Despite Zaman Park being sealed, people of Lahore are already out in huge numbers . However, I cannot allow any injuries to my workers, the general public or my police just so these fascists can register more FIRs against us and find a pretext to run away from elections.
واضح طور پر”گرفتاری“ کا دعویٰ محض ایک ڈرامہ تھاجبکہ اصل نیت اغواء اور قتل کی ہے۔آنسو گیس اور آبی توپوں کےبعد اب یہ سیدھی فائرنگ پر اتر آئےہیں۔کل شام میں نےضمانتی بانڈ بھی مہیا کیا مگر DIGنے وصول تک کرنے سےانکار کردیا۔انکی بدنیتی اور ناپاک عزائم میں کسی قسم کا ابہام باقی نہیں۔
My house has been under heavy attack since yesterday afternoon. Latest attack by Rangers, pitting the largest pol party against the army. This is what PDM and the enemies of Pakistan want. No lessons learnt from the East Pakistan tragedy.
یہ وہ المیہ ہے جو پاکستان میں جنم لے رہا ہے۔ہماری پولیس اور رینجرز کو اپنے ہی شہریوں کیخلاف وہ لوگ کھڑا کر رہے ہیں جو اپنے مفادات کیلئے عام پاکستانیوں سے جانوروں کا سا سلوک کرتے ہوئے انہیں قوت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے اپنی مرضی کی ڈگر پر چلانا چاہتے ہیں۔
This image will remain with me for the rest of my life. The passionate cry for freedom while dancing and pouring water on his head to dilute the effects of tear gas.
MashaAllah a nation waking up finally and demanding freedom.
جیسے کراچی کا گورنر ٹپوری بھائی ایک گھنٹہ عہدے سے اترنے پر نہیں رکا ایسے ہی یہ سارے ایک گھنٹہ نہیں رکیں گیں جلد ہی بھاگ جاہیں گیں اور اب تو عرب ممالک میں بھی نہیں جاسکیں گیں۔
فضل الرحمان صاحب جو بغیر کسی بات کے آگ بگولہ ہوتے تھے زمین گرم کرتے تھے آج سب کچھ ہو جانے کے باوجود انکا فرینڈلی بیان۔ عمران خان نے واقعی ان سب کا نقاب نوچ لیا ہے۔
جب بھی پاکستان کی بات آئی جب بھی اداروں کی بات آئی ہم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے رہے اپنے ملک کے ساتھ کھڑے رہے باوجود اس کے کہ ان کے سربراہان سے ہم ناراض ہیں بلکہ ناراض نہیں ہم سے نفرت کرتے ہیں لیکن پھر بھی اس ملک کے لیے ہم اکٹھے ہو گئے۔
اپنے ساتھ ہوئے ظلم، زیادتی کو بھول کر انڈیا کے خلاف ہم اکٹھے ہوئے لیکن جنگ کے بعد ہمارے ساتھ ریاستی ظلم دوبارہ شروع ہوا۔
آج بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہم اداروں کے ساتھ ہوں لیکن ایک طرف یہ کہتے یکجہتی کا مظاہرہ کریں دوسری طرف ان حالات میں ہمارے لوگوں کو ناہل کیا جا رہا ہے 10,10 سال قید سنائی جارہی ، ہمارے وزیراعلی کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں ۔ جنید اکبر خان
عمران خان صاحب کی صحت کا مسئلہ بڑھ رہا ہے ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہر قانونی راہ اپنائی کہ خان صاحب کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان صاحب کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی ممبران کی نگرانی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کروایا جائے اگر علاج نہیں کرواتے اور خدانخواستہ خان صاحب کو کچھ ہوا تو ذمہ دار یہ جعلی حکومت اور اس کے ہینڈلرز ہونگے۔ وزیراعلی سہیل خان آفریدی
اۤپ نے کہا تھا چیف جسٹس صاحب کہ عمران خان کی مرضی کے ڈاکٹرز ہونگے۔۔یہ اۤپ کے اۤرڈر کی توہین عدالت کس نے کی؟ ہم نے تو نہیں کی۔۔۔چیف جسٹس صاحب، اۤپ نے کہا تھا کہ عمران خان کی مرضی کا علاج ہوگا۔۔یہ کس نے اۤپ کے اۤرڈر کی توہین عدالت کی ہے؟ چیف جسٹس صاحب اۤپ نے کہا تھا کہ انکے گھر کے افراد کو بھی ان تک رسائی دی جائے۔۔: بابر اعوان
انڈیا کے ساتھ ہم حالت جنگ میں ہیں، افغانستان کے ساتھ ہم حالت جنگ میں ہیں ، ایران میں امریکہ اور اسرائیل جو کچھ کررہے ہیں ، باقی ہمارے اندرونی حالات سب کے سامنے ہیں ان حالات میں موجودہ حکومت کہتی ہے ہمیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے ۔اچھا ٹھیک تو یہ بتائیں کیا عمران خان جو اس ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے اس کو علاج کی سہولت نہ دینا کیا قومی یکجہتی کے لیے اچھا اقدام ہے؟
کیا اس یکجہتی کے لیے قوم کے سب سے مقبول لیڈر کی فیملی کی ملاقاتیں بند کی جائیں؟ کیا یہ قومی یکجہتی کے لیے ہے کہ ملک کے سابق وزیراعظم کے علاج کے لیے اس کے ذاتی معالجین کو رسائی نہ دی جائے؟
تیمور جھگڑا
”خان صاحب تو بھگت رہے ہیں لیکن تم سے برداشت نہیں ہوگا، میں آپ کو خبردار کردوں ، آپ کو مسلط کرنے والے آج خود رو رہے وہ ہمیشہ تمہارے پیچھے نہیں ہونگے انشااللہ بہت جلد آپ کو پتہ چلے گا۔ آپ تیاری پکڑیں تین سال میں شہباز شریف کی کمر کو درد نہیں ہوا اب جب آپ جیل کاٹیں گے تو سمجھ آئے گی ،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں جو ہم نے بھگتا ہے آپ اس سے کئی گنا زیادہ بھگتیں گے۔“
جنید اکبر خان
@JunaidAkbarMNA