سپریم کورٹ نے اپنے آرڈر میں میڈیکل رپورٹس پر بات کرنے سے منع کیا تھا۔ نہ میڈیکل رپورٹس ہمیں ملیں، نہ فیملی نے اور نہ ہی خان صاحب کے ڈاکٹرز نے ان پر کوئی بات کی، لہٰذا ہماری طرف سے عدالتی حکم کی کوئی توہین نہیں ہوئی۔
دوسری طرف حکومت اور اس کے ٹاؤٹس ہر قدم پر عدالتی حکم کی توہین کرتے رہے۔ منیب فاروق اور حسن ایوب جیسے صحافی تو کل سے ہی ٹی وی پروگراموں میں کہہ رہے تھے کہ خان صاحب کو شفاء لے کر ہی نہیں جائیں گے، صرف پمز لے کر جائیں گے۔
یہیں سے حکومت کی نیت پہلے ہی عیاں تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں بلکہ توہینِ عدالت کرنے جا رہی ہے۔
پاکستانی قوم گجنی نہیں ہے۔ نہ ہی نواز شریف کی چار سالہ مفروری کو بھولی ہے نہ ہی فیملی اسپتال کے اس اسپتال نما سیٹ کو ۔ زیر نظر تصویر نواز شریف کا کمرہ ہے جسے عدالت کو چکمہ دینے کے لئے شریف میڈیکل سٹی اسپتال کا سیٹ لگایا گیا ۔ قائد سروسز کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے اپنے گھریلو اسپتال شریف میڈیکل سٹی پہنچے اور وہاں سے گھر جا کر یہ تصویریں میڈیا کو ریلیز کر دیں کہ یہ ہمارا بیڈ روم اسپتال ہے یہاں اب نواز شریف کا علاج ہو گا۔
آج اعظم نذیر تارڑ فرما رہے ہیں سب کے لئے ایک قانون
@HammadHassan30 یہ کیا بات ہوئی سر؟ اپکے نزدیک کل جو غلط ہو رہاتھا اسے آج کے تناظر میں پھر جسٹیفائی کیا جا سکتا ہے ، یعنی اج کے غلط پہ تنقید اس لیے نہیں کیا جا سکتا ہے کیعنکہ ماضی قریب میں اس پھر نہیں ہو اہے 🥺
Imran Khan is standing tall despite three years of solitary prison. Only two leaders hve faced jail so bravely in the political history of Pakistan. Zulfiqar Ali Bhutto was the other leader
@cyalm Thank you for being straightforward. This is the way to go, please ask your seniors to do the same. I don’t know how much further they can go just to protect the boss.