چونکہ مجھے بیشتر معاملات میں خود اپنی راے کے درست اور حتمی ہونے کا کبھی یقین نہیں ہوا، اس لیے دوسروں کی راے سرے سے رد کرنے اور بحث کرنے سے احتراز کرتا ہوں۔ 🙏
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired a meeting today to review the Fuel Subsidy Scheme. He took stock of the relief being provided to public transport operators, motorcycle owners, and farmers to mitigate the impact of higher fuel prices due to regional tensions and war-related disruptions.
The meeting reviewed implementation progress, including transparency, accountability, and coordination with provincial governments. Four tranches have already been disbursed over the past two months on a biweekly basis.
DPM/FM expressed satisfaction with the overall progress and directed continued coordination and strengthened accountability to ensure maximum benefit reaches the intended beneficiaries.
It was decided that the 5th and 6th tranches of the scheme will be disbursed in June 2026 as part of the ongoing rollout.
The meeting was attended by SAPM Tariq Bajwa, Federal Secretary Petroleum, Chief Secretaries Sindh, KP & Punjab, as well as concerned officials from GB, ICT and other government federal and provincial officials.
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 met with a delegation from the National Defence College of Sri Lanka at the Ministry of Foreign Affairs. The delegation is visiting Pakistan as part of a foreign study tour and received a briefing on Pakistan’s foreign policy and regional challenges.
DPM/FM warmly welcomed the delegation and wished them a fruitful visit and pleasant stay in Pakistan. He underscored the importance Pakistan attaches to strengthening its relations with Sri Lanka across all domains.
امریکی ایوان نمائیندگان نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات پہ قدغن لگا دی۔ خبر
جمہوری نظام میں اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن ہی ریاستوں کو بحرانوں سے نکالتا ہے ۔
Congratulations to Austria, Kyrgyzstan, Portugal, Trinidad and Tobago, and Zimbabwe on their election as non-permanent members of the #UNSC for the 2027–2028 term. We wish them every success in discharging this important responsibility.
As Pakistan continues its tenure on the Security Council through 2026, we remain committed to advancing peace, security, dialogue, and multilateral cooperation.
We look forward to working closely with the incoming members in pursuit of our shared objectives and a more peaceful, secure, and equitable world.
@BMeinl@MFA_Kyrgyzstan@PauloRangel_pt@nestrangeiro_pt@mfcagovtt@MoFA_ZW
گلگت بلتستان میں انتخابات کی گہما گہمی بہت خوش آئیند ہے اور اس وقت ملک بھر سے سیاسی قائدین اور میڈیا کے لوگ گلگت بلتستان میں رونقیں لگاے ہوے ہیں۔ یقیناً اس سے گلگت بلتستان میں ٹورزم کی انڈسٹری کو فروغ حاصل ہوگا۔
آئندہ منتخب حکومت کے لیے میرا مشورہ ہوگا کہ اس سال کو گلگت بلتستان میں ٹورزم کا سال ڈیکلیر کردیں اور سارے وسائل اور توانایاں ٹورزم انڈسٹری کے فروغ دینے پہ صرف کردیں۔
پاکستانی سرحدوں کی ڈیجیٹل نگرانی: پاک فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور پاک-افغان سرحد پر مقامی طور پر تیار کردہ 'شاہپر' اور 'براق' ڈرونز کا نیٹ ورک مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔
جدید OSINT اور سیٹلائٹ امیجری کے مطابق، یہ ڈرونز 24 گھنٹے سیکیورٹی فورسز کو لائیو انٹیلیجنس فراہم کر رہے ہیں، جس سے دراندازی اور اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنائی جا رہی ہیں۔
وفاقی حکومت نے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا ہے،مانسہرہ، کاغان، ناران، جھیل کھنڈ اور چلاس کے راستے ایک جدید موٹروے کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے،یہ کے کے ایچ کا محفوظ ترین متبادل راستہ ہوگا،172 کلومیٹر طویل اس موٹروے سے قراقرم ہائی پر سفر کا فاصلہ 120 کلومیٹر کم ہوجائے گا۔
پہلے مرحلے میں موٹروے مانسہرہ سے کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ تک تعمیر کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں بابوسر ٹاپ سے چلاس تک کا حصہ شامل ہوگا۔
منصوبے کی نمایاں خصوصیت 13.5 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل ہوگی، جو پاکستان کی سب سے طویل سرنگ ہوگی
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 along with Finance Minister Senator Muhammad Aurangzeb, held a meeting today with senior leaders of the Pakistan Peoples Party as part of routine pre-budget consultations ahead of the Federal Budget.
