مرے پاس زندگی کا ، فقط ایک ہی سبب تھا
اور اب اُس نے بھی کہا ہے ، مرے آسرے نہ رہنا
یہ تمہارا تھک کے گرنا ، کوئی بات ہی نہیں ہے
کوئی بات ہی نہیں ہے ، مگر اب گرے نہ رہنا
زبیر حمزہ
میں اپنے کم پہ فسردہ نہیں کہ جانتا ہوں
بس اِس کے بعد زیادہ ہے اور کچھ بھی نہیں
تمھارے بعد وجوہات کی تسّلی پر
وضاحتوں کا لبادہ ہے اور کچھ بھی نہیں
احمد سلمان
تم تھے تو زندگی سے بڑی دوستی تھی یار
میری تمہارے بعد ک��ی سے بنی نہیں
آدھا ادھورا جیسے ہو خشبو کے بن گلاب
آ دیکھ میری ذات میں ویسی کمی نہیں۔۔۔؟
شمائلہ فاروق
اس سے باہر نہیں جا پاتا ، مـــگر پھر بھی مجھـے
میـــری آوارگی کہتی ھے "زمیں پھیـــــل سکـے "
ترس آتا ھــے ، حـــــــدِ وُسعتِـــــــ بینائـــــی پـر
اتنی محدود کہ تج�� تکــــ بھی نہیں پھیل سکـے
ذکی عاطف
میں جانتا ہوں کہ آج ہے اور کل نہیں ہے
سو یہ محبت مِری اُداسی کا حل نہیں ہے
کہا نہیں تھا تِری کمی مار دے گی مجھ کو
کہا تو تھا کوئی تیرا نعم البدل نہیں ہے
تُو زندگی میرے حوصلے کی تو داد دے ناں
تُجھے گزارا ہے اور ماتھے پہ بل نہیں ہے