رؤف کلاسرا، آصف محمود اور عامر خاکوانی نے قائدِ اعظم کو زیارت بھیجنے کی وجہ بتائی۔ تینوں کا کہنا ہے کہ قائدِ اعظم کو طبی وجوہات کی بنا پر زیارت بھیجا گیا، اور یہ کہ ڈاکٹرز کی یہی تجویز تھی۔
قائدِ اعظم نے 14 جون 1948 کو کوئٹہ اسٹاف کالج میں کہا تھا کہ جرنیل اس قوم کے نوکر ہیں۔ انہوں نے ایوب خان کی پوسٹنگ ایسٹ پاکستان رائفلز میں کر دی اور سیاست میں مداخلت کی بنا پر اس کی ترقی پر پابندی لگا دی۔ 14 جولائی 1948، اس تقریر کے ٹھیک ایک ماہ بعد، انہیں زیارت بھیج دیا گیا۔ زیارت کی چار ہزار سالہ تاریخ میں پہلا مریض، زیارت کے سنسان اور ویران جنگلات میں پہنچ گیا۔
اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ تب تو انگریز فوج تھی۔ تو کیا آج کی فوج اُسی کا تسلسل نہیں؟ کیا وہی ذہنیت نہیں؟
میں آصف محمود کو جھوٹا نہیں کہوں گا، نہ رؤف کلاسرا صاحب کو یہ بتاؤں گا کہ investigative journalism کیا ہوتی ہے۔ قائد اعظم ترجیح ایک لمحے کے لئے بھی انکی صحت نہیں تھی، بات صرف اتنی سی ہے کہ وہ قائدِ اعظم، جو بیماری کے باوجود اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے لیے کراچی آئے، جو علالت کے باوجود دن رات ایک کرکے قوم اور پاکستان کے مستقبل کے لیے اپنا خون پسینہ بہا رہے تھے، کیا وہ اپنی مرضی سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر زیارت کے بیابان علاقے میں جانا پسند کرتے؟
دنیا کی عدالتوں میں بیلجیم کا کافر جج پہلے نمبر پر اور پاکستان کا مسلمان جج ایک سو اکیسویں نمبر پہ آتا ہے ۔
جب قاضی اسٹیٹس اور تعلقات دیکھ کر فیصلے کرنے لگے تو وہ شہر، شہر نہیں رہتے جنگل بن جانتے ہیں ۔
اس جگہ اور ٹرین کی آرام دہ نشستوں کے درمیان صرف ایک چیز حائل ہے: غربت، اور ٹرین کا ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہ ہونا۔ جب کبھی زندگی کی چند چھوٹی چیزیں کھو جانے سے آپ کا دن خراب ہو جائے، تو اس منظر پر ضرور غور کیجیے۔
رپورٹر: آپ احتجاج میں آئی ہیں، لیکن بھگت سنگھ کی کتاب پڑھ رہی ہیں۔ بھگت سنگھ کو پڑھنا کیوں ضروری ہے؟
جنتر منتر میں ایک طالبہ اور رپورٹر کے درمیان دلچسپ مکالمہ۔