Civil Engineer batch 2010. born to serve Pakistan. want to lead pakistanis from the front and strictly follow the quote of Dr.J.A.Aziz Haram Nai Khana.
میرا کزن ہوتا وہاں ابھی کچھ دیر پہلے گروپ میں سکرین ساٹ بھیجا کہ یہ حال ہے۔ میں بھی پرانا حساب برابر کرتے ہوئے فوری کہا کہ بازار رات جلدی بند کرنے اسلئے ابھی دن کی روشنی میں چکر لگا آ۔۔۔۔
یورپ والوں کو یہ بھی اندازہ نہیں کہ اس گرمی میں نیکر نہیں ہہنتے بلکہ کھلے ڈلے لیکن مکمل کپڑے پہنتے ہیں تاکہ جسم کو ڈائریکٹ دھوپ نا پڑے اور سر پر سوتی کپڑا یا ٹوپی پہننی ہے تاکہ ہیٹ اسٹروک نقصان دہ نا ہو
ساتھ لیموں پانی ، ستو وغیرہ پینا ہے
انکا پہلی دفعہ کا تجربہ ہے نا اگلے سال تک ٹرینڈ ہو جائیں گے۔
پنجاب کے اس علی حیدر سمیت 13 کروڑ علی حیدروں کے صرف دو مجرم ہیں پہلا پنجاب کے علاوہ سارا پاکستان جو ہر وقت ایک ہی بکواس کرتا ہے کہ پنجاب ہمارا حق کھا رہا ہے۔ جبکہ دوسرا پنجاب پر خونی پنجے گھاڑ کر بیٹھی حرامزادی ایلیٹ جسکا پیٹ حکومت دونوں ہاتھوں بھر رہی۔
بہاولنگر کے علاقے سے یہ بارہ سالہ معصوم بچہ علی حیدر ہے۔
والدین کو بچے کو دینی تعلیم دلوانے کا شوق تھا، بچے کو لاہور میں برکی روڈ پہ ایک مدرسہ میں داخل کروا دیا گیا۔ مدرسہ میں قاری غلام رسول صاحب تھے جو بچوں کو تعلیم دینے کے لیے متعین تھے۔ نو دن پہلے اٹھارہ جون کو علی حیدر بیمار تھا، اس روز قاری صاحب نے مدرسے کے بچوں کو ایک ختم شریف پہ جانے کے لیے کہا۔
باقی بچے چلے گئے لیکن علی حیدر نے کہا کہ مجھے بخار ہے، اس لیے میں نہیں جا سکتا۔ قاری غلام رسول کو انکار برا لگا کہ اس بچے کی اتنی ہمت کہ یہ میری بات ماننے سے انکار کر دے۔ اس نے لوہے کا راڈ اٹھایا اور بچے کو مارنا شروع کر دیا۔ علی حیدر کے گھر والوں کے جاننے والے کوئی مزدور اس علاقے میں کام کرتے تھے، اس کے بخار کی وجہ سے وہ اس کا پتا کرنے آئے تو اس کے گھر مار پیٹ کی اطلاع دی اور یہ بھی بتایا کہ ممکنہ طور پہ اس کا بازو فریکچر لگ رہا ہے اور اس کے کندھے میں بھی درد ہے۔ علی حیدر کے چچا یہ سن کر مدرسے آئے۔
ان کے معصوم بچے کو لوہے کے راڈ سے مارا گیا تھا۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ اس بچے کو فوری طور پہ وہاں سے ہسپتال لے جاتے، اس کا علاج کرواتے اور اسے بالکل بھی وہاں مدرسے میں مزید نہ رہنے دیتے۔
لیکن ہوا کیا۔۔۔۔۔۔ ان کے بقول “معززین” بیچ میں آ گئے اور قاری غلام رسول نے فرمایا کہ میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا اور بچے کا علاج بھی کروا دوں گا۔ تو یہ بچے کو وہیں چھوڑ کے واپس آ گئے۔
جس بچے کو قاری نے لوہے کے راڈ سے مارا ، اس بچے کو دوبارہ اسی قاری کی تحویل میں چھوڑ کر واپس آ گئے۔ چھ دن گزر گئے۔ انھیں اتنی ہوش نہیں آئی کہ بچہ کس حال میں ہے، اس کی خبر لیں۔ قاری کو اتنی شرم نہیں آئی کہ معصوم بچے کو مزید تکلیف نہ دے، بچے کا کوئی نقصان نہ کرے۔۔۔
