اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
(سور�� آل عمران، ٩٢)
اور مہاجرین اور اَنصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ اُن کی پیروی کی، اللہ اُن سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اُس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ��ُن کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کےنیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
﴿سورۃ التوبۃ، ۱۰۰﴾
یقینا اللہ ان مؤمنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے، اور ان کے دِلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا، اس لئے اُس نے اُن پر سکینت اُتار دی، اور اُن کو اِنعام میں ایک قریبی فتح عطا فرمادی۔
﴿سورۃ الفتح، ۱۸﴾
لہٰذا اللہ کی تسبی�� کرو اُس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اُس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے اور اُسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اُس کی تسبیح کرو) اور اُس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔
﴿سورۃ الروم،۱۷-۱۸﴾
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روح قبض کرتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔
��(سورۃالنحل ، ۷۰)
وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کا�� کیا ہوگااسے اپنے سامنے موجود پائے گا،اور بُرائی کا جو کام کیاہوگا اس کو بھی (اپنے سامنےدیکھ کر) یہ تمنا کرے گاکہ کاش اس کےاور اس کی بدی کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا! اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب)سےبچاتاہے،
﴿سورۃ آل عمران، ۳۰﴾
بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بار بار آنے جانے میں ان عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، (اور انہیں دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ)
۱/۲
(مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ
۱/۲
اور کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے، ان کا کیسا انجام ہوچکا ہے۔ وہ طاقت میں بھی ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور زمین میں چھوڑی ہوئی یادگاروں کے اعتبار سے بھی۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ میں لے لیا۔
۱/۲