بیٹے جہاں پیدا ہوتے ہیں مرتے بھی وہی ہیں
اپنے والدین کی قبروں کے پاس دفنائے جاتے ہیں
لیکن بیٹیاں جہاں پیدا ہوتی ہیں وہاں نہیں مرتیں وہ کہیں دوسرے گاؤں شہر دفنائی جاتی ہیں اپنے والدین سے بہت دور پھر انہیں پرایا کیسے سمجھ لیتے ہیں لوگ وہ تو سب چھور کرتمہارے پاس مرنے آتی ہیں ناں
"Loagon k samnay apni ghalatiyan zaroor tasleem karlo, aur maazrat bhi kar lo. Iss mai bhi koi harj nahi, magar unn k saamnay apni khoobiyon ya khaamiyon ko ginwanay ki koi zaroorat nahi hai. Un ko khud apnay baray mai andaza laganay do. Apnay aap ko parakhnay do."
ویسے ایک بات بتاوں یہ جو "بلو ٹک" اوور سیز اور لوکل خواتین کپتان اور مدینہ کی ریاست کے نعرے مار رہی ہوتی ہیں، اگر صرف شرعی پردہ نافذ ہو گیا نا پاکستان میں تو انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لینا ہے،
یاد نال کر لیا کرنا فیئر January Dump, February Dump تے Snapchat تے Insta فلٹر استعمال۔۔۔
مذہبی ٹچ کا استعمال تو کر رہی ہوتی ہیں لیکن اگر مذہب کا ٹچ شروع ہو گیا تو رونا بھی سب سے پہلے انہوں نے ہی ہے۔