چھ دن بعد چوبیس جون کو قاری غلام رسول نے بچے کے گھر فون کیا کہ آپ کا بچہ نافرمان ہے، میں اسے واپس بھیج رہا ہوں۔ پھر اس قاری غلام رسول نے بس سٹینڈ پہ جا کے بچے کو بہاولنگر کی بس میں بٹھایا، کنڈکٹر کو بچے کے والد کا نمبر دیا کہ وہاں جا کے اسے فون کر لینا۔
جب بچہ وہاں پہنچا تو اسے لینے پہنچے اور بقول اس کے چچا کے بچے کا نچلا دھڑ کام ہی نہیں کر رہا تھا، مفلوج تھا۔ بچہ کو اٹھا کر بس سے نکالا اور اس کا اپنے طور پہ بہاولنگر سے علاج کروانا شروع کر دیا۔ بچے کی چوٹیں زیادہ تھیں، نقصان زیادہ ہو چکا تھا، بچہ بچ نہیں سکا، مر گیا۔ ��ور جب مر گیا تب گھر والوں کو شرم آئی اور وہ پولیس والوں کے پاس گئے۔ بچہ بچ جاتا تو اس ظلم کا حساب کون کرتا ؟
اس پورے واقعہ میں قصوروار کون ہے؟
بچے کے گھر والے جو بچے کو گھر میں رکھنے کے بجائے لاوارثوں کی طرح اسے دینی مدرسے میں بھیج دیتے ہیں؟
قاری غلام رسول جو چھوٹے سے بچے کے ختم شریف پہ نہ جانے کا سن کر ، اس کے بخار کا سن کر اس سے ہمدردی کرنے کے بجائے اسے لوہے کے راڈ سے مارنا شروع کر دیتا ہے؟
بچے کے سگے جو بچے کو لوہے کے راڈ سے مار کھانے کے بعد بھی اس کی حفاظت یقینی بنانے کے بجائے، اس پہ ترس کھانے کے بجائے، اسے پھر اسی قاری کے پاس چھوڑ دیتے ہیں؟
وہ قاری جو پہلے بچے کو لوہے کے راڈ سے مار چکا تھا، شرم کھا کر بچے کا علاج نہیں کرواتا۔ مزید چھ دن میں بچے پہ معلوم نہیں کیا ظلم اور تشدد کرتا ہے کہ بچے کی جان چلی جائے؟
پھر اس حالت میں بچے کو لوکل بس میں اکیلے بٹھا کر گھر بھیج دیتا ہے؟
قصوروار کون ہے ؟؟؟
جب بچے پال نہیں سکتے تو انھیں پیدا کیوں کرتے ہو؟ ان کی ذمہ داری نہیں لے سکتے، ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو انھیں دنیا میں کیوں لاتے ہو؟
ایک مقدمہ اس قاری پہ درج ہوا ہے، دوسرا مقدمہ اس بچے کے گھر والوں پہ درج ہونا چاہیے۔ بچے اس لیے نہیں ہوتے کہ انھیں پیدا کر کے پھینک دیا جائے، ��چے اس لیے نہیں ہوتے کہ آپ اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ان کو قربان کرتے پھریں۔ بچے ذمہ داری ہیں، انھیں پال نہیں سکتے تو خدارا انھیں پیدا کر کے لاوارث چھوڑنا بند کیجیے۔
ہم یتیم خانوں میں پڑے لاوارث بچوں کو روتے ہیں، یہاں تو بچوں کے سگے وارث بھی ان کی تکلیف کا احساس نہیں کرتے۔ وہ بچہ جسے قاری نے لوہے کے راڈ سے مارا ، اس بچے کو اس کے سگے پھر اسی قاری کے پاس چھوڑ جائیں تو اس بچے پہ کیا گزرتی ہے؟ اگلے چھ دن اس بچے نے کیسے گزارے ہوں گے؟
یہ معصوم تو دنیا سے چلا گیا تو سب کی نظر میں آ گیا؟ اگر بچ جاتا تو کسی کو پتا بھی نہ چلتا کہ اس پہ کتنا ظلم ہوا ہے، اسے کس تکلیف سے گزارا گیا ہے۔ ایسے اور کتنے اور بچے مشکل میں ہوں گے؟ روزانہ کتنی ہی جسمانی ، جذباتی ، نفسیاتی تکلیف سہہ رہے ہوں گے؟
اور ہمیں ان بچوں کی تکلیف کی کبھی خبر بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔
