blasphemy Business Group and the support provided by Tahir Ashrafi to his brother, who is a key leader of the Blasphemy Business Group
These hypocrites oppose secularism in Pakistan, hold nationalities of secular countries as their safety net. It’s time the Pakistani people stopped buying their commodity: “religion”. Your children deserve better
https://t.co/Fxn9Z2eM0F
طاہر اشرفی جسے عرف عام میں شرابی ملا کہا جاتا ہے کیونکہ انھیں بلیک کیبل بہت پسند ہے۔
یہ برطانوی شہری ہے۔ اس کا پاسپورٹ ساتھ لگایا ہے۔
یہ پاکستان میں توہین مذہب کے دھندے کا سرغنہ ہے۔
Telegraph publishes a detailed story exposing Tahir Ashrafi ‘linkages’ to blasphemy extortion gang. A big expose of another stooge of current regime in Pakistan.
https://t.co/LHlb92iYF7
Finally @memphisbarker published the story that we all knew long time ago.
This is Tahir Ashrafi’s British passport that has since been renewed.
Tahir Ashrafi runs the blasphemy business since ages.
He is good cop his brother Hasan Muavia is the bad cop.
Yet they roam freely.
"The children will grow up".
This was also the argument that Nazi officials gave, during the Nuremberg Trials, to justify why they had killed children during the Holocaust.
⚠️Sensitive Content ⚠️
🚨BREAKING : The final moments of a child killed while trying to help an injured paramedic in Gaza.
In the first Israeli strike, a paramedic was wounded. Mohammed approached him, trying to help the injured paramedic. Israeli forces then struck the area again, killing both Child Mohammed and the wounded paramedic.
This fully armed war criminal was just a 19yo baby boy but the barefoot palestinian primary schoolers carrying water to their families who israel relentlessly bombs are "terrorists"
A pregnant woman has succumbed to her wounds after being shot by Israeli forces three days ago south of Khan Younis in the Gaza Strip, Wafa news agency reports.
🔴 LIVE updates: https://t.co/9p7EpTn9ro
RIP to the 2,977 people that lost their lives on 9/11.
And NOW RIP to the millions of innocent people in Iraq, Afghanistan, Syria, and Yemen who paid the price for something they never committed
You have to use AI images because the real photos from 1980s Israel show you shooting Palestinian women.
(Hamas didn't even exist yet - it would be founded soon after specifically to fight back against this.)
Saba Mehboob, 21, #Christian woman shot dead in her #Rawalpindi home for rejecting a #Muslim neighbour’s advances. Her teenage brother then abducted & threatened.
Just another day, another atrocity against Christian women in #Pakistan.
https://t.co/Y0W5ymACYA