The discussions focused on current expenditure and development spending priorities, including the Public Sector Development Programme (PSDP), as well as broader economic priorities such as fiscal sustainability, public welfare measures, development initiatives, and inclusive growth for the fiscal year 2026–2027.
It was unanimously agreed to recommend to Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif @CMShehbaz that the Budget for fiscal year 2026–2027 be announced on Wednesday, 10 June 2026.
The meeting was attended by Chief Minister Sindh Syed Murad Ali Shah, MNA Syed Naveed Qamar, Senator Sherry Rehman, Senator Saleem Mandviwala, Sindh Irrigation Minister Jam Khan Shoro, Minister of State for Finance and Railways Bilal Azhar Kayani, Special Assistant to the Prime Minister Tariq Bajwa, Federal Secretary Finance Imdadullah Bosal, Chairman FBR Rashid Mahmood Langrial, and other senior officials from the concerned ministries and departments.
Heartiest congratulations to my friend @larsloekke on reassuming the office of Foreign Minister after the recent elections.
It has been a pleasure engaging with you through our meetings & telephone exchanges, and I deeply value the friendship and understanding we have developed over time. I look forward to continuing our close cooperation and advancing the strong ties between 🇵🇰 and 🇩🇰 .
My best wishes for a successful tenure ahead. @DanishMFA
Heartiest felicitations to Prime Minister Mette Frederiksen on becoming the Prime Minister of Denmark for the third consecutive term.
I look forward to working closely with her to further strengthen the longstanding friendship and cooperation between Pakistan and Denmark. Our countries share a common commitment to peace, sustainable development, and international cooperation.
I am confident that under her leadership, Pakistan-Denmark relations will continue to grow for the mutual benefit and prosperity of our peoples.
@Statsmin
ایسے انوکھے انگریز افسر کی کہانی جس کی مادری زبان پشتو تھی۔ ان کا نام کرنل سر رابرٹ واربرٹن جونیئر تھا، جو سلطنتِ برطانیہ کے ایک مروجہ فوجی افسر تو ضرور تھے، لیکن ان کی لوری، ان کا لہجہ اور ان کی گھٹی میں افغان ثقافت رچی ہوئی تھی۔ وہ جب پشاور اور درۂ خیبر کے پولیٹیکل ایجنٹ بن کر سرحد کے غیور قبائل کے درمیان پہنچے، تو انہیں کسی مترجم کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کیونکہ وہ اسی روانی، چاشنی اور محاورے کے ساتھ پشتو بولتے تھے جو وہاں کے سنگلاخ پہاڑوں کے باسیوں کی اپنی زبان تھی۔ قبائلی مشران اس گورے افسر کو دیکھ کر حیران رہ جاتے اور کہتے کہ اس کی چمڑی ضرور گوری ہے پر اس کا دل اور اس کی زبان افغان ہے۔ انہوں نے درۂ خیبر جیسے پرآشوب اور خطرناک راستے کو کسی توپ یا گولی کے بغیر، صرف اپنی مادری زبان اور قبائلی اعتماد سے فتح کیا، اور یہ سب اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ان کی رگوں میں برطانوی خون کے ساتھ ساتھ افغانستان کے شاہی خاندان کا خون بھی دوڑ رہا تھا۔اس انگریز افسر کی مادری زبان پشتو ہونے کا راز ان کی والدہ کی اس داستانِ محبت میں چھپا تھا جو کابل کے شاہی محل سے شروع ہوئی تھی۔ رابرٹ واربرٹن جونیئر کی والدہ شاہ جہاں بیگم تھیں، جو بارکزئی خاندان کے طاقتور افغان امیر دوست محمد خان کی سگی بھتیجی اور ان کے بھائی امیر محمد خان کی بیٹی تھیں۔ 1840ء کے کابل میں، جب پہلی اینگلو افغان جنگ کے شعلے ہر طرف بھڑک رہے تھے اور برطانوی فوج شہر میں خیمہ زن تھی، تو اس افغان شہزادی کی ملاقات برطانوی توپ خانے کے ایک نوجوان افسر لیفٹیننٹ رابرٹ واربرٹن سینئر سے ہوئی۔ یہ محض دو دلوں کا میل نہیں تھا بلکہ دو ایسی تہذیبوں کا ملاپ تھا جو اس وقت ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہو رہی تھیں۔ شاہ جہاں بیگم نے اس گورے افسر کی محبت میں اپنی شاہی آسائشیں، اپنا خاندان اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا اور ان سے شادی کر لی۔لیکن یہ محبت بارود کے ڈھیر پر پروان چڑھی تھی۔ جنوری 1842ء میں جب کابل سے برطانوی فوج کا تاریخی اور ہولناک انخلا شروع ہوا، تو حالات یکسر بدل گئے۔ افغان قبائل کے حملوں اور شدید برف باری نے پندرہ ہزار سے زائد برطانوی فوجیوں اور ان کے ہمراہیوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس افرا تفری میں لیفٹیننٹ رابرٹ واربرٹن سینئر کو افغانوں نے یرغمال بنا لیا اور شاہ جہاں بیگم، جو اس وقت امید سے تھیں، اپنے شوہر سے بچھڑ گئیں۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ان کا اپنا شاہی خاندان انہیں ایک انگریز سے محبت اور شادی کرنے پر غدار سمجھ رہا تھا اور دوسری طرف انگریزوں کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔ایسے ہولناک حالات میں شاہ جہاں بیگم نے ہمت نہ ہاری۔ وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھیس بدل کر روپوش ہو گئیں اور جلآل آباد کے قریب جگدلک کے ایک غلزئی قلعے میں پناہ لی۔ اسی قلعے میں، جولائی 1842ء میں انہوں نے اپنے اسی بیٹے رابرٹ واربرٹن جونیئر کو جنم دیا۔ کئی ماہ تک وہ اس نوزائیدہ بچے کو کلیجے سے لگائے افغان پہاڑیوں اور غاروں میں چھپتی پھریں۔ ان کی اپنی مادری زبان پشتو تھی اور ان کا افغان ہونا ہی اس وقت ان کی سب سے بڑی ڈھال بنا، جس کی وجہ سے سنگلاخ پہاڑوں کے باسیوں نے انہیں پناہ دی۔ بالآخر جب انگریزوں کی انتقامی فوج کابل پہنچی، تو یہ میاں بیوی اور بچہ معجزانہ طور پر دوبارہ ایک دوسرے سے مل پائے اور ہندوستان منتقل ہو گئے۔شاہ جہاں بیگم نے اپنے بیٹے کو بڑا کرنے کے لیے انگلستان کے اعلیٰ فوجی اداروں میں ضرور بھیجا، لیکن اس کی ابتدائی تربیت خالص افغان سانچے میں کی تھی۔ رابرٹ نے ہوش سنبھالتے ہی انگریزی سے پہلے اپنی ماں کی زبان پشتو سیکھی تھی اور وہ کابل کے درباروں کی کہانیاں، پشتون ولی کے اصول اور قبائل کی نفسیات اپنی ماں سے سن کر جوان ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ درۂ خیبر کا منتظم بن کر واپس آیا، تو سلطنتِ برطانیہ کے لیے وہ ایک افسر تھا لیکن سرحد کے قبائل کے لیے وہ امیر دوست محمد خان کا نواسا تھا۔ شاہ جہاں بیگم کی پشتو زبان اور ایک انگریز افسر سے ان کی محبت کا یہی وہ انوکھا ثمر تھا جس نے تاریخ کو ایک ایسا انگریز افسر دیا جس نے درۂ خیبر کو طاقت سے نہیں بلکہ ماں سے ورثے میں ملی زبان اور اعتماد سے فتح کیا۔
ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان؛
پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے برادرانہ تعلقات تاریخ اور باہمی یکجہتی پر مبنی ہیں جنہیں بھارت کی جانب سے منفی انداز میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
بھارت اگر کسی بھی ایسے مُلک سے ناراض ہو گا جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تو ایسے ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔
ہم بھارت سے کہتے ہیں کہ اِس معاملہ کو کسی مختلف زاویے سے نہ دیکھے۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرا خارجہ نے اسرائیلی افواج کی نگرانی میں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ ، الحرم الشریف میں مسلسل دراندازی اور اس کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی القدس الشریف کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مشترکہ اعلامیے میں قابض اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی القدس الشریف کے تاریخی، قانونی اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے اور اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کے تقدس کو پامال کرنے کے لیے کیے جانے والے منظم اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا علاقہ، جو 144 دونم پر محیط ہے، صرف اور صرف مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ ہے۔ اردن کی وزارتِ اوقاف اور اسلامی امور سے وابستہ ادارہ مسجدِ اقصیٰ کے معاملات کو چلانے اور وہاں داخلے کو منظم کرنے کا خصوصی اختیار رکھتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان جارحانہ اقدامات کو فوری طور پر روکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیاں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو بڑھاتی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی اور ان کے جائز اور ناگزیر قومی حقوق، خصوصاً حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو کے مطالبے کو دہرایا۔