لانگ مارچ کے فیصلے کے بعد ہر ایک رہنما نے اس فیصلہ پر اعتماد کا اظہار کیا اب اگرسہیل سمیت باقی ساتھی حبس بجا میں ہے تو ہر ایک کو اس فیصلہ کو سپورٹ کرنا چاہے اور ٹارگٹ دشمن ہونا چاہے نہ کہ اپنے اور وہ جو اس وقت کرسی قربان کر کے قید میں ہے ،ہم سب کوایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہے .
مراد سعید، سہیل آفریدی یا کسی بھی ساتھی کے خلاف الزام تراشی سے گریز کریں۔ ایک ایک کر کے سب کو نشانہ بنانا ہی حکومتی بیانیے کا مقصد ہے۔ اختلافات کو تقسیم کا ہتھیار نہ بننے دیں۔
ان کی چال تقسیم، ہمارا جواب اتحاد!
مراد سعید، سہیل آفریدی یا کسی بھی ساتھی کے خلاف الزام تراشی سے گریز کریں۔ ایک ایک کر کے سب کو نشانہ بنانا ہی حکومتی بیانیے کا مقصد ہے۔ اختلافات کو تقسیم کا ہتھیار نہ بننے دیں۔
ان کی چال تقسیم، ہمارا جواب اتحاد!
پاکستان کے عوام کے شعور کا اندازہ لگائیں کہ لوگ اب کتنے کلیئر ہیں کہ کے پی کا ایک صحافی جسے ہم سب نے انتہائی ایماندار ، مخلص اور اپ رائٹ قرار دیا ہوا تھا، جس کے بارے میں لوگوں کی رائے شاندار تھی اور اسی لیے اس کو غیرآئینی، غیر قانونی سیٹ اپ کا حصہ بنایا گیا کہ لوگوں میں اس کی کریڈیبلٹی ہے ، یہ بیانیہ بنائے گا مگر جیسے ہی اس صحافی نے سرکاری نوکری حاصل کی، اس نظام کا نوکر بھرتی ہوا تو دو گھنٹوں میں اس کی اوقات دو ٹکے کی بھی نہ رہی، پاکستان اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کے شعور کو سلام۔۔۔۔
پچھلے چار سال میں ایک کے بعد ایک وہ کردار ننگا ہوا جو اندر سے بہت چھوٹا اور لالچی تھا مگر اوپر اوپر سے بہت اپ رائٹ بنا ہوا تھا، عمران خان نے پاکستان کے لوگوں کی آنکھوں کا آپریشن کر دیا ہے
جو آگ 9 مئی کے بعد پنجاب میں لگی تھی آج اس آگ نے مکمل طور پر خیبرپختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے
پختون کلچر کی روایات کو اڑایا جا رہا ہے
گھروں کی دیواریں بغیر کچھ سوچے سمجھے پھیلانگی جا رہی ہیں
کیایہ سچ ہےکہ عمران خان کےبیٹوں قاسم خان،سلیمان خان کا”سکائی سپورٹس”پر انٹرویو کرنےکی وجہ سےسابق کپتان اور کمنٹیٹر مائیکل اتھرٹن کو پاکستان کا ویزا نہیں دیا گیااورجب مائیکل اتھرٹن کو ویزا نہ ملا تو پھر ناصرحسین نےبھی “ٹرائی سیریز”میں کمنٹری کرنےکیلئےپاکستان آنےپرمعذرت کر لی ہے ؟
ایک غدار نے یورپ میں جائیدادیں بنانے کی بجائے کراچی میں تیسرا شوکت خانم ہسپتال کھڑا کر دیا ہے، جس کا افتتاح 29 دسمبر 2026 کو ہونے جا رہا یے، ان شاءاللہ
ایک ہفتہ ہوگیا، کسی کو نہیں معلوم KP اسمبلی کا سپیکر کدھر ہے، منتخب وزیراعلی کدھر ہے،ایسے حالات میں بلاول صاحب اور دیگر حکومتی شخصیات کس منہ سے جمہوریت اور مذاکرات کی بات کررہےہیں،اگر جیل میں ویڈیو ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے،تومطلب حکومت جب چاہے ملاقات کرواسکتی ہے، نسیم زہرہ سےگفتگو
محترمہ آپکو ترقیاتی کاموں کا کیا علم- عوامی مینڈیٹ پہ شب خون مارنے والے غیر جمہوری چار دن کے جھوٹے اقتدار والوں کو ایسی باتیں زیب نہی دیتی- میرے حلقے میں تمام 28 نیبرہوڈ کونسلز میں ترقیاتی کام جاری تھے۔ جسے بند کر دیا گیا ہے۔ نا صرف میرے حلقے بلکہ پشاور اور پھر پورے خیبرپختونخواہ میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ میں نے کہا تھا جو کہ ریکارڈ پر ہے کہ 2026-27 میں پشاور کو عالمی شہروں کے برابر کھڑا کرینگے انشاءاللہ۔آپ غیر جمہوری عمل کا حصہ بن کر وہی ترقیاتی کام جن کی تختیاں آپ لوگ پچھلے پانچ دن سے اکھاڑ رہیں ہیں ۔۔تختیاں بدلنے سے عوام کے دلوں سے آپ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے ترقیاتی منصوبوں کو نہی نکال سکتے
غیروں کے سامنے اپنے اندرونی مسائل بیان کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو اپنی پارٹی کی عزت اور وقار کی کوئی پرواہ نہیں۔ اختلافات گھر کے اندر حل کیے جاتے ہیں، انہیں تماشا نہیں بنایا جاتا!
@AkMashal
اللہ کامیاب کرے۔ کوشش پوری کریں۔ کامیابی ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے- کم از کم ایک بھرپور کوشش ہونی چاہیئے۔ اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔
میں آپکا شکریہ ادا کرتا ہوں اس سارے کرائسس میں آپ ورکرز کے ساتھ جڑے رہے۔ روز بات کی۔ امید دی۔