@RShahzaddk اچھا شہزاد بھائی آپ نے جو وجوہات لکھیں وہ بھی ٹھیک ہوں گی پر ان سب میں آپ اس کھوتے کو کہاں رکھیں گے جو پڑھ لکھ کر ساری دنیا گھوم کر پاکستان کا سب سے ہینڈسم کپتان بن کر سب سے اہم عہدے پر براجمان ہوکر اسی دربار پر اسی دروازے پر جاکے سجدے کرتا رہا ہے؟
@RShahzaddk سرکاری عمارتوں کا سامان باپ کا مال سمجھ کر گھر لے جانے میں استاد تو کہیں پیچھے پر اول نمبر پر بلا مبالغہ سیاستدان اور بیوروکریسی ہے اور سرکاری کنسٹرکٹر ہونے کے ناطے بیوروکریسی کے کچھ نمونوں کا تو میں خود عینی شاہد ہوں۔
@SabirMehmood26 اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے اپنے لوگوں کا حق سرینڈر کرکے فاقوں پر مجبور کر کے اس پر لڈیاں ڈالنے والے آپ بیوقوفوں کو پتا بھی ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ پنجاب کی چلتی سکیموں کے فنڈز اٹھا کر ہو چکے کاموں کی پیمٹیں روک کر ہمارے بچوں کا رزق چھین کر شرم تو نہیں آرہی؟
@KhalidHusainTaj بعض دفعہ آپکا دفاع کرنے والا ایسے عذر تراشتا ہے کہ بندہ خود سوچنے پر مجبور ہوجاتا کہ پین چور اے تے مینوں وی نہیں سی پتا۔
آپکی تویت پڑھنے کہ بعد چاچو شہباز بھی یہی سوچے گا۔
@Aadiiroy2 اس سب میں آئی ٹی کی وزیر کا اتنا ہی ہاتھ جتنا تماشائیوں کا اول آنے والے کھلاڑی کی جیت میں ہوتا۔ اپنے ��ل بوتے پر خراب ترین انٹرنیٹ مہنگی بجلی اور پائریٹیڈ سافٹویئر کے ساتھ کام کرتے یہ نوجوان پاکستانی اس سب کے اصل کھلاڑی ہیں عادی بھائی۔
@RShahzaddk غیر منتخب اور یہ مخصوص کوٹے والہ سیٹوں کا پچھلے دو سال میں جو خمیازہ پنجاب بھگت چکا ہے بلکہ بھگت رہا ہے۔ ن لیگ کو ہماری ہائے لے بیٹھے گی۔ پنجاب میں ایسا ہی چنتخب سہلیوں کا ٹولا بیوروکریسی کا غلام بن کر ہر وہ کام کر رہا جس سے بیوروکریس�� کی جیب بھرے۔ لیگل اور اللیگل سار پیسہ انکا
@capricorn_lhr یہ ہوتا تھا پہلے اب بھی شاید کچھ فیصد ہو پ�� پنجاب کی حد تک یہ ہوا بھی تو نا ہونے کے برابر ہے۔ اسکی وجہ اپڈیٹڈ سسٹم ہے۔ پر پینشن آدمی پھر اسکی بیوہ پھر نابالغ بیٹی یا بیٹیاں ان سبکو قانوناًملتی ہے۔
صبح چار گھنٹے بجلی بند رہی بنا ناشتے کے کام پر چلے گئے۔ اب 7 بجے گھر آیا تو پتا چلا پانچ بجے سے بجلی پھر بند ��ور دس بج چکے ابھی تک کوئی نام و نشان نہیں۔ لغاری صاحب تواڈے سمیت سب تے لعنت جے۔
@lostguy79@CHBILALGHANI33 یہ سریا کی بات ہورہی۔ ہم ایک کالج بنا رہے آجکل سرکاری نام نہیں بتاوں گا۔ اگلے 4 ماہ میں 100 ٹن سریا چاہیے۔ باقی اندازہ لگا لیں۔
@RShahzaddk مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی آپ سب سرکاری نوکر کی 7 فیصدی تنخواہ پر بات کر رہے۔ ہم سمال انڈسٹری والے کنسٹرکشن والے کہاں جائیں سات سو ارب کا جو بجٹ کٹ لگا وہ فنڈز ہمارے پراجیکٹس کے اڑائے گئے ہیں۔ پنجاب میں چلتی سکیموں کو انفنڈڈ کردیا گیا ہے۔ کروڑوں کے بل پھنسے اور کسی کو کوئی پتا نہیں